ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

سوشل میڈیا کا استعمال نفرت پھیلانے اور کسی کے خلاف زہر اگلنے کیلئے نہ ہو ، کرناٹک کے ADGP بھاسکر راو کا بیان

تبلیغی جماعت کو بعض گوشوں کی جانب نشانہ بنایا جانا اور حال ہی میں ایک اہانت آمیز فیس بک پوسٹ پر بنگلورو میں ہوئے تشدد اس طرح کے معاملات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بھاسکر راو نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا کا محتاط طریقہ سے استعمال کریں ۔

  • Share this:
سوشل میڈیا کا استعمال نفرت پھیلانے اور کسی کے خلاف زہر اگلنے کیلئے نہ ہو ، کرناٹک کے ADGP بھاسکر راو کا بیان
سوشل میڈیا کا استعمال نفرت پھیلانے اور کسی کے خلاف زہر اگلنے کیلئے نہ ہو ، کرناٹک کے ADGP بھاسکر راو کا بیان

کورونا وبا کی وجہ سے زندگی کس طرح متاثر ہوئی ہے، تعلیم، تجارت، صنعت، سیاست اور دیگر شعبوں میں کیا کیا تبدیلیاں آئی ہیں، اس بیماری کے دوران سماج کا ردعمل کیسا رہا ان تمام امور پر غور و خوص کرنے کیلئے بنگلورو میں تین روزہ قومی ویبینار منعقد کیا گیا ہے ۔ شہر کے لال بہادر شاستری گورنمنٹ کالج میں آج سے شروع ہوئے اس تین روزہ ویبینار کا افتتاح ریاست کے اے ڈی جی پی بھاسکر راو نے کیا ۔ بھاسکر راو 31 جولائی 2020 تک بنگلورو کے پولیس کمشنر رہ چکے ہیں ۔ پولیس کمشنر کے عہدے سے اب اے ڈی جی پی کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں ۔ کورونا وبا کے دوران بحیثیت سٹی پولیس کمشنر ، بھاسکر راو نے اپنے تجربات بیان کئے ۔ بھاسکر راو نے کہا کہ وہ بنگلورو کے لوگوں کو سلام کرتے ہیں کہ انہوں نے کورونا کی وبا اور لاک ڈاؤن کے دوران پوری ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ بنگلورو کے لوگوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ بڑی سی بڑی مصیبت اور آفت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔


بھاسکر راو نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے دوران شہر کے عوام نے پولیس اور انتظامیہ کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس اہلکاروں نے دن اور رات محنت کی ۔ این جی اوز ، سول سوسائٹی نے لاک ڈاؤن میں پھنسے لوگوں کی ہر طرح سے مدد کی ۔مزدوروں، غریبوں، ضرورت مندوں تک کھانا، طبی مدد اور راحت پہنچانے کا کام بخوبی طور پر انجام دیا گیا ۔ بھاسکر راو نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران مائیگرنٹ مزدوروں کا مسئلہ، تبلیغی جماعت کا ایشو، بنگلورو کے پادرائن پورہ میں ہوئی توڑ پھوڑ اور چند دیگر معاملات پولیس کیلئے چیلینج بنے ہوئے تھے۔ ان مشکلات میں بنگلورو پولیس نے بخوبی طور پر اپنی ذمہ داری ادا کی ہے ۔


اس موقع پر نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے ا ے ڈی جی پی بھاسکر راو نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کی گئیں کوششیں قابل مذمت ہیں ۔ تبلیغی جماعت کو بعض گوشوں کی جانب نشانہ بنایا جانا اور حال ہی میں ایک اہانت آمیز فیس بک پوسٹ پر بنگلورو میں ہوئے تشدد اس طرح کے معاملات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بھاسکر راو نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا کا محتاط طریقہ سے استعمال کریں ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ نفرت پھیلانے ، کسی کے خلاف زہر اگلنے کی حرکتوں سے گھر میں ، محلے میں اور شہر میں آگ لگ رہی ہے ۔ چند لوگ سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہوئے سماج کو توڑنے کی کوششیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اچھے اور نیک کام کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کریں ۔ اگر کوئی شخص نفرت کی بات کررہا ہے ، اناپ شناپ لکھ رہا ہے، عوام کو چاہئے کہ وہ ان باتوں کو اہمیت نہ دیں ، نظر انداز کریں ۔انہوں نے کہا کہ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، 99 فیصد لوگ امن چاہتے ہیں صرف ایک فیصد لوگ نفرت پھیلاتے ہیں اور زہر اگلتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی جانب توجہ نہ دیں تو بہتر ہے ۔


لال بہادر شاستری گورنمنٹ کالج میں آج سے شروع ہوئے اس تین روزہ ویبینار کا افتتاح ریاست کے اے ڈی جی پی بھاسکر راو نے کیا ۔
لال بہادر شاستری گورنمنٹ کالج میں آج سے شروع ہوئے اس تین روزہ ویبینار کا افتتاح ریاست کے اے ڈی جی پی بھاسکر راو نے کیا ۔


لال بہادر شاستری کالج کی پرنسپل ڈاکٹر ونیتا نے کہا کہ اس تین روزہ ویبینار میں مختلف شعبوں کے ماہرین خطاب کریں گے۔  کورونا وبا کی وجہ طرز تعلیم میں آئی تبدیلیاں، آن لائن ایجوکیشن کا فروغ ، تجارت ، صنعت اور پوری معیشت پر کووڈ 19 کے اثرات، زبان و ادب، ثقافت اور دیگر شعبوں میں ہوئی تبدیلیوں کا اس تین روزہ ویبینار میں جائزہ لیا جائے گا ۔ کالج کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر محمد منظور نعمان نے موجودہ حالات کی عکاسی اس شعر کے ذریعہ کی کہ "چلتے ہی رہو چلنا انساں کا مقدر ہے ۔ ٹہرو گے تو پاؤں میں زنجیر جنم لے گی"۔

پروفیسر نعمان نے کہا کہ کووڈ 19 اس صدی کی سب سے بڑی آفت ہے ۔ اس وبا سے پوری دنیا ہل گئی ہے اور زندگی متاثر ہوئی ہے ۔ مصیبت کی اس گھڑی میں ایسی کئی مثالیں دیکھنے کو ملی ہیں ، جو زندگی کو حوصلہ دیتی ہیں اور  انسانیت کو مستحکم کرتی ہیں ۔ کئی مقامات میں  لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کی ہے ۔ راشن، کھانا ، طبی مدد کی فراہمی ، کورونا مریضوں کی مدد ، لاشوں کی تدفین ، خدمت خلق کے کئی کام کورونا کی وبا کے دوران دیکھنے کو ملے ہیں ۔ پروفیسر منظور نعمان نے کہا کہ  ایک دوسرے کا ساتھ دینا ، ایک دوسرے کے کام آنا ، امن و امان کے ساتھ مل جل کر رہنا وقت کا تقاضہ ہے ۔ کورونا کی وبا سے ہم سب کو یہی سبق حاصل کرنا چاہئے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 03, 2020 11:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading