ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو: مسجدوں کو مرکز بنا کر شروع کی گئی ہے تعلیمی بیداری مہم

دینیات صفہ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر مزمل احمد نے کہا کہ مسجد کو مرکز بنا کر شروع کی گئی تعلیمی بیداری مہم کے بڑے اچھے نتائج ظاہر ہورہے ہیں۔ چار سال قبل ایس ایس ایل سی اور پی یو سی کے سالانہ امتحانات میں فرسٹ کلاس اور امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد صرف 300 تھی اب یہ تعداد بڑھ کر 1818 ہو گئی ہے۔

  • Share this:
بنگلورو: مسجدوں کو مرکز بنا کر شروع کی گئی ہے تعلیمی بیداری مہم
بنگلورو: مسجدوں کو مرکز بنا کر شروع کی گئی ہے تعلیمی بیداری مہم

بنگلورو۔ دینیات صفہ فاؤنڈیشن  کے تحت گزشتہ 4 سالوں سے مسجدوں کے ذریعہ تعلیمی بیداری مہم چلائی جارہی ہے۔ اس مہم کا اثر اب نمایاں طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایس ایس ایل سی اور پی یو سی دوم کے سالانہ امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے مسلم طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ دینیات صفہ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر مزمل احمد نے کہا کہ مسجد کو مرکز بنا کر شروع کی گئی تعلیمی بیداری مہم کے بڑے اچھے نتائج ظاہر ہورہے ہیں۔ چار سال قبل ایس ایس ایل سی اور پی یو سی کے سالانہ امتحانات میں فرسٹ کلاس اور امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد صرف 300 تھی اب یہ تعداد بڑھ کر 1818 ہو گئی ہے۔ ان میں 50 سے زائد بچوں نے 90 فیصد سے زائد مارکس حاصل کئے ہیں۔ڈاکٹر مزمل احمد نے کہا کہ یہ وہ طلبہ ہیں جنہیں دینیات صفہ فاؤنڈیشن نے مسجدوں میں اکٹھا کرتے ہوئے تربیت فراہم کی تھی۔


دینیات صفہ فاؤنڈیشن نے تعلیمی بیداری اور تربیتی پروگراموں کیلئے علماء کرام کی سرپرستی میں ایک مستقل ٹیم تشکیل دی ہے۔ اس ٹیم میں ماہر تعلیم، پروفیسرز،ٹیچرز، ڈاکٹرز  موجود ہیں جو رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ ٹیم مسجدوں میں پہونچ کر آیا مسجد کے اطراف موجود دسویں اور بارہ ویں جماعت کے طلبہ کو اکٹھا کرتی ہے اور ان کے لئے مفت ورک شاپ منعقد کرتی ہے۔ عام طور پر منتخب مسجدوں میں  سال میں تین سے چار ورک شاپ منعقد کئے جاتے ہیں۔ ان ورک شاپ میں تعلیم کی اہمیت، پڑھائی کرنے کے طریقے، شخصیت سازی، Memory Skills، امتحانات کی تیاری اس طرح کے عنوانات پر ماہرین بچوں سے خطاب کرتے ہیں۔ طلبہ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا کام ان ورک شاپ کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ آیا مسجد کمیٹی سے اشتراک کرتے ہوئے دینیات صفہ فاونڈیشن یہ خصوصی پروگرام منعقد کرتا ہے۔جب سالانہ امتحانات کے نتائج منظر عام پر آتے ہیں تو 60 فیصد سے زائد مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کی فہرست تیار کی جاتی ہے۔ اس کے بعد تہنیتی اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں۔


دینیات صفہ فاؤنڈیشن، مسجد کمیٹیوں، مقامی سماجی تنظیموں کے ساتھ ملکر یہ اجلاس منعقد کرتا ہے۔ ان جلسوں میں والدین، اساتذہ اور علاقے کے بڑے لوگوں کی موجودگی میں طلبہ کو انعامات اور سرٹیفکیٹ سے نوازا جاتا ہے۔ اسی کڑی کے تحت 29 نومبر 2020 کو بنگلورو کے کاڈ گاڑی عیدگاہ میں تہنیتی جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسہ میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو نقد انعام کے ساتھ سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پونے کے ماہر تعلیم سر اکیڈمی آف ایکسلنس کے ڈائریکٹر نثار احمد سید نے کہا کہ تعلیمی ترقی کیلئے اس طرح کی کوششیں وقت کی عین ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بچے  کی کامیابی کیلئے دو چیزوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک جسمانی صحت اور دوسرا ذہنی صحت۔ کھیل کود، ورزش کے ذریعہ جسمانی صحت حاصل ہوتی ہے جب کہ ذہنی صحت کیلئے خصوصی تربیت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا دینیات صفہ فاؤنڈیشن اس کام کو بخوبی طور پر انجام دے رہا ہے۔


نثار احمد سید نے کہا کہ آج کا دور competition کا دور ہے۔ امتحانات میں صرف پاس ہونا کافی نہیں ہے بلکہ امتیازی کامیابی حاصل کرنے کیلئے کوششیں، محنت و مشقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کیلئے بچوں کو ذہنی طور پر تیار کرتے ہوئے انکی رہنمائی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، یورپ جیسے ممالک میں بچوں کی ذہنی صحت کیلئے خصوصی پروگرام اور کورس چلائے جاتے ہیں۔ اس طرح کی کوششیں ہندوستان میں بھی ہونی چاہیں۔

سرکاری کووڈ کئیر سینٹر کے نوڈل افسر ڈاکٹر مطہر حفیظ نے کہا کہ سماج کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ تعلیمی طور پر پسماندہ بچوں کی مدد کیلئے آگے آئیں۔ سماجی ذمہ داری سمجھ کر سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے غریب طلبہ کی جانب توجہ دیں۔ کیریئر گائڈنس کی ماہر ایڈوکیٹ اسماء نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم سماج میں کئی طرح کے مسائل ہیں۔ بچوں کی صحیح رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور این جی اوز کے تحت اسکالرشپ کی کئی اسکیمیں موجود ہیں۔ سماجی تنظیمیں بچوں تک ان اسکیموں کو پہنچانے کا کام انجام دیں۔

دینیات صفہ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر مزمل احمد نے کہا کہ فاؤنڈیشن نے  اب تک 100 سے زائد مسجدوں میں تعلیمی بیداری اور تربیتی ورکشاپ منعقد کئے ہیں۔ مزمل احمد نے کہا کہ مسجدوں میں تمام تر سہولیات موجود رہتی ہیں۔ بچوں کے مطالعہ کیلئے مسجدوں میں خاموش اور مناسب ماحول رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر نمازوں کے بعد مسجدوں کو بند کیا جاتا ہے۔ عالیشان مسجدوں کا استعمال دن میں صرف تین سے چار گھنٹوں کیلئے ہوتا ہے۔ لیکن اگر مسجدوں میں نمازوں کے بعد علاقے کے بچوں کیلئے پڑھائی کی سہولت، وقت وقت پر تربیتی پروگرام، تعلیمی سرگرمیاں منعقد کی جائیں تو مسلم معاشرے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا مسجد کو عبادت کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 01, 2020 12:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading