ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو: ایک حاملہ خاتون کی درد بھری کہانی سے حکومت کی طبی سہولیات کی پول کھلی، عام مریضوں کو مسلسل مشکلات کا سامنا

بنگلورو کے نیلمنگلا علاقے سے تعلق رکھنے والے ویکنٹیش نائیڈو کا ایک ماہ کا بچہ علاج کے نہ ملنے کی وجہ سے فوت ہوگیا ہے۔

  • Share this:
بنگلورو: ایک حاملہ خاتون کی درد بھری کہانی سے حکومت کی طبی سہولیات کی پول کھلی، عام مریضوں کو مسلسل مشکلات کا سامنا
بنگلورو: ایک حاملہ خاتون کی درد بھری کہانی سے حکومت کی طبی سہولیات کی پول کھلی

سلیکان سٹی کے طور پر مشہور بنگلورو میں عام مریضوں، حاملہ خواتین کو مشکلات،  پریشانیوں اور کئی رکاوٹوں سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ایک جانب کورونا کا قہر تو دوسری طرف طبی سہولیات کا فقدان، مانو عام زندگی مجروح ہوئی ہے، بے یار و مددگار نظر آرہی ہے۔ آج وزیر اعلی یڈیورپا کی رہائش گاہ کے باہر ایک باپ اپنے بچے کی تصویر لئے احتجاج کرتا ہوا نظر آیا۔ بنگلورو کے نیلمنگلا علاقے سے تعلق رکھنے والے ویکنٹیش نائیڈو کا ایک ماہ کا بچہ علاج کے نہ ملنے کی وجہ سے فوت ہوگیا ہے۔ یہ افسوس ناک واقعہ 11 جولائی کو پیش آیا ہے۔ انصاف کیلئے وزیر اعلی کے گھر کے باہر تن تنہا احتجاج کرنے والے ویکنٹیش نے کہا کہ انکے ساتھ جو حادثہ پیش آیا، وہ دوسروں کے ساتھ نہ ہو، اس لئے وہ احتجاج پر بیٹھے ہیں۔


اس متاثرہ شخص کا الزام ہے کہ ایک نجی اسپتال نے بچہ کا علاج کرنے سے انکار کیا، اس لئے بچے کی موت ہوئی ہے، حکومت نجی اسپتال کے خلاف کارروائی کرے۔ وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے باہر کچھ دیر تک احتجاج کرنے والے ویکنٹیش کو پولیس نے اٹھا کر واپس بھیج دیا۔ ایک اور دلخراش واقعہ مغربی بنگال کے ایک خاندان کے ساتھ پیش آیا ہے۔ نجی ہوٹل کے ملازم شبھم بنگلورو کے آنیکل علاقے میں مقیم ہیں۔ اپنی 9 ماہ کی حاملہ بیوی کی زچگی کیلئے شبھم کو ایک ہی دن میں 2 سے 3  اسپتال کے چکر کاٹنے پڑے۔ منیشا نامی یہ حاملہ خاتون کئی گھنٹوں تک اپنی تکلیف کو برداشت کرتی ہوئی طبی سہولت کا انتظار کرتی رہی۔ پہلے اس خاتون کو آنیکل کے سرکاری اسپتال نے ایمبولینس کے ذریعہ وانی ولاس استپال بھیجا، وانی ولاس اسپتال نے بھرتی کرنے سے انکار کیا۔ وہاں اس خاتون کو جئے نگر کے سرکاری اسپتال جانے کا مشورہ دیا گیا۔ وانی ولاس اسپتال سے جئے نگر اسپتال جانے کیلئے ایمبولینس نہیں مل پائی۔ شبھم نے Ola کیب بک کیا اور اپنی حاملہ بیوی کو لیکر جئے نگر پہونچا، آخرکار جئے نگر کے سرکاری اسپتال میں اس خاتون کو ایڈمٹ کیا گیا، کل شام اس خاتون کی  زچگی عمل میں آئی۔ انتہائی پریشانی کی حالت میں منیشا نے لڑکے کو جنم دیا ہے۔


نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے  منیشا کے شوہر شبھم نے کہا کہ زچگی میں ہوئی تاخیر کے سبب نومولود بچے کو آئی سی یو میں رکھا گیا ہے۔ اس طرح بنگلورو کے ہر علاقے میں دل دہلانے والے واقعات پیش آرہے ہیں اور یہ بات کہی جارہی ہے کہ کورونا بیماری سے زیادہ لوگ بروقت طبی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ رہے ہیں۔ ریاست کے وزیر طبی تعلیم ڈاکٹر کے سدھاکر نے بنگلورو کے سرکاری کے سی جنرل اسپتال کا دورہ کیا۔ ریاستی وزیر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کئی شکایتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی جنرل اسپتال میں 100 مریضوں کیلئے صرف دو ڈاکٹر موجود ہیں، چھٹیوں پر گئے ڈاکٹروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ڈاکٹر سدھاکر نے کہا کہ حکومت دن بدن طبی سہولیات میں اضافہ کررہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ سرکاری اور نجی اسپتالوں کا دورہ کرتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہاں پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ریاست کے دارالحکومت کا ہی یہ حال ہو تو دیگر شہروں، دیہی علاقوں کا حال کیا ہوگا؟

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 18, 2020 05:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading