உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آج اور کل Bharat Bandh کا آپ پر کیا پڑے گا اثر، جانئے 7 اہم باتیں

    Youtube Video

    Bharat Bandh: کئی ریاستوں میں تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد یونینوں نے مزدوروں، کسانوں، عوام اور ملک مخالف پالیسیوں کے خلاف دو روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ روڈ ویز، ٹرانسپورٹ اور بجلی کے محکموں کے ملازمین بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ سات پوائنٹ میں جانئے کہ اس بھارت بند کا ہماری زندگیوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی.:مرکزی ٹریڈ یونینوں (central trade unions) کے ایک فورم نے 28 مارچ اور 29 مارچ کو بھارت بند (Bharat Bandh) کا اعلان کیا ہے۔ بھارت بند کی کال مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف دی جا رہی ہے جس سے مزدور، کسان اور عام عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (All India Bank Employees Association) نے فیس بک پر لکھا کہ بینکنگ سیکٹر بھی اس ہڑتال میں حصہ لے گا۔
      مرکز کی پالیسیوں کے خلاف سینٹرل ٹریڈیونینوں کے مشترکہ مورچے نے آج سے دوروزہ بھارت بند کی کال دی ہے۔ عوامی شعبے کے بینکوں کی نجکاری اوربینک لا ترمیمی بل سمیت مختلف پالیسیوں کے خلاف ٹریڈ یونینوں نے دو روزہ بند کی کال دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ منریگا کے تحت مزدوروں کی اُجرت میں اضافہ کرنے اور ٹھیکے پر کام کرنے والوں مزدوروں کو مستقل کرنے کا بھی مطالبہ مزدور تنظیمیں کررہی ہیں۔ ٹریڈیونینوں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں روڈ ویز، نرانسپورٹ ورکرس اور بجلی شعبے کے ملازمین کے اس بند میں شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ادھر،مرکزی وزارت بجلی نے ریاستوں اور تمام اداروں کو مزدوروں کی ہڑتال کے پیش نظر بجلی فراہمی گرڈ کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ایڈوائزی جاری کی ہے ۔اسپتالوں، دفاع اور ریلوے خدمات کو بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایات ہیں تمام علاقائی او رریاستی کنٹرول روم کے اہلکاروں کو ہوشیاررہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

      کئی ریاستوں میں تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد یونینوں نے مزدوروں، کسانوں، عوام اور ملک مخالف پالیسیوں کے خلاف دو روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ روڈ ویز، ٹرانسپورٹ اور بجلی کے محکموں کے ملازمین بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ سات پوائنٹ میں جانئے کہ اس بھارت بند کا ہماری زندگیوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
      آسکر 2022 کیلئے نامزد ہوئی دستاویزی فلم 'رائٹنگ ود فائر'

      اگر آپ بھی 15 منٹ پہلے اپنی تمام سرچ ہسٹری ڈیلیٹ کرنا چاہتے ہیں تو یہ فیچر آپ کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوگا۔

      مرکزی ٹریڈ یونینوں (central trade unions) کے ایک فورم نے 28 مارچ اور 29 مارچ کو بھارت بند (Bharat Bandh) کا اعلان کیا ہے۔
      مرکزی ٹریڈ یونینوں (central trade unions) کے ایک فورم نے 28 مارچ اور 29 مارچ کو بھارت بند (Bharat Bandh) کا اعلان کیا ہے۔


      سات پوائنٹ میں میں سمجھیں ہڑتال کی پوری کہانی

      1. مرکزی ٹریڈ یونینوں کے مشترکہ فورم نے 22 مارچ 2022 کو دہلی میں ایک میٹنگ کی۔ اس میں مختلف ریاستوں اور سیکٹروں میں 28-29 مارچ 2022 کو ہونے والی دو روزہ کل ہند ہڑتال کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی پالیسیاں عام آدمی، مزدور اور کسان مخالف ہیں۔

      2. بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسما (ہریانہ اور چندی گڑھ) کے خدشات کے درمیان روڈ ویز، ٹرانسپورٹ اور بجلی کے ملازمین نے ہڑتال میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

      3. بینکنگ اور انشورنس سمیت مالیاتی شعبے بھی اس ہڑتال کی حمایت کر رہے ہیں۔

      4. کوئلہ، اسٹیل، تیل، ٹیلی کام، ڈاک، انکم ٹیکس، تانبہ، بینک، انشورنس جیسے شعبوں میں یونینوں کو بھی ہڑتال میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔

      5. ریلوے اور دفاعی شعبے کی یونینیں ملک بھر میں سیکڑوں مقامات پر ہڑتال کی حمایت میں ہڑتال کریں گی۔

      6. SBI کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے بینکنگ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس کی شاخوں اور دفاتر میں معمول کے کام کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ کچھ کام متاثر ہو سکتے ہیں۔

      7. یہ ہڑتال سرکاری شعبے کے بینکوں کی نجکاری کے حکومتی فیصلے اور بینکنگ لاز ترمیمی بل 2021 کے خلاف احتجاج میں کی جا رہی ہے۔

      غلطی سے بھی کبھی Google پر ان چیزوں کو سرچ نہ کریں، ہو سکتا ہے پنگا

      ملازمین کو ڈیوٹی پر رپورٹ کرنا ضروری۔
      بھارت بند میں INTUC، AITUC، HMS، CITU، AIUTUC، TUCC، SEWA، AICCTU، LPF اور UTUC جیسی ٹریڈ یونینیں شامل ہوں گی۔ دوسری جانب مغربی بنگال حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت بند کے دوران تمام دفاتر کھلے رہیں گے۔ ملازمین کو ڈیوٹی کے لیے رپورٹ کرنا ضروری ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: