உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نومولود بچے کو لیکر کورونا و ائرس سےجنگ میں خاتون IAS افسر ڈیوٹی پر

    اپنے نومولود کے ساتھ اپنے دفتر پہنچ کر سرینیجا نے  شہر وشاکھا پٹنم میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کو پیش آنے والی پریشانیوں کی معلومات حاصل کیں اور ایک ایک کرکے تمام مسئلوں کو حل کرنے میں مصروف ہو گئیں۔

    اپنے نومولود کے ساتھ اپنے دفتر پہنچ کر سرینیجا نے شہر وشاکھا پٹنم میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کو پیش آنے والی پریشانیوں کی معلومات حاصل کیں اور ایک ایک کرکے تمام مسئلوں کو حل کرنے میں مصروف ہو گئیں۔

    اپنے نومولود کے ساتھ اپنے دفتر پہنچ کر سرینیجا نے شہر وشاکھا پٹنم میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کو پیش آنے والی پریشانیوں کی معلومات حاصل کیں اور ایک ایک کرکے تمام مسئلوں کو حل کرنے میں مصروف ہو گئیں۔

    • Share this:
    کورونا وائرس کی وجہ سے ملک کو درپیش خطرناک صورتحال سے نمٹنے سرکاری عہدیداران دن رات محنت کر رہے ہیں  چاہے اس کے لیے انہیں کتنی ہی قربانیاں دینا نہ پڑے ۔ ایک ایسی ہی مثال ریاست آندھرا پردیش کے ضلع وشاکھا پٹنم میں بر سرکار ایک آئی اے ایس افسر سرینیجا کی ہے۔ سرینيجا گریٹر وشاکھا پٹنم میو نسل  کارپوریشن کے کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ اپنی ایڈوانس پریگننسی اور میٹرنٹی لیو کی حقدار ہونے  کے باوجود سرينیجا نے زچگی ہونے تک اپنے فرائض کو انجام دیا اور زچگی کے بائیس دنوں بعد گود میں بچہ کے ساتھ دوبارہ اپنے دفتر پہنچ کر سب کو حیران کر دیا ۔سرینجا  سال 2013 آئی اے ایس بیچ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ انہوں نے اپنے اس عمل سے کام ہی عبادت ہے والے قول کو سچ کے دکھایا ہے۔
    اپنے نومولود کے ساتھ اپنے دفتر پہنچ کر سرینیجا نے  شہر وشاکھا پٹنم میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کو پیش آنے والی پریشانیوں کی معلومات حاصل کیں اور ایک ایک کرکے تمام مسئلوں کو حل کرنے میں مصروف ہو گئیں۔  انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر سلم علاقوں اور مزدور پیشہ افراد کو پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنا ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
    سرینیجا نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کو گھر پر رکھیں گی اور ہر چار گھنٹے میں ایک بار بچہ کو دیکھنے کیلئے گھر جائینگی۔ گھر پر انکے شوہر روی تیجا اور انکی ماں بچہ کی دیکھ بھال کے لئے موجود ہیں ۔
    اعلی سرکاری عہدیدار  سرنیجا نے نہ صرف اپنے ماتحت افسران بلکہ ہمارے پورے  معاشرے کو یہ پیام دیا ہے کہ جب قوم کو تمہاری ضرورت ہو تو تمہاری شخصی ذمہ داریاں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
    Published by:sana Naeem
    First published: