உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    9ریاستوں میں ہندووں کو ’اقلیت‘ کا درجہ دینے کا مطالبہ، مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کیا حلف نامہ

    ہندووں کو 9 ریاستوں میں اقلیت کا درجہ دینے کے لئے مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کیا حلف نامہ۔

    ہندووں کو 9 ریاستوں میں اقلیت کا درجہ دینے کے لئے مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کیا حلف نامہ۔

    مرکزی حکومت نے کہا کہ ہندو، جین سماج جموں و کشمیر، میزورم، ناگالینڈ، منی پور، میگھالیہ، اروناچل پردیش، پنجاب، لکشدیپ، لداخ میں اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کر سکتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے حلف نامہ میں کہا کہ مہاراشٹر حکومت نے سال 2016 میں یہودیوں ( Jews) کو اقلیت قرار دیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی حکومت(Central Government) نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے 9 ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیتی درجہ(Minority Status for Hindus) دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر، میزورم، ناگالینڈ، منی پور، میگھالیہ، اروناچل پردیش، پنجاب، لکشدیپ، لداخ میں ہندوؤں کو اقلیت قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ (Supreme Court) میں دائر کی ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق ریاستی حکومت کو ہندوؤں کو اقلیت قرار دینے کا حق ہے۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ جموں و کشمیر، میزورم، ناگالینڈ، منی پور، میگھالیہ، اروناچل پردیش، پنجاب، لکشدیپ، لداخ ریاستی سطح پر اقلیتی گروہوں کی شناخت کے لیے رہنما خطوط دے سکتے ہیں۔

      مرکزی حکومت نے کہا کہ ہندو، جین سماج جموں و کشمیر، میزورم، ناگالینڈ، منی پور، میگھالیہ، اروناچل پردیش، پنجاب، لکشدیپ، لداخ میں اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کر سکتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے حلف نامہ میں کہا کہ مہاراشٹر حکومت نے سال 2016 میں یہودیوں ( Jews) کو اقلیت قرار دیا تھا۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ عرضی گزار کا یہ استدلال ہے کہ ہندو، یہودیت کے پیروکار جموں و کشمیر، میزورم، ناگالینڈ، منی پور، میگھالیہ، اروناچل پردیش، پنجاب، لکشدیپ، لداخ میں اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم اور ان کا نظم و نسق نہیں کر سکتے، جو صحیح نہیں ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Bharat Bandh:آج سے دو دن کا’بھارت بند‘،ریلوے اوربینکنگ سمیت ان سیکٹروں پرپڑسکتاہے اثر

      ریاستیں بھی مذہبی اور لسانی کمیونٹی کو اقلیت قرار دے سکتے ہیں
      مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ریاستی حکومتیں ریاستی حدود میں مذہبی اور لسانی برادریوں بشمول ہندوؤں کو اقلیت قرار دے سکتی ہیں۔ مرکزی حکومت نے یہ اعتراض ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے کی طرف سے دائر درخواست کے جواب میں دیا ہے، جس میں اس نے قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے ایکٹ، 2004 کے سیکشن 2 (f) کی درستگی کو چیلنج کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      سابق CM دگ وجئے سنگھ کو 1 سال کی سزا، 11 سال پرانے کیس میں اندور کورٹ کا فیصلہ

      اپادھیائے نے اپنی درخواست میں، سیکشن 2(f) کے جواز کو چیلنج کیا، اور کہا کہ یہ مرکز کو بہت زیادہ طاقت دیتا ہے جو ’واضح طور پر من مانی، غیر منطقی اور تکلیف دہ‘ ہے۔

       
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: