ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک کے وزیر اعلی یدی یورپا کیلئے درد سر بنے عالم پاشاہ

کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا اور وزیر کان کنی مرگیش نیرانی کیلئے بنگلورو کے صنعتکار، سوشل ایکٹویسٹ عالم پاشاہ درد سر بنے ہوئے ہیں۔ کل بروز بدھ 27 جنوری سپریم کورٹ نے وزیر اعلی یدی یورپا اور کابینہ وزیر مرگیش نیرانی کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے انکی گرفتاری کے معاملے پر روک لگائی ہے۔

  • Share this:
کرناٹک کے وزیر اعلی یدی یورپا کیلئے درد سر بنے عالم پاشاہ
کرناٹک کے وزیر اعلی یدی یورپا کیلئے درد سر بنے عالم پاشاہ

بنگلورو۔ کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا اور وزیر کان کنی مرگیش نیرانی کیلئے بنگلورو کے صنعتکار، سوشل ایکٹویسٹ عالم پاشاہ درد سر بنے ہوئے ہیں۔ کل بروز بدھ 27 جنوری سپریم کورٹ نے وزیر اعلی یدی یورپا اور کابینہ وزیر مرگیش نیرانی کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے انکی گرفتاری کے معاملے پر روک لگائی ہے۔ تاہم عدالت عظمی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم نامے کو کالعدم قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس ماہ کے آغاز میں سال 2011 کے مقدمے کو جاری رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں یدی یورپا اور مرگیش نیرانی پر 26 ایکڑ اراضی  صنعتکار عالم پاشاہ کو گرانٹ کرنے کے وعدے پر قائم نہ رہنے کا الزام ہے۔


وزیر اعلی یدی یورپا کی عرضداشت پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ  وزیر اعلی کے عہدے پر فائز ہیں، آپ کے خلاف کون گرفتاری کا فرمان جاری کرسکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ آپ کیلئے  درخواست جاری کرسکتے ہیں۔ سال 2010 میں صنعتکار عالم پاشاہ کو رہائشی پروجیکٹ کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے بنگلورو کے مضافات میں 26 ایکڑ اراضی منظور کی گئی تھی۔ لیکن منظور شدہ زمین کو فرضی دستخط کے ذریعہ واپس لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے عالم پاشاہ سال 2011 میں عدالت سے رجوع ہوئے تھے۔ اس وقت کی بی جے پی حکومت کے وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا اور وزیر صنعت مرگیش نیرانی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ لینڈ ڈنوٹفیکشن کے ایک اور کیس میں عالم پاشاہ یدی یورپا اور مرگیش نیرانی کے خلاف عدالت سے رجوع ہوئے تھے۔  اب ان دنوں مقدموں کو کرناٹک ہائی کورٹ نے دوبارہ آگے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف یدی یورپا اور مرگیش نیرانی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں کل ہوئی شنوائی کے بعد عدالت نے معاملہ کی اگلی سماعت 15 مارچ 2021 تک کیلئے ملتوی کردی ہے۔


دو دن قبل 25 جنوری 2021 کو بنگلورو میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے عالم پاشاہ نے کہا کہ ان مقدمات کی وجہ سے انہیں مسلسل ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ میں معاملہ کی دوبارہ سماعت سے قبل پولیس نے انکے گھر اور دفتر پر چھاپہ مارا تھا، انکے موبائل فون کو ضبط کیا گیا تھا۔ عالم پاشاہ نے کہا کہ انہیں  ڈر ہے کہ پولیس کسی مقدمے میں انہیں ٹھونسنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ عالم پاشاہ نے کہا کہ حال ہی میں یدی یورپا کی کابینہ میں دوبارہ وزیر بننے والے مرگیش نیرانی سماج مخالف عناصر کے ذریعہ پولیس اسٹیشن میں شکایتیں درج کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پریشانی اور ہراسانی ریاست میں کسی بھی صنعتکار کے ساتھ پیش نہ آئے، اس کیلئے وہ فکر مند ہیں اور انصاف کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں۔


عالم پاشاہ نے کہا کہ سال 2011 کے بعد اب 2021 میں یدی یورپا اور مرگیش نیرانی دونوں مل کر مزید انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انکی کمپنی کے پروجیکٹوں کیلئے رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ عالم پاشاہ نے کہا کہ یدی یورپا اور نیرانی دونوں اپنے اقتدار، اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے جیل بھی بھیج سکتے ہیں۔ صنعتکار عالم پاشاہ نے اپنی تکالیف اور خدشات کو بیان کرتے ہوئے 23 جنوری 2021 کو وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کیا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 28, 2021 08:45 AM IST