ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

اکبرالدین اویسی نے بتایا جان کو خطرہ- کہا قتل کے لئے حیدرآباد آئے ہیں 11 لوگ

اکبرالدین نے الزام لگایا کہ ملک کی مختلف ریاستوں سے 11 لوگ ان کے ’قتل کے لئے‘ حیدرآباد آئے ہیں

  • Share this:
اکبرالدین اویسی نے بتایا جان کو خطرہ- کہا قتل کے لئے حیدرآباد آئے ہیں 11 لوگ
اکبرالدین اویسی: فائل فوٹو

اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اکبرالدین اویسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی مختلف ریاستوں سے 11 لوگ ان کے ’قتل کے لئے‘ حیدرآباد آئے ہیں۔ اکبرالدین نے ہفتہ کے روز ایک عوامی اجلاس میں شرکت کی اور عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’دھمکی والے‘ خط ملے ہیں اور کچھ لوگوں نے انہیں فون کرکے کہا ہے کہ وہ ان کا قتل کر دیں گے۔


آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور ممبرپارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے چھوٹے بھائی اکبرالدین اویسی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں خبریں ملی ہیں کہ بنارس، الہ آباد اور کرناٹک سے 11 لوگ انہیں مارنے کی لئے شہر  حیدرآباد میں داخل ہوئے ہیں۔


سات دسمبر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں چندریانگٹا سیٹ سے انتخابات لڑ رہے اکبرالدین نے کہا، ’’ میں مرنے کے لئے تیار ہوں۔ میں اپنے سینے پر گولی کھانے کو تیار ہوں، لیکن پیٹھ پر نہیں‘‘۔ اویسی نے 30 اپریل 2011 کے اس واقعہ کو یاد کیا جب ایک گروپ نے بارکاس میں ایم آئی ایم دفتر کے پاس تیز ہتھیاروں کے ساتھ ان پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تین گولیاں لگنے پر بھی وہ زندہ بچ گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’تین گولیاں لگنے کے باوجود میں نہیں مرا۔ کیا آپ کی گولیاں مجھے مار پائیں گی؟‘‘۔


وہیں، اکبرالدین کے دعویٰ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ انہیں اس سے متعلق اب تک کوئی شکایت نہیں ملی ہے۔ افسر نے مزید کہا کہ، ’’ انتخابات لڑنے والے تمام امیدواروں کو پختہ سکیورٹی مہیا کرائی گئی ہے۔ ہم اس کام میں لگے ہوئے ہیں‘‘۔
First published: Nov 12, 2018 07:23 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading