ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو: مسلم تنظیموں نے 22 جنوری بروز جمعہ کو بند منانے کا کیا فیصلہ، جانئے کیا ہے وجہ

بنگلورو میں 11 اگست 2020 کو توہین رسالت کے واقعہ کے بعد پیش آئے تشدد کے معاملے میں 400 سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ گرفتار کئے گئے نوجوانوں میں زیادہ تر نوجوان بے قصور ہیں۔ لہذا بے قصور نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بند مناکر احتجاج درج کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

  • Share this:
بنگلورو: مسلم تنظیموں نے 22 جنوری بروز جمعہ کو بند منانے کا کیا فیصلہ، جانئے کیا ہے وجہ
بنگلورو: مسلم تنظیموں نے 22 جنوری بروز جمعہ کو بند منانے کا کیا فیصلہ

بنگلورو میں 22 جنوری بروز جمعہ 2021  کو مسلم تنظیموں نے بند منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں شہر کے دارالسلام میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جمعیت علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، اہل سنت والجماعت، جمعیت اہل حدیث، سنی اور شیعہ تنظیموں کے نمائندوں،  مساجد فیڈریشن کے ذمہ داروں، تاجروں نے اجلاس میں حصہ لیا۔


بنگلورو میں 11 اگست 2020 کو توہین رسالت کے واقعہ کے بعد پیش آئے تشدد کے معاملے میں 400 سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ گرفتار کئے گئے نوجوانوں میں زیادہ تر نوجوان بے قصور ہیں۔ لہذا بے قصور نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بند مناکر احتجاج درج کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔


جمعیت علماء ہند کے ریاستی صدر مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ قصور واروں کو سزا ضرور ملے لیکن بے قصوروں کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت ترین دفعات کا نافذ کرنا، انہیں اور انکے خاندانوں کو پریشان کرنا ناانصافی ہے۔ لہذا اس ناانصافی کے خلاف بند منا کر احتجاج درج کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ یہ بند پر امن رہے گا۔ صرف مسلمانوں تک محدود رہے گا۔ 22 جنوری بروز جمعہ کو مسلمان رضاکارانہ طور پر اپنے کاروبار کو بند رکھیں گے، ملازمت پیشہ افراد چھوٹی لینگے۔ کہیں بھی جلوس اور جلسہ منعقد نہیں ہوگا۔ مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ اس پر امن احتجاج کا مقصد مسلمانوں کی بے چینی اور تشویش سے حکومت کو واقف کروانا ہے۔ ساتھ ہی جیلوں میں قید بے قصور نوجوانوں اور انکے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا ہے۔


جماعت اسلامی ہند کے معاون امیر حلقہ مولانا محمد یوسف کنی نے کہا کہ مسلم تنظیمیں توہین رسالت اور اس کے بعد رونما ہوئے تشدد کے واقعہ کی مذمت کرتی ہیں۔ مولانا نے کہا کہ افسوس اس بات پر ہے کہ تشدد کیلئے ذمہ دار افراد ضمانت پر رہا ہوکر گھوم رہے ہیں۔ لیکن بے قصور نوجوان اپنے نہ کئے کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ مولانا محمد یوسف کنی نے کہا کہ کئی فیکٹ فائنڈگس رپورٹ کے مطابق پولیس نے ایسے کئی افراد کو گرفتار کیا ہے جن کا تشدد سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قریب 300 نوجوانوں کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ پانچ ماہ گزرنے کے باوجود بے قصور نوجوانوں کی رہائی نہ ہونے کے سبب کئی خاندان پریشانی کے عالم میں ہیں۔ لہذا اس پورے معاملے میں  22 جنوری کو مسلمان بند مناکر خاموش طریقے سے اپنے غم اور غصہ کا اظہار کرینگے۔

معروف عالم دین اور جمعیت اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے مولانا اعجاز احمد ندوی نے کہا کہ بے قصور نوجوانوں کی رہائی کیلئے کئی مرتبہ کوششیں ہوچکی ہیں۔ اقتدار میں موجود ارکان، سیاسی لیڈروں سے جب بھی اس مسئلہ پر بات کی گئی تو انہوں نے معاملہ این آئی اے کے زیر تفتیش ہے، یو اے پی اے میں ضمانت نہیں ملتی یہ باتیں کہہ کر اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ مولانا اعجاز احمد ندوی نے کہا کہ مجبورا بند منا کر پر امن احتجاج کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

بنگلورو کے ایک اور معروف عالم دین مولانا شاہ عبدالواجد نے کہا کہ تمام علماء، دانشوروں، ملی تنظیموں کے نمائندوں نے اتفاق رائے سے بند منانے کا فیصلہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں کئی میٹنگیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا اس دن جمعہ ہے۔ عام طور پر مسلمان جمعہ کی نماز تک اپنی دکانیں بند رکھتے ہیں، جمعہ کی نماز کے بعد بھی چند گھنٹوں کیلئے دکانیں بند کرتے ہوئے حکومت کو یہ پیغام دیں کہ وہ ظلم و زیادتی کے خلاف خاموش نہیں ہیں۔ ممتاز عالم دین مولانا مزمل احمد والا جاہی نے کہا کہ اس پورے واقعہ سے مسلمان کافی دکھی ہیں۔  بے قصوروں کی گرفتاری ایک ظلم ہے اس ظلم کے خلاف پر امن طریقے سے آواز اٹھائی جارہی ہے۔ کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے کنوینر مسعود عبدالقادر نے کہا کہ  22 جنوری کو مسلم تاجران دن بھر اپنی دکانیں بند رکھیں گے۔ گھروں میں ہی رہیں گے۔ سڑکوں پر اتر کر احتجاجی مظاہرہ، نعرے بازی نہیں کی جائے گی۔ تاہم تمام دکاندار اپنی اپنی دکانوں پر ایک پوسٹر ضرور چسپاں کرینگے کہ جس میں بتایا جائے گا کہ وہ کس لئے یک روزہ بند منا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کے خلاف  11 اگست 2020  کو بنگلورو کے ڈی جے ہلی میں احتجاج ہوا تھا۔ اچانک یہ احتجاج تشدد میں منتقل ہوا۔ شر پسندوں نے پولیس اسٹیشن، مقامی ایم ایل اے اکھنڈا سرنیواس مورتی کے گھر ، پولیس گاڑیوں کو نذر آتش کیا تھا۔ اس تشدد پر قابو پانے کیلئے کی گئی پولیس فائرنگ میں 4 نوجوانوں کی موت واقع ہوئی تھی۔ تشدد کے واقعہ کی سینٹرل کرائم برانچ پولیس( سی سی بی) اور اس کے بعد قومی تحقیقاتی  ادارے این آئی اے جانچ پڑتال کررہی ہے۔ اس پورے معاملے میں بڑے پیمانے پر یو اے پی اے کے تحت  مقدمات درج کئے گئے ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 14, 2021 06:31 PM IST