உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Shivaji statue: تلنگانہ میں شیواجی مجسمہ پر تصادم، اب بودھن میں حالات پرامن، 12 افرادگرفتار

    Youtube Video

    اہلکار نے بتایا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات، جو اتوار کے روز جاری کیے گئے تھے، پیر کو بھی قصبے میں جاری رہے اور صورتحال پر منحصر ہے کہ امتناعی احکامات کو ہٹانے یا بڑھانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس دوران لاٹھی چارج کے خلاف بودھن شہر میں کچھ ہندو تنظیموں کی طرف سے بند منایا جا رہا ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ بند کی کال کے پیش نظر 213 لوگوں کو احتیاطی حراست میں لیا گیا تھا۔

    • Share this:
      تلنگانہ پولیس نے بتایا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج (Chhatrapati Shivaji Maharaj) کے مجسمے کی تنصیب کو لے کر دو گروپوں کے ارکان کے درمیان احتجاج ہوا۔ اس دوران پتھراؤ بھی کیا گیا۔ اس واقعہ کے ایک دن بعد پیر کے روز ضلع نظام آباد کے قصبے بودھن میں حالات پرامن ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک چار مقدمات درج کیے گئے اور پتھر بازی میں ملوث کل 12 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

      پولیس کے مطابق ہفتہ کو بودھن قصبے کے ایک سنگم پر ایک گروپ کی جانب سے چھترپتی شیواجی کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا جس پر دوسرے گروپ کے ارکان نے اعتراض کیا تھا جس کے نتیجے میں اتوار کو دونوں گروپوں نے احتجاج کیا جس کے بعد مظاہرین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔

      پولیس نے دونوں گروپوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے اور حالات کو قابو میں کرلیا، حالانکہ پتھراؤ کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل زخمی ہوگیا۔ بودھن قصبہ میں حالات پرامن اور قابو میں ہیں، ایک سینئر پولیس اہلکار نے پیر کو پی ٹی آئی کو فون پر بتایا اور کہا کہ گشت کو تیز کر دیا گیا ہے اور دھرنے لگائے گئے ہیں۔

      مزید پڑھیں:بہار میں بن رہے دنیا کے سب سے بڑے مندر Ramayan Temple کیلئے مسلم کنبے نے عطیہ کی ڈھائی کروڑ کی زمین



      اہلکار نے بتایا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات، جو اتوار کے روز جاری کیے گئے تھے، پیر کو بھی قصبے میں جاری رہے اور صورتحال پر منحصر ہے کہ امتناعی احکامات کو ہٹانے یا بڑھانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس دوران لاٹھی چارج کے خلاف بودھن شہر میں کچھ ہندو تنظیموں کی طرف سے بند منایا جا رہا ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ بند کی کال کے پیش نظر 213 لوگوں کو احتیاطی حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ کچھ جگہوں پر مالکان نے رضاکارانہ طور پر اپنی دکانیں اور کاروباری ادارے بند کیے جب کہ دیگر مقامات پر وہ کھلے رہے۔

      مزید پڑھیں: دہلی میں نہیں ہوگی واٹرلاگنگ ، دہلی حکومت کر رہی ہے بڑے منصوبے پر کام


      ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ کے ارکان نے بتایا کہ بودھن میونسپل کونسل نے مجسمہ کی تنصیب کے حوالے سے ایک قرارداد پاس کی تھی جبکہ دوسری سیاسی جماعت کے کارکنوں نے کہا کہ اسے نصب کرنے کی اجازت نہیں ہے اور مجسمہ کو جنکشن سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: