ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کانگریس کے ' سنکٹ موچن' ڈی کے شیو کمار اور ان کے بھائی کے گھروں اور دفتروں پر سی بی آئی کے چھاپے، کانگریس کارکنان سڑکوں پر اترے

آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے اور ملک کے سب سے بڑے شمسی توانائی پلانٹ کی منظوری کیلئے موٹی رقم بطور رشوت لینے کے الزامات سامنے آنے کے بعد ڈی کے بھائیوں کے خلاف سی بی آئی نے یہ کارروائی کی ہے۔ ریاستی حکومت نے اس پورے معاملے کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کی تھی۔ حالانکہ سی بی آئی جانچ پر روک کے سلسلے میں ڈی کے بھائیوں نے کرناٹک ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

  • Share this:
کانگریس کے ' سنکٹ موچن' ڈی کے شیو کمار اور ان کے بھائی کے گھروں اور دفتروں پر سی بی آئی کے چھاپے، کانگریس کارکنان سڑکوں پر اترے
کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار کی فائل فوٹو

بنگلورو۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار اور ان کے بڑے بھائی، لوک سبھا کے رکن ڈی کے سریش کے گھروں اور دفتروں پر آج سی بی آئی نے ایک ساتھ چھاپے مارے ہیں۔ بنگلورو میں 9 مقامات پر، دہلی میں 4 اور ممبئی کے ایک مقام پر سی بی آئی کے چھاپے ہوئے ہیں۔ کرناٹک کی سیاست میں خاصا اثر و رسوخ رکھنے والے ڈی کے بھائیوں کے خلاف سی بی آئی کی اس کارروائی کے بعد کانگریس کارکنان سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور احتجاج کررہے ہیں۔


آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے اور ملک کے سب سے بڑے شمسی توانائی پلانٹ کی منظوری کیلئے موٹی رقم بطور رشوت لینے کے الزامات سامنے آنے کے بعد ڈی کے بھائیوں کے خلاف سی بی آئی نے یہ کارروائی کی ہے۔ ریاستی حکومت نے اس پورے معاملے کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کی تھی۔ حالانکہ سی بی آئی جانچ پر روک کے سلسلے میں ڈی کے بھائیوں نے کرناٹک ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ لیکن عدالت نے سی بی آئی جانچ پر روک لگانے سے انکار کیا، اس کے بعد ڈی کے شیوکمار سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں ڈی کے بھائیوں کی عرضداشت ابھی قبول نہیں ہوئی ہے۔ اس دوران سی بی آئی نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے ایک ساتھ 14 مقامات پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔ سی بی آئی کی اس کارروائی کے بعد بنگلورو اور چند دیگر شہروں میں کانگریس کے کارکنوں نے پرزور طریقہ سے  احتجاج کیا۔ احتجاجیوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سی بی آئی اور ای ڈی کا غلط استعمال کررہی ہے، کانگریس کے لیڈروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔



کرناٹک کے اے آئی سی سی انچارج رندپپ سنگھ سرجے والا نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ مرکزی حکومت کے اشارے پر سی بی آئی نے یہ کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی یدی یورپا حکومت میں ہورہے کرپشن کی جانچ کیوں نہیں کرتی۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر سلیم احمد نے بھی سی بی آئی کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ سلیم احمد نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ریاست کے دو اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات ہورہے ہیں، ان انتخابات کے پیش نظر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ سلیم احمد نے کہا کہ اس وقت کانگریس پارٹی ڈی کے شیوکمار اور انکے بھائی ڈی کے سریش کے ساتھ کھڑی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کے لیڈروں نے کہا ہے کہ سی بی آئی نے  قانون کے مطابق کارروائی کی ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ریاستی وزیر کے ایس ایشورپا نے کہا کہ اس سے قبل بھی ڈی کے شیوکمار کے گھر اور دفتروں پر حوالہ رقم کے معاملے میں چھاپہ ماری ہوئی ہے۔ آج کی کارروائی کے پیچھے کوئی سیاست نہیں ہے۔ اس سے پہلے یدی یورپا کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ اس وقت کانگریس کے لیڈروں نے کیا کہا تھا، کے ایس ایشورپا نے کہا کہ ملک میں کانگریس بی جے پی کیلئے الگ الگ قانون نہیں ہے۔



کرناٹک کے نائب وزیر اعلی ڈاکٹر اشوتھ نارائن نے کہا کہ اس میں کوئی سیاست نہیں ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ ڈی کے شیوکمار کو سی بی آئی اور ای ڈی کی جانچ کا سامنا ہے۔ سی بی آئی نے اپنے سرچ آپریشن کے دوران ڈی کے شیوکمار اور انکے اہل خانہ سے بھی پوچھ تاچھ کی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی بی آئی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار کو حراست میں لے سکتی ہے۔ اس کے پیش نظر بنگلورو میں اس وقت سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ بنگلورو میں کانگریس کے کارکنوں نے نہ صرف پارٹی کے دفتر کے سامنے بلکہ ڈی کے شیوکمار اور ڈی کے سریش کے گھروں کے باہر  سی بی آئی کی کارروائی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

واضح رہے کہ سی بی آئی نے اتوار کو ایف آئی آر داخل کرتے ہوئے بنگلورو، دہلی اور ممبئی میں کل 14 مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے کے معاملے کے ساتھ ساتھ  سی بی آئی شمسی توانائی پلانٹ کی منظوری کے معاملے میں ہوئے گھوٹالہ کی جانچ کررہی ہے۔ گزشتہ حکومت میں وزیر توانائی کے طور پر ڈی کے شیوکمار نے کرناٹک کے بلاری ضلع میں سولر پلانٹ کیلئے منظوری دی تھی۔ 1950 ایکڑ اراضی پر تعمیر ہوا یہ پلانٹ ملک کا سب سے بڑا شمسی توانائی پروجیکٹ ہے۔ اس پلانٹ کی منظوری کیلئے موٹی رقم حاصل کرنے کا ڈی کے شیوکمار پر الزام ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ڈی کے شیوکمار کو ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) نے حوالہ رقم معاملہ میں دہلی میں گرفتار کیا تھا۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں کئی دنوں تک ڈی کے شیوکمار قید تھے۔ ضمانت پر رہائی کے بعد سیاست میں دوبارہ سرگرم ہوئے۔ چند مہینوں پہلے ڈی کے شیوکمار کو کانگریس ہائی کمان نے پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر بنایا ہے۔ اب ان کے خلاف سی بی آئی کی اس کارروائی کے بعد ریاست کی سیاست میں تہلکہ مچا ہوا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 05, 2020 01:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading