ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کیا بنگلورو والے جعفرشریف کو بھول گئے ہیں؟ خراج عقیدت پیش کرنے کی بھی لوگوں کو نہیں ملی فرصت؟

کانگریس کے بزرگ لیڈر جعفرشریف کو انتقال کرگئے دو ماہ مکمل ہورہے ہیں۔

  • Share this:
کیا بنگلورو والے جعفرشریف کو بھول گئے ہیں؟ خراج عقیدت پیش کرنے کی بھی لوگوں کو نہیں ملی فرصت؟
کیا بنگلورو والے جعفرشریف کو بھول گئے ہیں؟ ملک اور ملت کے ایک بڑے ، قد آور لیڈر کو خراج عقیدت پیش کرنے کی بھی لوگوں کو فرصت نہیں ملی؟

کانگریس کے بزرگ لیڈر،سابق مرکزی وزیر مرحوم سی کے جعفرشریف کو رسمی طور پر تعزیت پیش کرنے کیلئےبنگلورو میں اجلاس عام منعقد ہوا۔ قدوس صاحب عیدگاہ میں منعقدہ اجلاس میں غلام نبی آزاد، ملیکارجن کھرگے، کے رحمن خان،سی ایم ابراہیم سمیت کئی بڑے لیڈروں نے شرکت کی۔ مقررین نے کہاکہ ملک اور ملت کی ترقی بلخصوص محکمہ ریل کی ترقی کیلئے جعفرشریف کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ اجلاس میں بنگلورو کے کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن اور کوئنس روڈ کو جعفرشریف کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس تجویز پر سابق وزیراعلی سدارامیا اور دیگر نے یقین دلایا کہ وہ اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کریں گے۔


کوئنس روڈ کو جعفرشریف کانام دئے جانے کا میں مطالبہ کروں گا۔جعفرشریف کا نام بنگلورو میں زندہ رہنا چاہئے۔ حالانکہ انکی پیدائش چتردرگا میں ہوئی۔ لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں بنگلورو میں گزاری۔


کانگریس کے بزرگ لیڈر جعفرشریف کو انتقال کرگئے دو ماہ مکمل ہورہے ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد سابق صدرجمہوریہ پرنپ مکھرجی سمیت کئی بڑے لیڈروں نے بنگلورو پہنچ کر انہیں خراج عقیدت  پیش کی۔ جعفرشریف کو رسمی طور پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے بنگلورو میں گزشتہ کئی دنوں سے اجلاس عام کی تیاریاں ہورہی تھیں۔


ریاست کے کئی مسلم لیڈران تیاریوں میں پیش پیش تھے۔ تعزیتی اجلاس کے متعلق مسجدوں، مقامی اخباروں، سوشیل میڈیا کے ذریعہ خوب تشہیرکی گئی۔  لیکن اس کے باوجود اجلاس میں لوگوں کی تعداد کافی کم نظرآئی۔ زیادہ ترکرسیاں خالی خالی تھیں۔ کیا بنگلورو کے لوگ اتنے کم وقفہ میں ملک اور ملت کے ایک بڑے لیڈر کو بھول گئے؟ ۔ کیا جب تک اقتدار ہے تب تک ہی کسی شخص کی عزت، تعظیم اور تعریف کی جاتی ہے؟۔ بے حسی کا یہ عالم کیا عوام بلخصوص مسلمانوں کیلئے لمحہ فکریہ نہیں؟۔
First published: Jan 19, 2019 10:53 PM IST