உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bharat Bandh: آج سے دو دن کا ’بھارت بند‘، ریلوے اور بینکنگ سمیت ان سیکٹروں پر پڑسکتا ہے اثر

    آج سے دو روزہ بھارت بند۔ ان سیکٹرس پر پڑے گا اثر۔

    آج سے دو روزہ بھارت بند۔ ان سیکٹرس پر پڑے گا اثر۔

    Bharat Bandh: بھارت بند کی وجہ سے دو دن تک کام متاثر ہو سکتا ہے۔ بہت سارے کاموں میں خلل پڑ سکتا ہے۔ سب سے زیادہ اثر بینکنگ پر دیکھا جا سکتا ہے اور امید ہے کہ 28-29 مارچ کو بینکوں کا کام کافی حد تک متاثر ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی بھارت بند کا اثر ٹرانسپورٹ سسٹم پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: Bharat Bandh:مختلف ٹریڈ یونینوں نے 28 اور 29 مارچ کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ آج اور کل بھارت بند(Bharat Bandh) رہے گا۔ ریلوے، روڈ ویز، ٹرانسپورٹ اور بجلی کے محکموں کے ملازمین نے بھی اس بھارت بند کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھارت بند مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بلایا جا رہا ہے جس کا ملازمین، کسانوں اور عام لوگوں پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے کوئلہ، اسٹیل، تیل، ٹیلی کام، پوسٹل، انکم ٹیکس، کاپر، بینک اور انشورنس کے شعبوں کو ہڑتال کے بارے میں مطلع کرتے ہوئے نوٹس بھیجا ہے۔

      ساتھ ہی آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن(All India Bank Employees Association) نے کہا ہے کہ بینکنگ سیکٹر بھی اس ہڑتال میں حصہ لے گا۔ بتا دیں کہ 22 مارچ 2022 کو سنٹرل ٹریڈ یونینز کے جوائنٹ فورم کی میٹنگ کے بعد ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Bank holidays in April: اپریل میں ان دنوں بینک رہیں گےبند، جانیے مکمل فہرست

      مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بھارت بند کا اعلان
      دراصل، ٹریڈ یونینوں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ہوئے ریاستی انتخابات کے نتائج سے خوش ہو کر مرکز کی بی جے پی حکومت نے ملازمین کے مفادات کے خلاف فیصلے لینے شروع کر دیے ہیں۔ جس میں ای پی ایف کی شرح سود 8.5 فیصد سے کم کر کے 8.1 فیصد کر دی گئی ہے، پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی، مٹی کے تیل، سی این جی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ان کے منیٹائزیشن پروگرام (پی ایس یو لینڈ بنڈلز) کو لاگو کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن مہنگائی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور اسٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ کی وجہ سے ان کو روک دیا گیا ہے۔ ٹریڈ یونینز نے اپنے اجلاس میں حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اجلاس میں متحدہ کسان مورچہ کے اعلان کا خیر مقدم کیا گیا۔ انہوں نے 28-29 مارچ کو گاؤں بند کی کال دی ہے۔ بیان کے مطابق میٹنگ میں مختلف ریاستی سطح کی ٹریڈ یونینوں سے مرکزی حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف ہڑتال میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Income Tax Return Filing:اب تک نہیں بھراانکم ٹیکس ریٹرن تو31مارچ سے پہلے کرلیں یہ کام،ورنہ

      کام کاج پر پڑسکتا ہے اثر
      بھارت بند کی وجہ سے دو دن تک کام متاثر ہو سکتا ہے۔ بہت سارے کاموں میں خلل پڑ سکتا ہے۔ سب سے زیادہ اثر بینکنگ پر دیکھا جا سکتا ہے اور امید ہے کہ 28-29 مارچ کو بینکوں کا کام کافی حد تک متاثر ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی بھارت بند کا اثر ٹرانسپورٹ سسٹم پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ریلوے بھی ہڑتال میں شامل ہو سکتے ہیں۔ بتا دیں کہ ملازمین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ یہ ہڑتال مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کر رہے ہیں۔ بینک یونینز پبلک سیکٹر بینکوں کی نجکاری کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار کریں گی۔ حکومت نے 2021 کے بجٹ میں دو اور پبلک سیکٹر بینکوں کی نجکاری کا اعلان کیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: