உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امت شاہ بولے، کانگریس نے لنگایت طبقہ کو اقلیتی درجہ دے کر ہندو سماج کو تقسیم کرنے کا کام کیا ہے

    بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ: فائل فوٹو۔

    بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ: فائل فوٹو۔

    دیون گیرے۔ کرناٹک میں ایک ہی مرحلہ میں 12مئی کو اسمبلی انتخابات کے الیکشن کمیشن کے اعلان کا استقبال کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی صدرامیت شاہ نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان کی پارٹی کانگریس کو بے دخل کرتے ہوئے دوبارہ اقتدار پرقابض ہوگی ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      دیون گیرے۔ کرناٹک میں ایک ہی مرحلہ میں 12مئی کو اسمبلی انتخابات کے الیکشن کمیشن کے اعلان کا استقبال کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی صدرامیت شاہ نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان کی پارٹی کانگریس کو بے دخل کرتے ہوئے دوبارہ اقتدار پرقابض ہوگی ۔ یہ گزشتہ پانچ برسوں میں کانگریس کے غنڈہ راج کو تبدیل کرتے ہوئے حکمرانی کا راج ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کو برسراقتدار لایا گیا تو بی جے پی موافق کسان اقدامات کرے گی اور کاشتکار طبقہ کی بہبود کے لئے موافق کسان اور کئی پروگراموں کی شروعات کرے گی کیونکہ کسان مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔


      انہوں نے اپنے وسطی کرناٹک کے دورہ کے دوسرے دن میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے لنگایت طبقہ کو اقلیتی درجہ دیتے ہوئے کرناٹک میں ہندو سماج کو تقسیم کرنے کا کام کیا ہے۔عوام کانگریس کے غلط ارادوں کا جواب بیلٹ باکس میں اپنے سخت پیام کے ذریعہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندو اور سکھ طبقات کو متحد کریں تاہم وزیراعلی سدارامیا چاہتے ہیں کہ وہ انگریزوں کے خطوط پر کرناٹک کے عوام کو تقسیم کیا جائے جنہوں نے مذہبی خطوط پر ملک کو تقسیم کرنے کا کام کیا تھا۔


      شاہ نے کہا کہ بی جے پی جنتا دل ایس یا کسی اور پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کرے گی بلکہ 224نشستوں پر تنہا مقابلہ کرے گی ۔ ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی جیسی تنظیموں پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے شاہ نے انتخابات کے پیش نظر ان دونوں تنظیموں کی خوشامد کرنے کا کانگریس حکومت پر الزام لگایا ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لئے وزیراعلی سدارامیا ان خطرناک عناصر کے ساتھ میل جول بڑھا رہے ہیں۔ کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں کرناٹک کے سرکردہ ریاست کے طورپر ابھرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکمرانی والی چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں بڑے پیمانہ پر کمی آئی ہے۔ ایک ملک اور ایک انتخابات کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے سیاسی جماعتوں کو تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت ہے۔

      First published: