ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو تشدد : ضمیر احمد خان نے 4 متاثرہ خاندانوں میں 20 لاکھ روپے کی مالی مدد تقسیم کی

ضمیر احمد خان نے کہا کہ ان کے اس قدم پر بی جے پی یا کوئی اور پارٹی ان کی مخالفت کرتی ہے ، تو کرے ، وہ ایک مجبور خاندان کی مدد کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس طرح کی مدد کرنا غلط ہے تو وہ اس غلطی کو بار بار دہراتے رہیں گے ۔

  • Share this:
بنگلورو تشدد : ضمیر احمد خان نے 4 متاثرہ خاندانوں میں 20 لاکھ روپے کی مالی مدد تقسیم کی
ضمیر احمد خان نے کہا کہ ان کے اس قدم پر بی جے پی یا کوئی اور پارٹی ان کی مخالفت کرتی ہے ، تو کرے ، وہ ایک مجبور خاندان کی مدد کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس طرح کی مدد کرنا غلط ہے تو وہ اس غلطی کو بار بار دہراتے رہیں گے ۔

بنگلورو کے ایم ایل اے اور سابق ریاستی وزیر ضمیر احمد خان نے پولیس فائرنگ میں ہلاک 4 نوجوانوں کے اہل خانہ میں 20 لاکھ روپے کی مالی امداد آج تقسیم کی ۔ مصیبت زدہ فی خاندان کو پانچ لاکھ روپے کی نقد رقم فراہم کرتے ہوئے اپنی ہمدردی ، اور غمگساری کا اظہار کیا۔ دارالعلوم سبیل الرشاد میں کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی کے ہاتھوں مالی مدد کی رقم متاثرہ خاندانوں کو دی گئی ۔ امیر شریعت نے ضمیر احمد خان کی اس خدمت پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فساد میں شہید نوجوانوں کیلئے وہ دعا گو ہیں اور اس طرح کے فسادات ، اختلافات سے ملک اور ملت کی حفاظت کیلئے اللہ رب العزت سے دعا مانگتے ہیں ۔


واضح رہے کہ بنگلورو میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کے واقعہ کے بعد 11 اگست 2020 کو شہر کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی علاقوں میں تشدد اور آتشزدگی کے بھیانک واقعات پیش آئے تھے ۔ شر پسندوں نے ڈی جے ہلی پولیس اسٹیشن اور مقامی ایم ایل اے کے گھر کو آگ لگائی تھی ۔ زبردست توڑ پھوڑ مچاتے ہوئے پولیس اور عام لوگوں کی کئی گاڑیوں کو نظر آتش کیا تھا۔ اس تشدد پر قابو پانے کیلئے کی گئی پولیس فائرنگ میں 4 نوجوانوں کی موت واقع ہوئی تھی ۔


متاثرہ خاندانوں میں مالی مدد تقسیم کرنے کے بعد رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے کہا کہ گولی باری میں جاں بحق نوجوانوں کی تدفین کے وقت وہ حاضر تھے ۔ متاثرہ خاندانوں کی گڑگڑاہٹ ، آہ و بکا اور معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے طور پر مالی امدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ لہذا آج ریاست کے امیر شریعت کے ہاتھوں انہوں نے 20 لاکھ روپے کی امداد تقسیم کی ہے۔ ضمیر احمد خان نے کہا کہ پولیس فائرنگ میں ہلاک ایک نوجوان گوشت کی دکان میں کام کرتا تھا ، ایک آٹو ڈرائیور تھا ، ایک اے سی میکینک اور ایک نوجوان گیریج میں ویلڈنگ کا کام کرتا تھا۔ ان چاروں خاندانوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے اسی وقت پانچ پانچ لاکھ روپے مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا ۔


ضمیر احمد خان نے کہا کہ بی جے پی نے ان کے اس اعلان پر انہیں زبردست تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ سابق ریاستی وزیر اور کانگریس کے لیڈر ضمیر احمد خان نے کہا کہ تشدد کے وقت ہوئی پولیس فائرنگ کی تحقیقات جاری ہیں ۔ فائرنگ میں ہلاک چار نوجوان قصوروار تھے یا نہیں اس بات کی اب تک کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ لیکن فساد کو گزرے تین ماہ مکمل ہوچکے ہیں ۔ فائرنگ میں ہلاک نوجوانوں کے رشتہ داروں کی معاشی حالت انتہائی تشویشناک ہے ۔ کیونکہ جو کما کر اپنا گھر بار چلاتے تھے وہی چل بسے ہیں ۔ لہذا انسانیت اور ہمدردی کا تقاضہ ہے کہ ان خاندانوں کی  مدد کی جائے ۔

 متاثرہ خاندانوں میں مالی مدد تقسیم کرنے کے بعد رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے کہا کہ گولی باری میں جاں بحق نوجوانوں کی تدفین کے وقت وہ حاضر تھے ۔
متاثرہ خاندانوں میں مالی مدد تقسیم کرنے کے بعد رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے کہا کہ گولی باری میں جاں بحق نوجوانوں کی تدفین کے وقت وہ حاضر تھے ۔


ضمیر احمد خان نے کہا کہ ان کے اس قدم پر بی جے پی یا کوئی اور پارٹی ان کی مخالفت کرتی ہے ، تو کرے ، وہ ایک مجبور خاندان کی مدد کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس طرح کی مدد کرنا غلط ہے تو وہ اس غلطی کو بار بار دہراتے رہیں گے ۔ ضمیر احمد خان نے کہا کہ کسی مجبور کی مدد کرنے پر اگر انہیں سزا بھی ہوتی ہے ، تو وہ اس کی پروا نہیں کریں گے۔

ضمیر احمد خان نے کہا کہ پولیس فائرنگ کی جانچ رپورٹ میں اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے والے نوجوان بے قصور تھے ، تو ان کے لئے حکومت سے معاوضہ حاصل کرنے کیلئے وہ جد و جہد کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ کی تحقیقات جاری اس مرحلے میں حکومت کوئی معاوضہ نہیں دے سکتی ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جمعیت علماء ہند، کرناٹک مسلم متحدہ محاذ ، جماعت اہل سنت کرناٹک نے بھی پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے چار نوجوانوں کے گھروں کو پہنچ کر ملی امداد دی ہے۔

رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے تشدد کے بعد بڑے پیمانے پر ہوئی گرفتاریوں پر سوالات اٹھائے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جس دن تشدد پیش آیا وہ اور شیواجی نگر کے ایم ایل اے رضوان ارشد ڈی جے ہلی پولیس اسٹیشن میں موجود تھے ۔ رات 9:30 بجے سے ڈیڑھ بجے تک وہاں حاضر تھے ۔ اس وقت بجلی چلی گئی تھی ۔ پورا اندھیرا تھا ۔ ضمیر احمد خان نے کہا کہ ان حالات میں پولیس نے کیسے ملزمین کی شناخت کی؟،  400 سے زائد نوجوانوں کو کیسے گرفتار کیا گیا؟ ضمیر احمد خان نے کہا کہ تشدد برپا کرنے والوں کو پھانسی کی سزا دی جائے ، لیکن بے قصوروں کو ہر گز ہراساں نہ کیا جائے۔

اس معاملے میں بنگلورو کے سابق میئر اور کانگریس لیڈر سنپت راج کی گرفتاری پر ضمیر احمد خان نے کہا کہ انہیں فوری طور پر پارٹی سے معطل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار اور اپوزیشن لیڈر سدارمیا سے درخواست کی کہ ملزم سنپت راج کو پارٹی سے فوری طور پر معطل کیا جائے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 21, 2020 11:48 PM IST