ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

صومالی طالب علم سے شادی کے بعد دھوکہ دہی کا ایک اور واقعہ، انصاف دلوانے وزارت خارجہ سے کی اپیل

صومالیہ کے طالب علموں کی دھوکہ دہی کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ صومالیہ کے شہری عبدی ولی احمد نے حیدرآبادی لڑکی ثناء فاطمہ سے سال 2015 میں شادی کی۔ عبدی گزشتہ سال امریکہ چلا گیا اور پھر دو ماہ پہلے اپنی بیوی ثناء کے والد کو فون کرکے یہ کہا کہ وہ اسے طلاق دے رہا ہے۔

  • Share this:
صومالی طالب علم سے شادی کے بعد دھوکہ دہی کا ایک اور واقعہ، انصاف دلوانے وزارت خارجہ سے کی اپیل
۔ صومالیہ کے شہری عبدی ولی احمد نے حیدرآبادی لڑکی ثناء فاطمہ سے سال 2015 میں شادی کی تھی

صومالیہ کے طالب علموں کی دھوکہ دہی کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے ۔ صومالیہ کے شہری عبدی ولی احمد نے حیدرآبادی لڑکی ثناء فاطمہ سے سال 2015 میں شادی کی عبد گزشتہ سال امریکہ چلا گیا اور پھر دو ماہ پہلے اپنی بیوی ثناء کے والد کو فون کرکے یہ کہا کہ وہ اسے طلاق دے رہا ہے۔ حیدرآباد میں پڑھائی کے لیے آنے اور یہاں کی لڑکیوں سے شادی اور کچھ عرصہ بعد انہیں چھوڑ دینے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اسی طرح کے واقعات کے متاثرین میں ایک اور اضافہ پرانے شہر حیدرآباد کی لڑکی ثنا فاطمہ ہے ۔ ثنا کے والدین نے اپنی لڑکی کے بہتر مستقبل کے لیے حیدرآباد میں زیرِ تعلیم صومالی شہری عبدی ولی احمد سے کیا ۔ جنوری 2015 میں دونوں کی شادی ہوئی ۔ عبدی کے والدین دوبئی میں مقیم تھے اور وہ امریکہ میں رہائش کا خواہشمند تھا۔


ہندوستان میں تعلیم پوری ہونے کے بعد عبدی دبئی سے حیدرآباد آتا جاتا رہتا تھا گزشتہ سال اسے امریکہ میں رہائش کا اجازت نامہ مل گیا اور وہ امریکہ کے شہر بوسٹن میں رہنے لگا ۔ ثنا اور اسکے والدین یہ توقع کررہے تھے کہ عبدی ثناء کو ہندوستان سے امریکہ لے کر جائے گا ۔ لیکن اسکا الٹا ہوا ۔ ثنا نے کہا کہ عبدی نے ان کے والد کو فون کرکے یہ کہ دیا کہ وہ اسکی لڑکی کو طلاق دے رہا ہے ۔ثناء فاطمہ نے وزارت داخلہ کو درخواست لکھ کر ایپل کی ہے کہ وہ انہیں انصاف دلائے۔ سیاسی اور سماجی لیڈر امجد اللہ خان نے غریب لڑکیوں کی صومالیہ اور دوسرے عرب اور افریقی ممالک کے شہریوں کے ساتھ شادی اور طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا انکا مطالبہ ہے کہ ریاستی وقف بورڈ اور محکمہ داخلہ مقامی قاضیوں کو پابند کرائیں کہ وہ مقامی لڑکیوں کا غیر ملکی طلباء سے نکاح نہ پڑهوائیں۔


بار بار تنبیہ کے باوجود غریب والدین کی اپنی لڑکیوں کی غیر ممالک کے شہریوں سے شادی کی طرف رغبت کی ایک بڑی وجہ حیدرآبادی مسلم سماج میں جہیز اور لین دین کی رسم کو قرار دیا جا رہا ہے ۔ خود اپنے سماج میں شادی بیاہ کی مشکلات کی وجہ سے والدین غیر ممالک کے شہریوں سے شادی کرتے ہوئے انکی زندگیوں کو داؤ پر لگانے تیار ہیں۔

Published by: sana Naeem
First published: Dec 23, 2020 06:24 PM IST