உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امت شاہ کا سدارامیا کی حکومت پرخوشامد اور ووٹ بینک کی سیاست کرنے کا الزام

    بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ: فائل فوٹو۔

    دکشن کنڑ۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے دعوی کیا کہ کرناٹک کے انتخابات میں ان کی پارٹی کی حکومت بنے گی جو جنوب کا دروازہ بی جے پی کے لئے کھولنے کا کام کرے گی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      دکشن کنڑ۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے دعوی کیا کہ کرناٹک کے انتخابات میں ان کی پارٹی کی حکومت بنے گی جو جنوب کا دروازہ بی جے پی کے لئے کھولنے کا کام کرے گی۔ انہوں نے کرناٹک کے دکشن کنڑ ضلع میں نواشکتی سماویش پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے کارکنوں پر زوردیا کہ وہ ریاست کے انتخابات کو کرناٹک کے انتخابات نہ سمجھیں کیونکہ یہ انتخابات قومی سیاست کے لئے کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست کی سدارامیا زیرقیادت کانگریس کی حکومت خوشامد کی سیاست اور ووٹ بینک کی سیاست کر تے ہوئے دوسرے بڑے طبقات کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔


      امیت شاہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر سدارامیا یہ سمجھتے ہیں کہ خوشامد کی سیاست کامیاب ہوگی تو یہ غلط ہے۔ خوشامد اور تقسیم کرنے کی سیاست کی مثال یہ ہے کہ رکن اسمبلی حارث کے فرزند نے ایک شخص کی پٹائی کی لیکن اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ حارث معاملہ میں بھی ووٹ بینک کی سیاست کی جا رہی ہے۔کرناٹک کے عوام خوشامد کی سیاست کو برداشت نہیں کریں گے۔ مسٹر شاہ نے کہاکہ 2014میں بی جے پی کی مرکز میں مکمل اکثریت والی حکومت بنی تھی ۔ ریاست کے بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کو کامیاب کروانے میں کرناٹک کا بھی بڑا رول رہا ۔2014کے انتخابات کے بعد جتنے انتخابات ہوئے ان میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی۔


      انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر،ہریانہ،جھارکھنڈ،کشمیر،آسام،منی پور، گوا، اتراکھنڈ ،ہماچل پردیش سے کانگریس کا خاتمہ کرتے ہوئے بی جے پی نے اقتدار سنبھالا ۔ساتھ ہی گجرات ،گوا میں بی جے پی کو دوبارہ اقتدار نصیب ہوا۔ اتراکھنڈ اور اترپردیش میں بھی بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس یقین کا اظہا رکیا کہ کرناٹک میں بھی بی جے پی کو اقتدار نصیب ہوگا۔ امیت شاہ نے کہا کہ بی جے پی نے دس کارکنوں کے ساتھ اپنا سفر شروع کیا تھا آج اس کے 11کروڑ کارکن ہیں۔


      بی جے پی صدر نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بننے کا اعزاز بھی بی جے پی ہی کو حاصل ہوا ہے۔ وزیراعظم مودی کی قیادت میں بی جے پی کوترقی حاصل ہو رہی ہے۔ اس کے ملک بھر میں 1470سے زائد ارکان مقننہ،330ارکان پارلیمنٹ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ 19ریاستوں میں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومتیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ کرناٹک میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور یہ تبدیلی صرف بی جے پی کو کامیاب بنا کر لائی جاسکتی ہے۔ بی جے پی کی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ کرناٹک کی صورتحال میں تبدیلی لائی جائے اور کرناٹک میں رکی ہوئی ترقی کو آگے بڑھانے کا کام کیاجائے جو بی جے پی سے ہی ممکن ہے۔اسی لئے بی جے پی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔


      شاہ نے کہا کہ کرناٹک میں جس طرح کی حکمرانی چل رہی ہے اس سے ترقی کی یاترا ممکن نہیں ہے۔ترقی ، بعض کام کرنے سے نہیں ہوتی ،بلکہ ترقی کی سمت ہوتی ہے اور اس کے لئے کرپشن کو ختم کرنا ہوگا۔یہ کام سدارامیا حکومت نہیں کرسکتی۔انہوں نے الزام لگایا کہ سدارامیا حکومت کے کئی وزیر رشوت خوری میں ملوث ہیں۔ سدارمیا کے رفقا کے ساتھ ساتھ وہ خود رشوت خوری میں ملوث ہیں ۔امیت شاہ نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ سدارامیا نے 40لاکھ روپئے کی گھڑی پہنی تھی ۔صدر بی جے پی نے کہا کہ جن وزرا پر بھی بدعنوانیوں کے الزامات ہیں ، ان سے استعفی لینے کی ہمت سدارامیا نہیں کرتے ۔انہوں نے دعوی کیا کہ بدعنوانیوں سے پاک حکومت بی جے پی فراہم کرسکتی ہے۔

      First published: