ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

'ہمیں تو اپنوں نے لوٹا' کی تلخ حقیقت بنا بنگلورو کا آئی ایم اے گھوٹالہ، ایک سال مکمل، سرمایہ کاروں کو نہیں ملی کوئی راحت

اسمبلی کے ایوانوں، اقتدار کی گلیاروں، عدلیہ کے محرابوں میں کئی بار اس گھوٹالے کی گونج اٹھی، سال بھر یہ معاملہ میڈیا میں چھایا رہا، لیکن آج تک سرمایہ کاروں کو کسی بھی طرح کی راحت میسر نہیں ہوئی ہے۔

  • Share this:
'ہمیں تو اپنوں نے لوٹا' کی تلخ حقیقت بنا بنگلورو کا آئی ایم اے گھوٹالہ، ایک سال مکمل، سرمایہ کاروں کو نہیں ملی کوئی راحت
'ہمیں تو اپنوں نے لوٹا' کی تلخ حقیقت بنا بنگلورو کا آئی ایم اے گھوٹالہ

بنگلورو۔ حلال سرمایہ کاری کے نام پر ہزاروں خاندانوں کو دھوکہ دینے والی بنگلورو کی آئی ایم اے کمپنی "ہمیں تو اپنوں نے لوٹا" کی تلخ حقیقت بن کر رہ گئی ہے۔ ہزاروں کروڑ روپئے کے اس گھوٹالہ میں محمد منصور خان کو چھوڑ کر باقی تمام ملزمین ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ ایس آئی ٹی سے لیکر سی بی آئی تک  نے اس گھوٹالہ کی جانچ پڑتال کر ڈالی ہے۔ اسمبلی کے ایوانوں، اقتدار کی گلیاروں، عدلیہ کے محرابوں میں کئی بار اس گھوٹالے کی گونج اٹھی، سال بھر یہ معاملہ میڈیا میں چھایا رہا، لیکن آج تک سرمایہ کاروں کو کسی بھی طرح کی راحت میسر نہیں ہوئی ہے۔


آئی مانیٹری ایڈوائزری (آئی ایم اے) گھوٹالہ کے منظر عام پر آنے  کے بعد تقریبا 80 ہزار سرمایہ کار پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں۔ اپنی اصل رقم کی فکر میں کئی افراد اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، کئی خاندانوں میں دراڑیں پیدا ہوچکی ہیں، کئی شادیاں ٹوٹ چکی ہیں، کئی افراد بے روزگار، بےگھر، بے یار و مددگار ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس ملٹی کروڑ روپئے کے گھوٹالے کو  منظر عام پر آئے ایک سال مکمل ہوا ہے۔  لیکن متاثرہ خاندانوں کو امید کی کوئی کرن ابھی بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس معاملے میں سرمایہ کاروں کی شکایتوں کے ازالے کیلئے سینئر آئی اے ایس افسر ہرش گپتا کی قیادت میں حکومت نے اسپیشل کامپٹنٹ اتھارٹی تشکیل دی ہے۔


اسمبلی کے ایوانوں، اقتدار کی گلیاروں، عدلیہ کے محرابوں میں کئی بار اس گھوٹالے کی گونج اٹھی، سال بھر یہ معاملہ میڈیا میں چھایا رہا، لیکن آج تک سرمایہ کاروں کو کسی بھی طرح کی راحت میسر نہیں ہوئی ہے۔


ہرش گپتا کی فراہم کردہ جانکاری کے مطابق  سرمایہ کاروں کو 2900 کروڑ روپئے ادا کرنے ہیں۔ لیکن اب تک ضبط کئے گئے کمپنی کے اثاثہ جات کی قیمت 450 کروڑ روپئے یا اس سے کچھ زیادہ یا کم ہو سکتی ہے۔ ابھی اثاثہ جات کو آکشن کرنے کی کارروائی شروع نہیں ہوئی ہے۔ اس اتھارٹی نے سرمایہ کاروں سے کلیم فارم جمع کرنے کیلئے آن لائن پورٹل تیار کیا ہے۔ لیکن ابھی درخواستیں لینے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا ہے۔  اس معاملے کی نگرانی کرنے والے سماجی کارکن سید گلاب کہتے ہیں کہ تمام Claim فارمس کے جمع ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کی کل تعداد، بقایا جات کی مجموعی رقم ان تمام باتوں کی وضاحت ہوسکے گی۔ لیکن اس پروسیس کو مکمل ہونے میں مزید چند ماہ لگ سکتے ہیں۔

سینئر صحافی مقبول احمد سراج کہتے ہیں کہ آئی ایم اے کمپنی نے پونجی اسکیم کے ذریعہ حلال سرمایہ کاری کے نام پر منظم طریقے سے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ 2006 میں ایک وقت کے چھوٹے تاجر محمد منصور خان نے آئی ایم اے کمپنی قائم کی۔ مارکیٹ سے کہیں زیادہ منافع دینے کی لالچ بتا کر غریب اور متوسط عوام سے سرمایہ حاصل کرنا شروع کیا۔ سال 2015 تک کمپنی نے 12 ہزار سے زائد سرمایہ کاروں سے رقم حاصل کی اور ماہانہ منافع کی ادائیگی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ 2019 میں کمپنی کے بند ہونے تک 80 ہزار افراد نے یہاں اپنی محنت مزدوری کا پیسہ لگایا۔ بنگلورو میں سونے کے دو بڑے شو روم، اسپتال، اسکول، کئی میڈیکل اسٹورس، پبلیکیشن سینٹر، سپر مارکیٹ، رئیل اسٹیٹ اس طرح کئی شعبوں میں قدم رکھتے ہوئے اس کمپنی نے اپنا دائرہ کار  وسیع کیا اور عوام سے خوب سرمایہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

ہزاروں کروڑ روپئے کے اس گھوٹالہ میں محمد منصور خان کو چھوڑ کر باقی تمام ملزمین ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔


مقبول احمد سراج کہتے ہیں کہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے محمد منصور خان اور ان کی ٹیم نے ایک جانب غریب اور متوسط طبقے کو لالچ دکھائی تو دوسری طرف سیاستدانوں، سرکاری افسروں، علماء کرام، میڈیا، مذہبی اداروں کے ذریعہ اپنے حق میں فیصلے اور رائے قائم کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کمپنی نے عوام کا اعتماد حاصل کرنا شروع کیا۔ جانے انجانے میں لوگ کم وقت میں زیادہ منافع کمانے کے چکر میں اپنا پیسہ لگاتے گئے۔ جب کمپنی نے منافع دینا بند کردیا اور 9 جون 2019 کو محمد منصور خان اچانک فرار ہوا تو سرمایہ کاروں کے پیروں تلے زمین کھسک گئی اور ہر طرف کھلبلی مچنے لگی۔ نہ صرف کرناٹک بلکہ تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ، مہاراشٹر اور چند دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس کی زد میں آکر متاثر ہوئے ہیں۔ نہ صرف تجارت پیشہ لوگ، سرکاری اور نجی کمپنیوں کے ملازمین بلکہ گھریلو خواتین اور وظیفہ یاب افراد بھی اپنی محنت اور کمائی کا پیسہ گنوا چکے ہیں۔

مقبول احمد سراج کہتے ہیں کہ اس بڑے گھوٹالہ کیلئے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف قرار واقعی سزا ہونی چاہئے۔ بقول مقبول احمد سراج حلال گھوٹالہ کے افشا ہونے کی پہلی برسی ہزاروں خاندانوں کو خون کے آنسو رلا رہی ہے۔ اس زبردست گھوٹالہ میں ملوث لوگ عیش و عشرت کی زندگی گذار کر راہ فرار اختیار کرنے کی تاک میں ہیں۔
First published: Jun 24, 2020 07:50 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading