اپنا ضلع منتخب کریں۔

    میں 29 مرتبہ دلی گیا، وزیر اعظم سے ملاقات کی، پھر بھی اے پی کو نظر انداز کیا گیا: نائیڈو

    آندھراپردیش کے وزیراعلی این چندرابابونائیڈو: فائل فوٹو۔

    آندھراپردیش کے وزیراعلی این چندرابابونائیڈو: فائل فوٹو۔

    امراوتی۔ آندھراپردیش کے وزیراعلی این چندرابابونائیڈو نے مرکز کی بی جے پی کے ساتھ اتحاد توڑنے پر کہا کہ مرکزی حکومت نے شمال مشرقی ریاستوں سے ہاتھ ملایا ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      امراوتی۔ آندھراپردیش کے وزیراعلی این چندرابابونائیڈو نے مرکز کی بی جے پی کے ساتھ اتحاد توڑنے پر کہا کہ مرکزی حکومت نے شمال مشرقی ریاستوں سے ہاتھ ملایا ہے ۔ ان ریاستوں کو صنعتی ترغیبات فراہم کی جا رہی ہیں لیکن اے پی کو یہ ترغیبات فراہم نہیں کی جارہی ہیں ۔ ہماری ریاست سے یہ امتیاز کیوں ؟انہوں نے ریاستی اسمبلی میں کہا کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اے پی کے بارے میں جو کچھ بھی کہا ہے وہ بہتر نہیں ہے۔ ہمارے وزرا نے مرکزی کابینہ اور بی جے پی کے وزرا نے ہماری ریاستی کابینہ سے استعفی دے دیا ہے۔ تاہم ان وزرا نے ریاست کی بہتری کے لئے کام کیا ہے ۔ ان وزرا نے ان کے محکمہ جات میں کئی اصلاحات لائے ۔ میں ان کی خدمات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔


      انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم کے فیصلہ سے تمام کو مایوسی ہوئی تھی۔ اُس وقت جس ریاست کی تقسیم کی گئی تھی ،اس سے ہوئی ناانصافی کے خاتمہ کے لئے بی جے پی نے کیوں سوال نہیں اٹھائے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے وقت لائے گئے بل کے امور،اس کے بعد راجیہ سبھا میں بل کی پیشی کے موقع پر کئے گئے وعدوں کو پوراکرنے کی یقین دہانی پر ہی بی جے پی کے ساتھ تیلگودیشم نے اتحاد کیا تھا اور اب کہا جا رہا ہے کہ قواعد اس میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔


      بی جے پی جیسی قومی جماعت کا یہ رویہ نامناسب ہے۔ اس طرح کے رویہ سے عوام کا بھروسہ قومی جماعت پر سے اٹھ جائے گا۔ ریاست کے عوام کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کا رویہ اے پی کے ساتھ نامناسب رہا ہے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے 29مرتبہ دورہ دہلی اور اس ضمن میں ملاقاتوں کے باوجود مرکز کی بی جے پی حکومت نے ریاست کے عوام کی ضروریات پر بھی غور نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عوامی خواہشات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔

      First published: