உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک: شیوموگا سے 3 ISIS سے جڑے دہشت گرد گرفتار، بم دھماکوں کا تھا بڑا منصوبہ

     داعش سے وابستہ تین دہشت گردوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے الزام لگایا کہ گینگ کے ارکان دھماکہ خیز مواد کی خریداری میں مصروف تھے اور ان کا منصوبہ ریاست بھر میں دھماکے کرنا تھا۔

    داعش سے وابستہ تین دہشت گردوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے الزام لگایا کہ گینگ کے ارکان دھماکہ خیز مواد کی خریداری میں مصروف تھے اور ان کا منصوبہ ریاست بھر میں دھماکے کرنا تھا۔

    داعش سے وابستہ تین دہشت گردوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے الزام لگایا کہ گینگ کے ارکان دھماکہ خیز مواد کی خریداری میں مصروف تھے اور ان کا منصوبہ ریاست بھر میں دھماکے کرنا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka, India
    • Share this:
      شیوموگا: کرناٹک کے شیوموگا میں منگل کو پولس نے ایک بڑے بم دھماکے کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ جی ہاں، داعش سے وابستہ تین دہشت گردوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے الزام لگایا کہ گینگ کے ارکان دھماکہ خیز مواد کی خریداری میں مصروف تھے اور ان کا منصوبہ ریاست بھر میں دھماکے کرنا تھا۔ پولیس نے شیو موگا کے رہائشی شارق، ماجی اور سعید یاسین، کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (UAPA) کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

      پولیس ایف آئی آر کے مطابق گینگ کے ارکان اسلامک اسٹیٹ کی سرگرمیوں کو بڑھانے کا منصوبہ بنا رہے تھے جو کہ ہندوستان کے اتحاد، سالمیت اور خودمختاری کے خلاف ہے۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ ارگا گیانندرا نے کہا، "تینوں کے اسلامک اسٹیٹ سے رابطے ہیں۔" وہ شیو موگا اور تیرتھاہلی کے رہنے والے ہیں اور ان کا تعلق منگلورو سے ہے۔

      پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گرفتار افراد نے دھماکے کرنے سمیت دہشت گردی کی کارروائیوں کی تربیت حاصل کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’گینگ کا سرغنہ یاسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ یاسین پیشے کے اعتبار سے الیکٹرک انجینئر ہیں۔




      غور طلب ہے کہ شیوموگا اس سال کے شروع میں اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب ہندوتوا کارکن ہرش کا حجاب تنازعہ کے درمیان قتل کر دیا گیا تھا۔ اگست میں شہر سے جھڑپوں کی اطلاع ملی تھی جب دائیں بازو کے کچھ ارکان نے ہندوتو کے نظریاتی ونائک دامودر ساورکر کے پوسٹر لگائے اور کچھ مسلمانوں نے احتجاج کیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: