ہوم » نیوز » وطن نامہ

کیا ٹوٹے ہوئے دل والے کو اپنا ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی میں لایا جاسکتا ہے؟

خواتین کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ وہ کسی خراب ریلیشن میں لوگوں کا خیال رکھے گی اور ماں کی طرح زخموں کو سہلائے گی۔ کسی بھی رشتے میں اس سے زیادہ خراب کسی اور کے کردار دو وجوہات کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

  • Share this:
کیا ٹوٹے ہوئے دل والے کو اپنا ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی میں لایا جاسکتا ہے؟
کیا ٹوٹے ہوئے دل والے کو اپنا ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی میں لایا جاسکتا ہے؟

کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں کہ ’ایک ٹوٹے ہوئے دل والے کو اپناو، اس کو ٹھیک کرو اور پھر اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے تمہارا ہوجائے؟


نہیں، میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ یہ بہت ہی غلط، کچھ زیادہ ہی رومانی بالی ووڈ کی طرح ہے۔ اس طرح کے بیان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس سے ساتھ نہیں رکھے جانے والے مرد پاٹنروں کو غیر ضروری جذباتی محنت کی امید کی بدولت خاموش رہنے کا کمزور بہانہ مل جاتا ہے۔ کسی کو ’درست‘ کرنے یا ٹوٹے ہوئے دل والے کو کندھے پر لادکر چلنے کا کام آپ کا نہیں ہے۔ اگرآپ خود کو ٹوٹا ہوا محسوس کرتے ہیں تو خود کو ’درست’ کرنے کا کام بھی آپ کا ہی ہے۔


خواتین کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ وہ کسی خراب ریلیشن میں لوگوں کا خیال رکھے گی اور ماں کی طرح زخموں کو سہلائے گی۔ کسی بھی رشتے میں اس سے زیادہ خراب کسی اور کے کردار کا دو وجوہات کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ پہلا، کسی کو ’بھلا- چنگا‘ کرنے کی ذمہ داری کو نبھانے کی ذمہ داری ہوتی ہے اور پارٹنر کی ذہنی حالت اور اس وجہ سے اس کے برتاو کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس ریلیشن شپ کو بچائے رکھنے کے لئے آپ کو کتنی کوشش کرنی پڑتی ہے، یہ پتہ آپ کو جلد ہی لگنے لگتا ہے اور آپ اپنے پارٹنر کے خراب برتاو کے لئے اس کو قصوروار تک نہیں ٹھہرا سکتے اور آپ چاہے کتنی بھی کوشش کرلیں، آپ کو گھٹن محسوس ہوتی ہے اور یہ پوری حالت کو بدتر بناتا ہے۔ یہ زہر جیسا ہوتا ہے اور اس کے بغیر آپ زیادہ بہتر محسوس کریں گی۔


ذاتی طور پر میرے لئے سب سے زیادہ اہم خصوصیت کسی شخص میں یہ ہے کہ وہ اپنی ذہنی صحت کی طرف کتنا دھیان دیتا ہے۔ ایک ساتھ رہنے پر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ذہنی طور پر پوری طرح سے صحتمند نہیں ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی طرح کا ذہنی دُکھ یا پریشانی جھیلتے ہیں یا جھیل چکے ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اسے پوری طرح کسی اور کی جوابدہی نہیں بنا دیتے ہیں۔ ذہنی صحت کو ٹھیک کرنے والے لوگ بہت آسانی سے دستیاب ہیں۔ اگر آپ کے گھر میں کوئی مشین خراب ہوجاتی ہے تو آپ اسے خود ہی ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں کہ کہیں یہ مزید خراب نہ ہوجائے۔ کیا آپ مشین کو ٹھیک کرنے کے لئے کسی تعلیم یافتہ (ماہر) شخص کو نہیں بلاتے ہیں؟ تو اگر آپ کا پارٹنر’ٹوٹ چکا’ ہے تو اس کو ٹھیک کرنے کے لئے آپ کسی ذہنی خرابی کو ٹھیک کرنے والے پیشہ ور یا ماہر شخص کے پاس اسے لے جائیں گے نہ کہ خود ہی اس کو ٹھیک کریں گے۔ یہ ایک ایسا تھکاوٹ اور نقصان پہنچانے والا کام ہے، جس کے لئے کوئی بھی آپ کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتا اور پھر آپ ایسا کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی ہیں۔

دوسری وجہ کہ آپ کو ٹوٹے ہوئے لوگوں کو ’درست (ٹھیک)’ کرنے کی کیوں کوشش نہیں کرنی چاہئے (اگر آپ پیشہ ور نہیں ہیں تو) یہ ہے کہ آپ ہمیشہ ہی دستیاب ہوں گے، اس کی گارنٹی آپ نہیں دے سکتے۔ آپ کی اپنی بھی زندگی ہے، اپنے مسائل ہیں، جن سے آپ کو جدوجہد کرنی ہے، آپ کی زندگی کے اتار چڑھاو ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کو جتنی دیکھ بھال کی ضرورت ہے، اتنی دیکھ بھال آپ نہیں کرسکتے۔ چونکہ آپ ایک پیشہ ور تھیریپسٹ نہیں ہیں، جو کہ اپنے کلائنٹ کو مقررہ وقت دیتا ہے، آپ کا پارٹنر یہ امید لگا کر بیٹھے گا کہ آپ 24 گھنٹے اس کی خدمت کریں گی۔ اگر کسی پوری طرح سے مناسب وجہ سے آپ ایسا نہیں کرپاتی ہیں، تو اس سے ان پر اثر پڑے گا اور انہیں لگے گا کہ آپ نے انہیں بیچ راستے میں چھوڑ دیا ہے۔ تو اس طرح اپنے پارٹنر کا خیال رکھنا آپ کا فل ٹائم ہوجائے گا اور آپ کے پاس اپنے لئے کوئی وقت نہیں بچے گا۔

اس طرح، آپ کسی بھی طریقے سے اس طرف دیکھیں، یہ ایک غلط طریقہ ہے اور کسی بھی طریقے سے اس سے بچنا چاہئے اور اس کی مخالفت کرنی چاہئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 22, 2021 11:59 PM IST