உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک کا سب سے بڑا بینکنگ گھوٹالہ! ABG شپ یارڈ نے 28 بینکوں کو لگایا 22,842 کروڑ کا چونا، CBI کی کارروائی

    سی بی آئی (فائل فوٹو)

    سی بی آئی (فائل فوٹو)

    سی بی آئی کے ذریعے درج ایف آئی آر کے مطابق، جس مقصد کے لیے اس کمپنی نے 28 بینکوں سے قرض لیا، اس کمپنی میں سرمایہ کاری یا خرچ نہیں کیا، بلکہ ان پیسوں کو کسی دوسری کمپنی (فنڈز کے ڈائیورژن کا طریقہ) کے ذریعے قرض کمپنی کی طرف موڑ دیا، دکھایا اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان 28 بینکوں کے ساتھ فراڈ کیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی:سی بی آئی(CBI)نے ملک کے سب سے بڑے بینک فراڈ کیس میں اے بی جی شپ یارڈ لمیٹڈ اور اس کے اس وقت کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر رشی کملیش اگروال اور دیگر نامعلوم سرکاری ملازمین اور نجی لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ مقدمہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی قیادت میں بینکوں کے کنسورشیم سے 22,842 کروڑ روپے سے زیادہ کی مبینہ دھوکہ دہی کے سلسلے میں درج کیا گیا تھا، حکام نے ہفتہ کو یہ جانکاری دی۔ یہ سی بی آئی کے ذریعہ درج کیا گیا سب سے بڑا بینک فراڈ کیس ہے۔

      سی بی آئی کے ذریعے درج ایف آئی آر کے مطابق، جس مقصد کے لیے اس کمپنی نے 28 بینکوں سے قرض لیا، اس کمپنی میں سرمایہ کاری یا خرچ نہیں کیا، بلکہ ان پیسوں کو کسی دوسری کمپنی (فنڈز کے ڈائیورژن کا طریقہ) کے ذریعے قرض کمپنی کی طرف موڑ دیا، دکھایا اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان 28 بینکوں کے ساتھ فراڈ کیا۔ سی بی آئی کو شبہ ہے کہ اس قرض کو جاری کرنے میں کئی سرکاری ملازمین، عہدیداروں اور بینک کے نجی لوگوں کا مشکوک کردار ہے۔ دھوکہ دہی کے ارتکاب کے بعد، کمپنی اور اس کے کئی ڈائریکٹرز پر کئی مقامات پر بہت ساری جائیدادیں بنانے اور خریدنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے، جس کی سی بی آئی ٹیم تفصیل سے جانچ کرے گی۔

      سی بی آئی نے طویل جانچ کے بعد کی کارروائی
      سی بی آئی نے اگروال کے علاوہ، اس وقت کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سنتھانم متھاسوامی، ڈائریکٹرز - اشونی کمار، سشیل کمار اگروال اور روی ومل نیویتیا اور ایک دیگر کمپنی اے بی جی انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف بھی مبینہ طور پر مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی، اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی اور سرکاری غلط استعمال کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ سی بی آئی کے پی آئی نئی دہلی کملیش چندر تیواری کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

      سی بی آئی نے مانگی تھی وضاحت، نہیں دے پائے تھے جواب
      انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کے خلاف آئی پی سی اور انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بینک کے کنسورشیم نے سب سے پہلے 8 نومبر 2019 کو شکایت درج کروائی تھی، جس پر سی بی آئی نے 12 مارچ 2020 کو کچھ وضاحتیں مانگی تھیں۔ بینکوں کے کنسورشیم نے اسی سال اگست میں ایک تازہ شکایت درج کرائی اور ڈیڑھ سال سے زیادہ تحقیقات کے بعد سی بی آئی نے اس پر کارروائی کی۔ عہدیدار نے بتایا کہ ایس بی آئی کے ساتھ ساتھ 28 بینکوں اور مالیاتی اداروں نے کمپنی کو 2468.51 کروڑ روپے کے قرض کی منظوری دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فرانزک آڈٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ 2012-17 کے درمیان، ملزمان نے مبینہ طور پر ملی بھگت کی اور غیر قانونی سرگرمیاں کیں، جن میں فنڈز کا غلط استعمال اور اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی شامل ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: