ہوم » نیوز » وطن نامہ

مہاراشٹر: کانگریس کے سابق مسلم وزیر نے ادھو حکومت سے کیا یہ بڑا مطالبہ

عارف نسیم خان نےملک کی دیگر ریاستوں کے سربراہان سے درخواست کی ہےکہ وہ بھی اپنی ریاستوں میں اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرکےاکثریت کی بنیاد پرمرکزی بی جے پی حکومت کی جانب سے منظور کئےگئے قانون کو رد کرے۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 31, 2019 11:38 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مہاراشٹر: کانگریس کے سابق مسلم وزیر نے ادھو حکومت سے کیا یہ بڑا مطالبہ
کانگریس لیڈر عارف نسیم خان کا مہاراشٹر حکومت سے بڑا مطالبہ۔

ممبئی: مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدراورسابق کابینی وزیرمحمد عارف نسیم خان نے آج یہاں کیرلا حکومت کی طرزپراسمبلی کا اجلاس بلا کرشہری ترمیمی قانون کو رد کرنے کا مہاراشٹرحکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ اپنےایک بیان میں نسیم خان نے ملک کی دیگر ریاستوں کے سربراہان سے درخواست کی ہےکہ وہ بھی اپنی ریاستوں میں اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کر کے اکثریت کی بنیاد پرمرکزی بی جے پی حکومت کی جانب سے منظور کیئے گئے قانون کورد کرے ۔

نسیم خان نےکیرالا حکومت کےاس قدم کی ستائش کی جس کے تحت کیرالا حکومت نے اسمبلی کا اجلاس طلب کرکےاس قانون کورد کرنےکا فیصلہ لیا تھا۔ انہوں نے مہاراشٹر حکومت سےدرخواست کی کہ جس طرح سےادھوٹھاکرے حکومت نےجنوری کےپہلے ہفتے میں ایک دن کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ اسی طرزپراس قانون کورد کرنے کیلئےایک اورخصوصی اجلاس طلب کیا جائےاوراسے فوری طورپررد کیا جائے۔

عارف نسیم خان کا کہنا ہےکہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کے ذریعے بنایا گیا یہ قانون صریح طورپرملک کےآئین کے خلاف ہے۔ مذہب کی بنیاد پرشہریت دینا آئین کےمنافی ہے اوراس بات کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی حکومت نے تمام اصول وضوابط کوبالائے طاق رکھتے ہوئے محض اکثریت کی بنیاد پر اس قانون کومنظورکیا ہے۔ نسیم خان نےکہا کہ اس قانون کے خلاف پورے ملک کےلوگ سڑکوں پراترکرمخالت کر رہے ہیں، جن میں تمام مذاہب کےلوگ شامل ہیں۔

First published: Dec 31, 2019 11:38 PM IST