உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Belagavi Border: مہاراشٹر اور کنڑ تنظیموں کے درمیان شدید تنازعہ! آخر کیا ہے بیلگاوی سرحدی  مسئلہ

    تازہ ترین پیش رفت ایک ہفتہ قبل شروع ہوئی، جب ایک کنڑ حامی تنظیم نے مہاراشٹرا کی تنظیم مہاراشٹرا ایککرن سمیتی (MES) کے رہنما کا منہ کالا کر دیا۔ ایم ای ایس نے بیلگام کو مہاراشٹر میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔

    تازہ ترین پیش رفت ایک ہفتہ قبل شروع ہوئی، جب ایک کنڑ حامی تنظیم نے مہاراشٹرا کی تنظیم مہاراشٹرا ایککرن سمیتی (MES) کے رہنما کا منہ کالا کر دیا۔ ایم ای ایس نے بیلگام کو مہاراشٹر میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔

    تازہ ترین پیش رفت ایک ہفتہ قبل شروع ہوئی، جب ایک کنڑ حامی تنظیم نے مہاراشٹرا کی تنظیم مہاراشٹرا ایککرن سمیتی (MES) کے رہنما کا منہ کالا کر دیا۔ ایم ای ایس نے بیلگام کو مہاراشٹر میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔

    • Share this:
      سرحدی شہر بیلگاوی یا بیلگام تقریباً ایک ہفتے سے کشیدہ ہے۔ کرناٹک-مہاراشٹرا سرحد پر واقع خوشحال تجارتی اور چھاؤنی شہر بیلگاوی سنہ 1956 میں ان کی تنظیم نو کے بعد سے دونوں ریاستوں کے درمیان تنازعہ کی وجہ بنا ہوا ہے۔ دونوں ریاستوں نے اس شہر کو لے کر بہت سی لڑائیاں لڑی ہیں اور یہ معاملہ اب سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ اگرچہ جسٹس ایم سی مہاجن کمیشن نے 50 سال پہلے فیصلہ کیا تھا کہ بیلگام کرناٹک کا اٹوٹ حصہ ہے، جب کہ مہاراشٹرا اب بھی اس کا مقابلہ کر رہا ہے۔

      تازہ ترین پیش رفت ایک ہفتہ قبل شروع ہوئی، جب ایک کنڑ حامی تنظیم نے مہاراشٹرا کی تنظیم مہاراشٹرا ایککرن سمیتی (MES) کے رہنما کا منہ کالا کر دیا۔ ایم ای ایس نے بیلگام کو مہاراشٹر میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔

      پولیس نے فوری طور پر دو درجن سے زیادہ کنڑ نواز کارکنوں کو ’’قتل کی کوشش‘‘ کے الزام میں گرفتار کیا اور انہیں جیل بھیج دیا جس کی وجہ سے کرناٹک بھر میں لوگوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔ ایک دن بعد کچھ مراٹھی تنظیموں نے پڑوسی ریاست مہاراشٹر کے کولہاپور شہر میں کنڑ کا جھنڈا جلا دیا۔ کرناٹک حکومت سمیت تمام کنڑ تنظیموں نے بھی اس کی مذمت کی۔

      ایک دن کے بعد کچھ کنڑ کارکنوں نے بنگلورو میں شیواجی کے مجسمے کو توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش کی۔ جوابی کارروائی میں ایم ای ایس نے سنگولی رائنا (Sangolli Rayanna) کے مجسمے کو توڑ دیا، جو ہندوستان میں جنگ آزادی میں شریک رہے۔ سنگولی رائنا کرناٹک کا ایک ثقافتی آئیکن ہے اور لوگ ان کی عزت کرتے ہیں۔ اس واقعہ نے کنڑ تنظیموں کو ایم ای ایس پر پابندی لگانے اور مہاراشٹر میں کنڑ پرچم کو جلانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے پر اکسایا۔

      چیف منسٹر بسواراج بومئی (Basavaraj Bommai) نے کنڑ کارکنوں کو ایم ای ایس کے خلاف جلد کارروائی کا یقین دلانے کی کوشش کی۔ لیکن کنڑ تنظیموں کو لگتا ہے کہ ان کا ردعمل درست نہیں ہے اور وہ مخلص نہیں ہیں۔ بومئی اور کرناٹک میں دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی شیواجی مجسمہ کی توڑ پھوڑ کی مذمت کرتے ہوئے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔

      مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بنگلورو میں شیواجی کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کی سخت مذمت کرتے ہوئے مرکز سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ایم ای ایس کے ذریعہ سنگولی رائنا کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کی مذمت کرنے کے لئے ٹھاکرے کی رضامندی نے کنڑ کارکنوں کو ناراض کردیا۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ٹھاکرے نے رائینا کی عزت نہ کرکے کناڈیگاوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، جسے تقریباً 200 سال قبل انگریزوں نے پھانسی دی تھی۔

      میڈیا سے بات کرتے ہوئے کرناٹک رکشنا ویدیکے (Ka Ra Ve) کے صدر ٹی اے نارائن گوڑا نے حکومت کے ہلکے ردعمل پر سخت تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایم ای ایس کے غنڈوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے، بومائی حکومت کنڑ کارکنوں کو ہراساں کر رہی ہے اور انہیں جیل بھیج رہی ہے۔ وہ سیاسی فائدے کے لیے مہاراشٹر کے حامی لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم ان کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے‘‘-
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: