ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تلنگانہ میں مسلمانوں کیلئے ریزرویشن کی حد 4 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کا مطالبہ ، بی سی کمیشن کی سماعت جاری

تلنگانہ اسٹیٹ کمیشن برائے پسماندہ طبقات کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں پسماندہ مسلم طبقات کے ریزرویشن کو4 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کے تعلق سے عوامی سماعت کے تیسرے دن غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا

  • UNI
  • Last Updated: Dec 16, 2016 08:56 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
تلنگانہ میں مسلمانوں کیلئے ریزرویشن کی حد 4 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کا مطالبہ ، بی سی کمیشن کی سماعت جاری
فائل تصویر

حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ کمیشن برائے پسماندہ طبقات کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں پسماندہ مسلم طبقات کے ریزرویشن کو4 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کے تعلق سے عوامی سماعت کے تیسرے دن غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ۔ ریاست کے 31اضلاع سے آج کوئی 98افراد اور اداروں کی جانب سے نمائندگیاں داخل کی گئیں جن میں اکثریت نے ریزرویشن کو بڑھا کر 12فیصد کرنے کی بھر پور حمایت کی۔ سماعت کا سلسلہ شام پانچ بجے تک جاری رہا۔

کمیشن کے صدر نشین بی ایس راملو اور ارکان ڈاکٹر وی کرشنا موہن راؤ‘ ڈاکٹر انجنیا گوڑ‘مسٹر جلورو گوری شنکر اور ممبرسکریٹری جی ڈی ارونا آئی اے ایس اس سماعت کے موقعہ پر موجود تھے۔ کمیشن کے صدر نشین بی ایس راملو نے کہا کہ عوامی نمائندگیوں کی سماعت کا کل ہفتہ 17 دسمبر کو آخری دن ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کہا کہ مسلمانوں کے ریزرویشن میں اضافہ کے لئے پسماندہ طبقات کو جو تحفظات دےئے جارہے ہیں ان کو متاثر نہیں کیا جائے گا اور کسی طبقہ کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔

آج نمائندگیاں کرنے والی شخصیات میں مسٹر محمد شفیق الزماں خان آئی اے ایس‘ میجر ایس جی ایم قادری‘ جناب خالد رسول خان‘ مسلم جرنلسٹس فورم کے رہنماوں مسٹر فیض محمد اصغر‘ مسٹر ایم اے ماجد ‘ مسٹر طاہر رومانی‘ ڈاکٹر فاضل حسین پرویز‘ مسٹر شیخ احمد علی‘ مسٹر ریاض احمد‘ نور باشاہ دودے کلا سنگم کے نمائندے مسٹر اس کے سلیم‘ آل انڈیا اسمال اسکیل انڈسٹریز مائینارٹیز کمیٹی کے صدر مسٹر ایس زیڈ سعید‘ ٹی آر ایس لیڈرمسٹر سید منیر الدین مسٹر خواجہ عارف الدین‘ مسلم انٹلیکچول فورم کے صدر نشین پروفیسر سیرت النبی اکیڈیمی کے صدر مولانا سید علی قادری‘ محمد فیصل ایڈوکیٹ ( مسلم گروپ آف ایڈوکیٹس) انور خان ( انوارالعلوم کالج)‘ فقیر ویلفیر اسوسی ایشن کے محمد حسین کے علاوہ اضلاع سے آئے ہوئے قائدین خواجہ معین الدین ( میدک ) ‘ عید گاہ کمیٹی کپرال کے صدر محمد اسد اور محمد حکیم ( مسلم حقولا پوراٹا سمیتی کھمم) محمد اکرام علی (سنگا ریڈی )‘ محمد اشفاق حسین ( سداسیو پیٹ ) شامل ہیں۔

مسٹرشفیق الزماں خان نے کہا کہ ریزرویشن آبادی کے تناسب سے 15 فیصد ہونا چاہئے اور موجودہ حالات کو پسماندگی کی بنیاد بنانا چاہئے اور پسماندگی کا تعین مختلف شعبوں میں اقتدار میں حصہ داری کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں اقتدار میں حصہ داری کی بنیاد پر بھی پسماندگی کا تعین ہونا چاہئے۔

مسلم رہنماوں اور نمائندوں نے مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کو بڑھا کر 12 فیصد کردینے کے تعلق سے سدھیر کمیٹی کی سفارشات پر اظہار مسرت کیا اور کمیشن کے صدر نشین بی ایس راملو اور کمیشن کے اراکین ڈاکٹر وی کرشنا موہن راؤ‘ ڈاکٹر انجنیا گوڑ‘ جلورو گوری شنکر اور ممبرسکریٹری جی ڈی ارونا آئی اے ایس سے ان سفارشات کو کامیابی کیساتھ روبہ عمل لانے کے لئے سفارش کرنے کی اپیل کی اور توقع ظاہر کی کہ بی سی کمیشن اس معاملہ میں عاجلانہ اور ضروری کارروائی کرے گا۔

ان رہنماوں کی اکثریت نے مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کے ریزرویشن میں اضافہ کرنے کے لئے جو اعلانات کئے ہیں اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں اور ان کی جس قدر ستائش کی جائے کم ہے۔ پسماندہ طبقات کی بعض تنظیموں نے مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دئے جاسکتے ہیں ‘ لیکن بی سی کلاسس کے تحفظات میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہئے۔
بی سی ویرا سنگم کے شری کلو بابو راؤ ’ تلنگانہ بی سی سمکھیا آر آر ڈسٹرکٹ کے لیڈر‘ ویراکلا سنگم کے لیڈرشری بنگارو لکشمن‘ تلنگانہ اسٹیٹ بی سی ویلفیر اسوسی ایشن کے لیڈرجاجولا سرینواس گوڑ‘ گجو کرشنا ‘ بگوا کلا سنگم جے لیڈرشری ایم ویریا ‘ وشوا برہمن سنگم کے لیڈرشری گنیش چاری‘ نرسمہا ساگر سدھاکر کے علاوہ نگویندرا حیدرآباد‘ بی پون کمار سداسیو پیٹ نے مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کے لئے ریزرویشن میں اضافہ کی تائید کی۔
تاہم ڈاکٹر ٹی ہنومان چودھری نے مسلمانوں کو ریزرویشن دےئے جانے کی بھر پور مخالفت کی اور کہا کہ مسلمان پسماندہ نہیں ہیں بلکہ وہ یہاں حکمرانی کرچکے ہیں اور ان کے لئے پسماندہ طبقات کیوں قربانی دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان پسماندہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ ہیں اور انہوں نے یہاں حکمرانی کی ہے۔ ریاست میں77 ہزار ایکڑ وقف اراضیات کو کیوں مسلمانو ں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا۔
ریاست کے مختلف علاقوں سے مسلم اقلیت اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے نمائندوں اور افراد کی کثیر تعداد نے اپنی نمائندگیاں‘ تجاویزوغیرہ کمیشن کو پیش کیں۔
First published: Dec 16, 2016 08:56 PM IST