உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم سماج بھی چاہتا ہے لو جہاد پر لگے پابندی، کیونکہ۔۔ جانئے ان مولانا نے ایسا کیوں کہا؟

    مولانا صہیب قاسمی نے کہا کہ ہر کسی کو مذہب کی حفاظت کا حق ہے۔ لو جہاد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جب مسلمان لڑکا پڑھتا ہے اور بڑے عہدے پر چلا جاتا ہے تو  وہ کسی ہندو لڑکی سے شادی کر لیتا ہے اور مسلمان لڑکی گھر میں بیٹھی رہ جاتی ہے۔

    مولانا صہیب قاسمی نے کہا کہ ہر کسی کو مذہب کی حفاظت کا حق ہے۔ لو جہاد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جب مسلمان لڑکا پڑھتا ہے اور بڑے عہدے پر چلا جاتا ہے تو وہ کسی ہندو لڑکی سے شادی کر لیتا ہے اور مسلمان لڑکی گھر میں بیٹھی رہ جاتی ہے۔

    مولانا صہیب قاسمی نے کہا کہ ہر کسی کو مذہب کی حفاظت کا حق ہے۔ لو جہاد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جب مسلمان لڑکا پڑھتا ہے اور بڑے عہدے پر چلا جاتا ہے تو وہ کسی ہندو لڑکی سے شادی کر لیتا ہے اور مسلمان لڑکی گھر میں بیٹھی رہ جاتی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka, India
    • Share this:
      کرناٹک کے ایوان بالا نے کانگریس اور ایچ ڈی کمارسوامی کی جنتا دل سیکولر کی مخالفت کے باوجود متنازعہ اینٹی کنورژن بل  منظور کر لیا ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے جمیعت علمائے ہند کے قومی صدر مولانا صہیب قاسمی نے کہا کہ ہر کسی کو مذہب کی حفاظت کا حق ہے۔ لو جہاد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جب مسلمان لڑکا پڑھتا ہے اور بڑے عہدے پر چلا جاتا ہے تو  وہ کسی ہندو لڑکی سے شادی کر لیتا ہے اور مسلمان لڑکی گھر میں بیٹھی رہ جاتی ہے۔

      ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم معاشرہ بھی یہی چاہتا ہے کہ اس طرح کے لو جہاد پر پابندی لگائی جائے۔ کیونکہ ہمارے ملک میں ایسی شادیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ والدین روتے رہ جاتے ہیں اور نالائق لوگ معاشرے سے نکل کر شادی کر لیتے ہیں۔ بعد میں انہیں بہت ذلیل ہونا پڑتا ہے۔


      بتادیں کہ مذہب کی آزادی کے حق کا تحفظ بل- 2021 جسے مذہب کی تبدیلی مخالف بل کے نام سے جانا جاتا ہے، دسمبر 2021 میں کرناٹک کی قانون ساز اسمبلی نے منظور کیا تھا لیکن اسے ایوان بالا کے سامنے نہیں لایا گیا جہاں حکمران بی جے پی کے پاس اکثریت نہیں تھی۔ اس کے بجائے حکومت نے جبری تبدیلی کو روکنے کے لیے ایک آرڈیننس پاس کیا تھا۔ ایم ایل سی انتخابات کے بعد بی جے پی کو اکثریت حاصل کرنے کے بعد ایوان بالا میں بل پیش کیا گیا تھا۔

      انوکھا تحفہ! 17 ستمبر کو پیدا ہونے والے ہر بچے کو ملے گی سونے کی انگوٹھی اور 720کلو مچھلی

      گستاخِ رسول کی ایک ہی سزا: 'سر تن سے جدا' RSS میگزین میں کام کرنے والے صحافی کو ملی دھمکی

      کرناٹک قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر بی کے ہری پرساد نے اس بل کے بارے میں کہا کہ یہ ایک غیر آئینی بل ہے اور آئین کے آرٹیکل 25، 26، 15 اور 29 کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ وہ کسی کمیونٹی کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن ٹریژری بنچ سے بولنے والے زیادہ تر ارکان اقلیتی برادری کے خلاف زہر اگل رہے تھے۔

      وہیں کرناٹک کے وزیر قانون جے سی مدھوسوامی نے کہا کہ یہ بل جبری تبدیلی سے بچنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کسی پر پابندی نہیں لگا رہے۔ لیکن اگر زبردستی تبدیلی مذہب کی گئی اور ہمیں شکایت ملی تو کارروائی کی جائے گی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: