உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مرکز کی مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم اب کرناٹک میں بھی نافذ ہوگی ، اسکیم کے متعلق خدشات کو دور کرنے کی کوشش

    مرکز کی مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم اب کرناٹک میں بھی نافذ ہوگی ، اسکیم کے متعلق خدشات کو دور کرنے کی کوشش

    مرکز کی مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم اب کرناٹک میں بھی نافذ ہوگی ، اسکیم کے متعلق خدشات کو دور کرنے کی کوشش

    کرناٹک کے محکمہ اقلیتی بہبود اور ریاستی وقف کے تحت منعقدہ اس اہم میٹنگ میں ریاست کے نمائندہ علماء کرام نے حصہ لیا ۔ کرناٹک محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری ابراہیم اڈور ، اسکیم کے نوڈل افسر عطاء الرحمن ، وقف بورڈ کے خصوصی افسر مجیب اللہ ظفاری نے اسکیم کی مکمل تفصیلات علماء کرام کے سامنے پیش کیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    بنگلورو : مرکزی حکومت کی مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم اب ریاست کرناٹک میں بھی نافذ کی جائے گی ۔ اس سلسلے میں شہر کے انفنٹری روڈ میں واقع گلستان شادی محل میں 5 ستمبر 2020 کو پہلی میٹنگ منعقد ہوئی ۔ کرناٹک کے محکمہ اقلیتی بہبود اور ریاستی وقف کے تحت منعقدہ اس اہم میٹنگ میں ریاست کے نمائندہ علماء کرام نے حصہ لیا ۔ کرناٹک محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری ابراہیم اڈور ، اسکیم کے نوڈل افسر عطاء الرحمن ، وقف بورڈ کے خصوصی افسر مجیب اللہ ظفاری نے اسکیم کی مکمل تفصیلات علماء کرام کے سامنے پیش کیں ۔ اس اسکیم کا نام ہے SPQEM (Scheme for providing Quality Education to Madarsas) ۔

    اسکیم کے نوڈل افسر عطاء الرحمن نے کہا کہ یہ کوئی نئی اسکیم نہیں ہے۔ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل (ایچ آر ڈی) میں پہلے سے ہی یہ اسکیم موجود ہے ۔ لیکن ڈیڑھ ماہ قبل اس اسکیم کو وزارت ایچ آر ڈی سے مرکزی وزارت اقلیتی امور میں منتقل کیا گیا ہے ۔ اس تبدیلی کے بعد اسکیم  کو از سر نو نافذ کرنے کیلئے پہلی مرتبہ میٹنگ منعقد کی گئی ہے ۔ عطاء الرحمن نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعہ منتخب مدارس کو One time grant جاری کیا جائے گا ۔ منتخب ٹیچروں کیلئے ماہانہ تنخواہ حکومت کی جانب سے ادا کی جائے گی ۔ دینی مدرسوں میں سائنس لیب، کمپیوٹر لیب اور اس طرح عصری تعلیم کے انفراسٹرکچر کو قائم کرنے کیلئے 5 لاکھ، 10  لاکھ، 15 لاکھ (طلبہ کی تعداد پر منحصر ) ایک وقت کا مالی گرانٹ جاری کیا جائے گا ۔  عصری مضامین جیسے سائنس، علم ریاضی، انگریزی، کنڑا سکھانے کیلئے مقرر کئے گئے ٹیچروں کو ماہانہ تنخواہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جائے گی ۔ فی ٹیچر کو ماہانہ  6 ہزار روپے تنخواہ اس اسکیم میں مقرر کی گئی ہے ۔ ٹیچروں کی تنخواہوں کو ہر سال رینیول کیا جائے گا ۔

    اسکیم کے تحت آنے والے مدرسوں کے طلبہ کو کورس مکمل ہونے پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کا سرٹیفکیٹ دیا جائے گا ۔ کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے خصوصی افسر مجیب اللہ ظفاری نے کہا کہ اس سرٹیفکیٹ کے کئی فائدے ہیں ۔ دینی مدارس سے فارغ ہونے کے بعد طلبہ اگر چاہیں تو اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پی یو سی اور ڈگری کورسوں میں داخلہ لے سکتے ہیں ۔ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی چند ملازمتوں کیلئے بھی طلبہ اہل ہوسکتے ہیں ۔ میٹنگ میں موجود علماء کرام نے اسکیم کی مکمل تفصیلات سننے کے بعد اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ علماء کرام نے اقلیتی محکمہ کے افسروں سے واضح طور پر کہا کہ اسکیم کی آڑ میں دینی مدارس میں حکومت کی کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہئے ۔مدرسوں کی بنیادی تعلیم پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہئے ۔ مدرسہ بورڈ قائم کرنے یا مدرسوں کو سرکاری اداروں سے الحاق کرنے کی کوششیں نہیں ہونی چاہئے ۔ اسکیم میں اندراج کے بعد مدارس کی خود مختاری کو دھکا نہیں پہنچنا چاہئے ۔

    اسکیم کے نوڈل افسر عطاء الرحمن نے کہا کہ یہ کوئی نئی اسکیم نہیں ہے۔ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل (ایچ آر ڈی) میں پہلے سے ہی یہ اسکیم موجود ہے ۔
    اسکیم کے نوڈل افسر عطاء الرحمن نے کہا کہ یہ کوئی نئی اسکیم نہیں ہے۔ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل (ایچ آر ڈی) میں پہلے سے ہی یہ اسکیم موجود ہے ۔


    جماعت اہل سنت کرناٹک کے صدر مولانا محمد تنویر پیراں ہاشمی نے کہا کہ میٹنگ میں مثبت انداز میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اسلامیہ کو مین اسٹریم میں لانے کی یہ ایک کوشش ہے۔ اسکیم کے متعلق چند خدشات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ افسروں نے ان خدشات کو دور کرنے کا بھروسہ دیا ہے ۔ بنگلورو کی سٹی جامع مسجد کے خطیب و امام مولانا مقصود عمران رشادی نے کہا کہ ریاست کے کئی مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ  عصری تعلیم کا بھی نظم پہلے سے ہی موجود ہے ۔ کئی مدارس انگریزی، کنڑا، کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم فراہم کرتے ہوئے آرہے ہیں ، لیکن اس اسکیم کے تحت طلبہ کو عصری تعلیم کی سند حاصل ہوگی ۔ لہذا طلبہ کے فائدے کے پیش نظر اس اسکیم کو اختیار کرنے پر غور و خوص کیا گیا ہے ۔ مولانا مقصود عمران رشادی نے کہا کہ مدارس میں حکومت کی مداخلت ہرگز نہیں ہونی چاہئے ۔ اترپردیش اور بہار کے طرز پر  کرناٹک میں مدرسہ بورڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ مدرسوں کے سرکاری اداروں سے الحاق کی بات نہیں آنی چاہئے ۔ ان تمام باتوں کو اقلیتی محکمہ کے افسروں کے سامنے واضح طور پر رکھا گیا ہے ۔

    کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے رکن مولانا شافعی سعدی نے کہا کہ موقر علماء کرام نے جن خدشات کا اظہار کیا ہے ان کے ازالے کیلئے ایک اور میٹنگ منعقد کی جائے گی ۔ امید ہے کہ اتفاق رائے سے اس اسکیم کو ریاست میں نافذ کیا جائے گا ۔ معروف شیعہ عالم دین اور کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے رکن مولانا اظہر عابدی نے کہا کہ یہ ایک حساس مسئلہ تھا ، لیکن میٹنگ میں مثبت انداز میں گفتگو ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم کو اختیار کرنا لازمی نہیں ہے ، جو مدارس چاہیں اس اسکیم کے تحت آسکتے ہیں، جو نہ چاہیں وہ اس سے دور رہ سکتے ہیں ۔ تمام علماء کرام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مزید دو یا تین میٹنگ اس موضوع پر  ہوں اور اس کے بعد حتمی فیصلہ لیا جائے ۔

    جمعیت علماء ہند کے ریاستی صدر مولانا افتخار احمد قاسمی، جماعت اسلامی ہند سے وابستہ مولانا محمد یوسف کنی، مولانا وحیدالدین خان عمری، جماعت اہل حدیث کے نمائندے مولانا اعجاز احمد ندوی اسطرح مختلف مسلکوں اور مکاتب فکر کے علماء کرام نے اس اہم میٹنگ میں حصہ لیا۔کرناٹک ریاستی وقف بورڈ نے میٹنگ میں ریاست کے مختلف اضلاع کے 404 دینی مدارس کے ناموں کی فہرست پیش کی ہے جن میں سب سے زیادہ بنگلورو کے 91 مدارس شامل ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور ریاستی وقف بورڈ کے افسروں نے اس پہلی میٹنگ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اتفاق رائے سے مرکزی حکومت کی یہ اسکیم مدارس اسلامیہ میں جلد سے جلد نافذ کی جائے گی۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: