உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka: کرناٹک میں  حجاب، حلال، اذان کے بعد کیب ڈرائیور کو لیکر ہنگامہ، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    ، بھارت رکھشنا ویدیکے گروپ کے اراکین نے بنگلورو سمیت کرناٹک کے کئی حصوں میں گھروں کا دورہ کیا، لوگوں سے کہا کہ وہ مسلم ٹیکسی ڈرائیوروں کی خدمات کو استعمال نہ کریں، خاص طور پر ہندو مندروں یا یاترا کے لیے۔

    ، بھارت رکھشنا ویدیکے گروپ کے اراکین نے بنگلورو سمیت کرناٹک کے کئی حصوں میں گھروں کا دورہ کیا، لوگوں سے کہا کہ وہ مسلم ٹیکسی ڈرائیوروں کی خدمات کو استعمال نہ کریں، خاص طور پر ہندو مندروں یا یاترا کے لیے۔

    ، بھارت رکھشنا ویدیکے گروپ کے اراکین نے بنگلورو سمیت کرناٹک کے کئی حصوں میں گھروں کا دورہ کیا، لوگوں سے کہا کہ وہ مسلم ٹیکسی ڈرائیوروں کی خدمات کو استعمال نہ کریں، خاص طور پر ہندو مندروں یا یاترا کے لیے۔

    • Share this:
      بنگلورو: کرناٹک میں دائیں بازو کے گروپ بھارت رکھشنا ویدیکے نے جمعہ کو ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ مسلم ٹیکسیوں، ٹور اور ٹریول آپریٹرز کی خدمات نہ لیں۔ حجاب تنازعہ کے بعد کرناٹک میں اس طرح کی خبریں عام ہو گئی ہیں۔ کبھی 'حلال گوشت' کو لے کر جھگڑا ہوتا ہے، اور کبھی مندر کے احاطے میں مسلمانوں کے کاروبار پر پابندی لگانے کو لے کر۔ تازہ ترین واقعے میں، بھارت رکھشنا ویدیکے گروپ کے اراکین نے بنگلورو سمیت کرناٹک کے کئی حصوں میں گھروں کا دورہ کیا، لوگوں سے کہا کہ وہ مسلم ٹیکسی ڈرائیوروں کی خدمات کو استعمال نہ کریں، خاص طور پر ہندو مندروں یا یاترا کے لیے۔

      اس حوالے سے پوچھے جانے پر بھارت رکھشنا ویدیکے کے سربراہ بھرت شیٹی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’جب ہم مندروں یا مذہبی مقامات پر جاتے ہیں تو ہم نان ویجیٹیرین کھانا نہیں کھاتے ہیں۔ کسی ایسے شخص کو وہاں لے جانا جو ہمارے دیوتاؤں پر یقین نہیں رکھتا یا اپنے کھانے کے انتخاب سے ہمیں ناپاک کرتا ہے یہ ہماری ثقافت اور مذہب کی توہین ہوگی۔ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں اور جس طرح ان کے لیے ان کا مذہب اہم ہے اسی طرح ہمارا بھی ہے۔

      وزیر کے ایس ایشورپا نے کانگریس پر الزام لگایا
      بھرت شیٹی نے کہا کہ بہت سے ہندو ایسے تھے جنہیں کووڈ-19 کی وبا کے دوران لاک ڈاؤن کے دوران مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی وجہ سے وہ اپنی ٹیکسیاں بیچنے پر مجبور ہوئے۔ اکثریتی برادری کا فرض تھا کہ وہ پہلے اپنے لوگوں کا خیال رکھیں۔ کرناٹک کی 7 کروڑ کی آبادی میں سے تقریباً 13 فیصد مسلمان ہیں۔ کرناٹک کے دیہی ترقی اور پنچایت راج کے وزیر (RDPR) کے ایس ایشورپا نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا، 'مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے (ہندو حمایتی گروپوں) نے کون سی نئی مہم شروع کی ہے یا چھوڑ دی ہے۔ لیکن خاص طور پر کانگریس کی بے وقوفی یہ ہے جب حجاب کا تنازع شروع ہوا تو ایک اسکول میں 96 مسلمان طالب علم تھے جو دہائیوں سے ڈریس  پہنتے ہوئے آ رہے تھے۔ ان میں سے صرف 6 باہر آئے اور ڈریس کے بجائے حجاب پہننے پر اصرار کیا۔ یہ کہہ کر کہ وہ تعلیم تو چھوڑ دیں گے لیکن اپنا ایمان نہیں۔ اگر کانگریس اسی دن انہیں راضی کر لیتی تو ان میں سے کوئی بھی مسئلہ سامنے نہ آتا۔

      یہ بھی پڑھیں: وادی میں کچھ عناصر اب بھی موجود، جو نہیں چاہتے کشمیری پنڈتوں کی واپسی، Kashmiri Migrants ایسے حملوں نہیں ڈرنے والے

      بتادیں کہ کرناٹک میں مسلمانوں کے خلاف ہندو شدت پسند تنظیموں کی منافرت اور اشتعال انگیزی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب شدت پسند ہندو تنظیموں نے مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔حکومت نے اس اپیل سے خود کو الگ کرلیا ہے لیکن ایم آئی ایم اورجے ڈی ایس نے بومئی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

      کرناٹک میں حجاب ،حلال کٹ ،لاؤڈاسپیکر سے اذان کے بعد مسلمانوں کے خلاف ہندو شدت پسند تنظیموں کی بڑھتی ہوئی منافرت اور اشتعال انگیزی کی تازہ ترین کڑی کے تحت ہندو شدت پسند تنظیموں نے ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلمان پھل فروشوں سے خریداری نہ کریں تاکہ پھلوں کے کاروبار پر مسلمانوں کی مبینہ اجارہ داری ختم ہوسکے۔ ہندو جاگرتی سمیتی کے کوارڈینیٹر چندرو موگر نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ صرف ہندو دکانداروں سے ہی پھل خریدیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: