ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تلنگانہ سکریٹریٹ کے انہدام میں مذہبی مقامات کے نقصان پر وزیر اعلیٰ کا اظہار افسوس، تعمیر نو کی یقین دہانی

تلنگانہ سکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کے انہدام کے دوران احاطہ سکریٹریٹ میں موجود دو مساجد اور ایک مندر کی عمارتوں کو پہنچے نقصان پر وزیراعلی جناب کے چندر شیکھرراؤ نے دُکھ و افسوس کا اظہار کیا۔

  • Share this:
تلنگانہ سکریٹریٹ کے انہدام میں مذہبی مقامات کے نقصان پر وزیر اعلیٰ کا اظہار افسوس، تعمیر نو کی یقین دہانی
وزیراعلی کے چندر شیکھرراؤ: فائل فوٹو

تلنگانہ کے نئے سکریٹریٹ کی عمارت کی تعمیر کے لیے وہاں موجودہ عمارتوں کی انہدام کی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ سیکریٹریٹ کے احاطہ میں دفتری عمارتوں کے علاوہ دو مسجدیں تھیں اور ایک مندر بھی تھا۔ خدشہ تھا کہ تین دن سے سخت نگرانی میں جاری اس انہدامی کاروائی میں تینوں مذہبی مقامات کو بھی منہدم کر دیا گیا ہے۔ سیکریٹریٹ میں مذہبی مقامات کی انہدامی کاروائی سے متعلق خدشات پر پوری ریاست میں غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ اس مسئلہ پرآج چیف منسٹر کے آفس سے یہ بیان جاری کیا گیا۔


تلنگانہ سکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کے انہدام کے دوران احاطہ سکریٹریٹ میں موجود دو مساجد اور ایک مندر کی عمارتوں کو پہنچے نقصان پر وزیراعلی کے چندر شیکھرراؤ نے دُکھ و افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ سکریٹریٹ کے احاطے میں ہی فی الحال موجود مندر و مسجد کی عمارتوں سے کہیں زیادہ بہترین و عالیشان مندر و مسجد کی عمارتیں ریاستی حکومت کی جانب سے مکمل سرکاری خرچ پر تعمیر کی جائیں گی۔ وزیراعلی نے کہا کہ "سکریٹریٹ کی جدید عمارت کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کہ مقصد سے قدیم عمارتوں کو منہدم کیا جارہا ہے۔ اس انہدامی کاروائی کے دوران وہاں موجود مندر اور مساجد کی عمارتوں پر دیگر زیر انہدام  ہمہ منزلہ عمارتوں کا ملبہ گر پڑنے کی وجہ سے اُنہیں پہنچے نقصان سے متعلق مجھے اطلاع موصول ہوئی ہے جس کا مجھے افسوس ہے‘‘۔


وزیراعلی نے اسے ایک تکلیف دہ امر قرار دیتے ہوئے اس ضمن میں اپنی جانب سے فکرمندی کا اظہار کیا۔ وزیراعلی نے واضح کیا کہ ’’حکومت قدیم عمارتوں کی جگہ سکریٹریٹ کی جدید عمارت کی تعمیر کا ارادہ ضرور رکھتی ہے لیکن مساجد اور مندر کی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس موقع پر وزیراعلی نے اس بات کا تیقن دیا کہ سکریٹریٹ کے احاطے میں ہی حکومت کی جانب سے چاہے جتنی بڑی رقم ہی کیوں نہ درکار ہو اُسے منظور کرتے ہوئے مکمل سرکاری خرچ پر ان عبادتگاہوں کی دوبارہ تعمیر کی جائیگی۔ مزید برآں یہ کہ حکومت ان مذہبی عمارتوں کی تعمیر موجودہ رقبہ سے بھی کہیں زیادہ وسیع رقبہ پر کرے گی۔ بہت جلد میں از خود مندر اور مسجد کے منتظمین سے اس سلسلہ میں ملاقات کرونگا اور اُنکی مشاورت سے ان عبادتگاہوں کے تعمیری منصوبہ پر عاجلانہ عمل آوری کرتے ہوئے ان نو تعمیر شدہ مذہبی عبادتگاہوں کو اُن کے منتظمین کے حوالے کردیا جائیگا"۔


انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ ایک سیکولر ریاست ہے اور ہر حال میں سیکولرازم کی اس روح کو برقرار رکھاجائیگا۔ یہ ایک غیر متوقع حادثہ تھا۔ وزیراعلی نے زور دیا کہ ہم سب کو بغیر کسی بدگمانی کے اس بات کو سمجھنا چاہئے۔

وہیں، تلنگانہ کے چیف منسٹر کے اس بیان پر  مسلم کمیونیٹی کے لیڈران  اور علماء نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ علماء کا مطالبہ ہے کہ مساجد اسی جگہ پر بنیں اور اس کے لیے حکومت جلد از جلد مسلمانوں کے سماجی و مذہبی لیڈران سے مشاورت کرے۔ علماء کا یہ بھی ماننا ہے کہ  سکریٹریٹ کے احاطہ  میں دو مساجد تھیں اور حکومت صرف ایک مسجد وہ بھی کسی دوسرے مقام پرتعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو کہ خلاف شریعت ہے۔

دوسری طرف ہائی کورٹ آف تلنگانہ نے سیکریٹریٹ کی انہدامی کاروائی کو پیر تک روکنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ نئے سیکرٹریٹ کی تعمیر میں ماحولیات کے اصولوں اور جلد بازی میں کی جانے والی انہدامی کاروائی پر پیٹیشن کے بعد ہائی کورٹ نے یہ احکامات جاری کئے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 10, 2020 03:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading