ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

اسدالدین اویسی نے کی پاکستان کی حمایت میں نعرہ لگانے والی امولیا لیونا کی مذمت

اسدالدین اویسی نے اسٹیج پر پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگائے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بنگلورو کے فریڈم پارک میں ہوئی سی اے اے مخالف احتجاج میں اسدالدین اویسی کی موجودگی میں ہی امولیا نے پاکستان زندہ آباد کا نعرہ تین سے چار بار لگایا۔

  • Share this:

بنگلورو میں پاکستان کی حمایت میں نعرہ لگانے والی سماجی کارکن امولیا کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔ بنگلورو کی اپار پیٹ پولیس نے یہ کارروائی کی ہے۔ دوسری جانب ایم آئی ایم صدر اسدالدین اویسی نے اسٹیج پر پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگائے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بنگلورو کے فریڈم پارک میں ہوئی سی اے اے مخالف احتجاج میں اسدالدین اویسی کی موجودگی میں ہی امولیا نے پاکستان زندہ آباد کا نعرہ تین سے چار بار لگایا۔ اس کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا۔ خود اسدالدین اویسی کھڑے ہوئے ہوئے اور امولیا کے ہاتھ سے مائک چھیننے لگے۔ اویسی نے فوری طور پر اس حرکت کی مذمت کی اور واضح کیا کہ انکا اور انکی پارٹی کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اویسی نے اجلاس کے منتظمین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ اسطرح کے لوگوں کو اسٹیج پر کیوں بلایا گیا۔

واضح رہے کہ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (AIMIM) چیف اسدالدین اویسی کے منچ سے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے والی لڑکی کو 14 دن عدالتی حراست میں بھیج دیا گیاہے۔ امولیا لیونا نام کی لڑکی نے جمعرات کو بنگلورو میں منعقد AIMIM کی ایک ریلی میں اویسی کی موجودگی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔ لڑکی نے اس دوران شہریت ترمیمی قانون (CAA)، این آر سی (NRC) اور این پی آر (NPR)کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ پولیس نے اس کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 124 کے تحت ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ امولیا کو پرپپانا کی سینٹرل جیل میں رکھا گیا ہے۔

بتادیں کہ جب لڑکی نے اسٹیج سے پاکستان زندہ باد جیسے نعرے لگائے تھے اس وقت اسد الدین اویسی نے بھی انہیں روکنے کی کوشش کی تھی۔ اس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔



اس پورے معاملے میں امولیا لیونا کے والد نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بیٹی نے اینٹی CAA ریلی میں جو کچھ بھی کیا وہ بالکل غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی کی یہ حرکت برداشت کرنے کے لائق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا میں نے کئی مرتبہ بیٹی کو اس تحریک سے دور رہنے کی صلاح دی تھی لیکن اس نے ان کی بات نہیں مانی۔
امولیا لیونا کے والد نے کہاکہ میں دل کا مریض ہوں۔ اس نے مجھ سے کل بات کی تھی اور میری طبیعت کے بارے میں پوچھا تھا۔ اس کے بعد سے میری اس سے کوئی بات نہیں ہوئی۔
First published: Feb 21, 2020 01:13 PM IST