உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بنگلورو تشدد معاملہ : 8 ملزمین کو ملی ضمانت لیکن نہیں ہو پائی رہائی ، جانئے کیا ہے وجہ

    بنگلورو تشدد معاملہ : 8 ملزمین کو ملی ضمانت لیکن نہیں ہو پائی رہائی ، جانئے کیا ہے وجہ

    بنگلورو تشدد معاملہ : 8 ملزمین کو ملی ضمانت لیکن نہیں ہو پائی رہائی ، جانئے کیا ہے وجہ

    Bangalore Violence : بنگلورو میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کے بعد پیش آئے تشدد کے واقعہ میں تقریبا 430 افراد کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں ۔ ان میں 300 سے زائد نوجوانوں کے خلاف UAPA کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔

    • Share this:
    بنگلورو میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کے بعد پیش آئے تشدد کے واقعہ میں تقریبا 430 افراد کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں ۔ ان میں 300 سے زائد نوجوانوں کے خلاف UAPA کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ شہر کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی میں ہوئے تشدد کے اس واقعہ کو رونما ہوئے 2 ماہ گزر چکے ہیں ، متاثرہ خاندانوں کیلئے کہیں سے بھی کوئی راحت ملتی یوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔  پریشانی کے اس عالم میں متاثرین جیلوں میں اپنے اپنے خاندان کے اراکین کی رہائی کیلئے تگ و دو کررہے ہیں ۔ اس معاملہ میں مفت قانون چارہ جوئی کررہے سیکولر ایڈوکیٹ فرنٹ کو پہلی  کامیابی ملی ہے ۔ فرنٹ کی کوششوں سے 11 ویں ACMM عدالت نے 8 ملزمین کی ضمانت منظور کی ۔ آج بتاریخ 13 اکتوبر  کو ملزمین کی رہائی عمل میں آنے والی تھی ۔ اس کیلئے ایڈوکیٹس فرنٹ نے فی ملزم کیلئے عدالت کی جانب سے طئے کی گئی 4 ہزار روپے کی مچلکہ رقم کا بھی انتظام کیا تھا ۔ لیکن آخری مرحلہ میں رہائی نہیں ہوپائی ، کیونکہ ضمانت ملتے ہی پولیس نے دوسری ایف آئی آر میں ان ملزمین کے نام شامل کرتے ہوئے عدالت سے باڈی وارنٹ حاصل کرلیا ہے ۔

    سیکولر ایڈوکیٹس فرنٹ کے نائب چئیرمین سید عشرت اللہ نے کہا کہ ضمانت ملنے کے باوجود رہائی نہ ہونے سے افسوس ضرور ہوا ہے ، لیکن فرنٹ کی جانب سے باڈی وارنٹ کو خارج کرنے کیلئے متعلقہ عدالت میں جلد ہی درخواست دائر کی جائے گی ۔ اس کے بعد بھی اگر رہائی نہیں ہوئی تو دوبارہ ضمانت کیلئے عدالت میں عرضداشت پیش کی جائے گی ۔ تشدد کے واقعہ کے بعد  بڑے پیمانے پر ہوئی گرفتاریوں پر کئی ملی اور سماجی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ وہیں دوسری جانب تشدد سے متاثرہ علاقے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی میں آج بھی لوگ خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں ۔ پولیس کب آئے گی، کسے اٹھالے جائے گی اس بات کو لیکر علاقے کے لوگ پریشان ہیں ۔ متاثرہ خاندانوں کی ہمت باندھنے، انہیں قانونی جانکاری فراہم کرتے ہوئے تشویش اور خدشات کو دور کرنے کیلئے سیکولر ایڈوکیٹس فرنٹ کے تحت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ۔

    حضرت حمید شاہ کمپلیکس کے اردو ہال میں ہوئے اس اجلاس میں 200 سے زائد متاثرہ خاندانوں کے افراد نے شرکت کی۔سیکولر ایڈوکیٹس فرنٹ کے ارکان کے ساتھ معاملہ کی پیروی کررہے ریاست کے مشہور وکلا ایڈوکیٹ پونن نا،  ایڈوکیٹ پرمود چندرا نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ مسلم سیاسی نمائندے سلیم احمد، نصیر احمد، رضوان ارشد نے اجلاس سے خطاب کیا۔ معروف عالم دین مولانا مزمل احمد والا جاہی نے صبر کرنے اور باہمت رہنے کی متاثرہ خاندانوں سے اپیل کی ۔ اس موقع پر متاثرین نے گرفتار کئے گئے اپنے اپنے ارکان خاندان کو بے قصور بتاتے ہوئے اشک بار آنکھوں سے اپنی تکالیف، دکھ اور درد کا اظہار کیا ۔ ایک متاثرہ خاتون نے کہا کہ اس کا شوہر اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ دوا لانے کیلئے باہر گیا ہوا تھا۔ احتجاج اور تشدد بھڑک اٹھنے کے بعد گھر کے باہر ہی پھنس گیا۔ اس نے ایک زخمی پولیس اہلکار کی مدد کی، اسے پانی دیا اسکی خیریت کی جانب توجہ دی۔ لیکن چند دنوں بعد پولیس نے اس کے شوہر کو صرف اس لئے گرفتار کیا کہ اس کی تصویر کیمرے میں دکھائی دی تھی ۔

    اسی طرح دیگر متاثرہ خاندانوں نے بھی اپنی دکھ بھری باتیں وکلاء اور مسلم لیڈروں کے سامنے رکھیں ۔ ایم ایل سی نصیر احمد نے کہا کہ جس کسی نے بھی تشدد میں حصہ لیا ، اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے ، لیکن جو لوگ 11 اگست کی رات تشدد سے قبل وہاں سے گزر رہے تھے ۔ یا کچھ دیر وہاں ٹھہرے ہوئے تھے، اپنے روزانہ کے کام کاج سے لوٹ رہے تھے ، ایسے افراد کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے ۔ سابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پونن نا نے کہا کہ اس کیس میں  UAPA کا استعمال اور این آئی اے کی جانچ کی وجہ سے یہ پورا معاملہ سنگین بن چکا ہے ۔ ایڈوکیٹ پونن نا نے کہا کہ جو نوجوان بے قصور انہیں اور ان کے خاندان والوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ، بس وہ صبر کریں اور ہمت سے رہیں۔ ضمانت کیلئے ایک کے بعد ایک درخواستیں داخل کی جارہی ہیں ۔ اس معاملے میں UAPA نافذ کئے کرنے کو کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ بھی زیر سماعت ہے۔ تمام متاثرین قانون اور عدالت پر بھروسہ رکھیں۔

    سابق اسپیشل پبلک پراسکیوٹر پرمود چندرا نے کہا کہ دو معاملات میں UAPA نافذ کیا گیا ہے ۔ ان دونوں معاملوں کی این آئی اے کے ذریعہ جانچ  ہو رہی ہے ۔  پرمود چندرا نے کہا کہ وہ صرف بے قصور نوجوانوں کی رہائی کیلئے پیروی کررہے ہیں ۔ ایسے خاندانوں کی مدد کررہے ہیں ، جو معاشی طور پر کمزور ہیں اور وکیلوں کی خدمات حاصل نہیں کرسکتے ۔ اجلاس میں موجود مسلم لیڈروں نے بھروسہ دیا کہ وہ قانون مطابق بے قصور نوجوانوں کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا سیکولر ایڈوکیٹس فورم کے تحت جاری قانون چارہ جوئی پر بھروسہ کریں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: