உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک انتخابات : ووٹ کے لئے پھر سے ہندوتو کی راہ پر بی جے پی

    کرناٹک میں 12 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مدہ نظر آج وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی کی انتخابی مہم کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے ووٹنگ کی تاریخ قریب آ رہی ہے ، ویسے ہی ویسےبی جے پی ہندوتو کا اشو سامنے لا رہی ہے ۔

    کرناٹک میں 12 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مدہ نظر آج وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی کی انتخابی مہم کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے ووٹنگ کی تاریخ قریب آ رہی ہے ، ویسے ہی ویسےبی جے پی ہندوتو کا اشو سامنے لا رہی ہے ۔

    کرناٹک میں 12 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مدہ نظر آج وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی کی انتخابی مہم کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے ووٹنگ کی تاریخ قریب آ رہی ہے ، ویسے ہی ویسےبی جے پی ہندوتو کا اشو سامنے لا رہی ہے ۔

    • Share this:
      کرناٹک میں 12 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مدہ نظر آج وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی کی انتخابی مہم کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے ووٹنگ کی تاریخ قریب آ رہی ہے ، ویسے ہی ویسےبی جے پی ہندوتو کا اشو سامنے لا رہی ہے ۔ ریاست میں بی جے پی کی لیڈر اور پارلیمانی کرن شوبھا کرندلاجےنے پیر کے روز ٹویٹ کیا کہ کرناٹک کے ہندووں کو اپناووٹ بی جےپی کو دینا چاہئے ۔ انہوں نے ریاست میں اقتدار پارٹی کانگریس پر مسلموں کا ساتھ دینے کا بھی الزام لگایا۔

      بی جے پی کی پارلیمانی رکن کرندلاجے کے اس ٹویٹ کو لے کر تنازعہ ہو ا۔ جس کے بعد انہوں نے اس ٹویٹ کو ڈلیٹ کر دیا ۔ مذکورہ معاملہ میں بی جے پی کے سی ایم کینڈیٹ بی ایس سی یدو رپا نے کہا کہ پی ایم مودی کی ہدایتوں کے مطابق پارٹی صرف ترقی کے ایجنڈے پر ہی انتخابی لڑائی لڑے گی۔

      ہندوتوکے بی جےپی میں بڑےچہرے اتر پردیش کے سی ایم یوگی آدیتہ ناتھ اور مرکزی وزیر آننت ناگ ہیگڑے کو بھی ریاست میں آئندہ 10 دنوں کے اندر بی جے پی کے لئے مہم کرنے کو کہا گیا ہے ۔ دونوں لیڈران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے بیان اور مہم کے درمیان ہندوتوپر ہی فوکس کریں۔

      شوبھا کرنڈلاجے

      آدیتہ ناتھ یوگی نے اس سے قبل کرناٹک میں فرقہ واریت کا اشو اٹھایا تھا ۔ تاہم ، گورکھپور اور پھول پور اسمبلی سیٹوں پر شکست ملنے کے بعد سے یوگی فی الحال کرناٹک سے دور ہیں۔ ایسے میں کانگریس کو لگتا ہے کہ یوگی اب کرناٹک میں مہم کرنے نہیں کرنا چاہتےہیں۔

      یہاں تک کہ ہیگڑے ، جنہوں نے آئین پر کی گئی تنقید پر ہوئے تنازعہ کے بعد سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ، اب وہ بھی اپ نے پرانے جوش میں واپس آ رہے ہیں۔ گچھ روز قبل ہیگڑ نے ریاست کے سدارمیا حکومت کو ’ ائنٹی ہندو ‘ (ہندو مخالف) قرار دیا تھا۔

      shobha

      ریاست کے موجودہ سی ایم اور کانگریس کے لیڈر سدارمیا بھی ’ ہندوتوکے اشو کے تحت بی جے پی ، یوگی آدیتہ ناتھ اور آننت ہیگڑے پر نشانہ لگا رہے ہیں۔

      خیر جو بھی ہو ، یہ دیکھنا تے ہے کہ ریاست میں 12 مئی سے قبل تمام پارٹیاں فرقہ واریت سے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتیں رہیں گی۔

       
      First published: