ہوم » نیوز » No Category

وزیر اعلیٰ سدرامیا نے گلبرگہ کے بارش زدہ علاقوں کا کیا فضائی دورہ،25 کروڑ روپئے کی ایمرجنسی امداد

وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ضلع گلبرگہ میں بارش سے متاثرہ کچھ دیہاتوں کا معائنہ کیا اور متاثرہ عوام اور کسانوں سے ملاقات کی۔

  • ETV
  • Last Updated: Sep 29, 2016 08:53 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
وزیر اعلیٰ سدرامیا نے گلبرگہ کے  بارش زدہ علاقوں کا کیا فضائی دورہ،25 کروڑ روپئے کی ایمرجنسی امداد
وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ضلع گلبرگہ میں بارش سے متاثرہ کچھ دیہاتوں کا معائنہ کیا اور متاثرہ عوام اور کسانوں سے ملاقات کی۔

گلبرگہ۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے  بارش سے متاثرہ ضلع گلبرگہ کے لئے25 کروڑ روپئے کی ایمرجنسی امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ضلع گلبرگہ میں بارش سے متاثرہ کچھ دیہاتوں کا معائنہ کیا اور متاثرہ عوام اور کسانوں سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ نے متاثرین کو ہر ممکنہ اقدام کی یقین دہانی کرائی۔ دوسری جانب اسمبلی کے لیڈر آف اپوزیشن جگدیش شیٹر نے بھی ضلع گلبرگہ کا دورہ کیا۔


 گزشتہ دنوں ہوئی موسلا دھار بارش سے ضلع گلبرگہ کافی متاثر ہوا ہے۔  تعلقہ جات سیڑم، ملکھیڑ، چنچولی، چیتاپور کے دیہات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے پیدل دورہ کرنے کے بجائے کچھ متاثرہ علاقوں کا صرف فضائی دورہ کیا۔ سدرامیا نے بتایا کہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 35 ہزار ہیکٹر اراضی پر پھیلی کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ 120 کروڑ  کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا  ہے، جبکہ1400 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق  ضلع گلبرگہ کو بارش کی وجہ سے کم از کم 300 کروڑ روپیوں کا نقصان پہنچا  ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہر ممکنہ اقدام کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق متاثرین کو معاوضہ دیا جائیگا۔ نقصانات کی پوری تفصیلات ابھی نہیں ملی ہیں۔  ایک ہفتے کے اندر سروے مکمل کر لیا جائیگا تب معلوم ہوگا کہ فصلوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ پوری تفصیلات آنے کے بعد معاوضہ دینا شروع کیا جائیگا۔ ایمر جنسی امداد کے طور پر25 کروڑ روپئے جاری کئے  جا رہے ہیں۔


دوسری جانب کرناٹک اسمبلی کے لیڈر آف اپوزیشن جگدیش شیٹر نے بھی ضلع گلبرگہ کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ شیٹر نے متاثرہ عوام سے ملاقات  کی۔ اس موقع پر شیٹر نے سدرامیا  کے فضائی سروے کی چٹکی لی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ پیدل دورہ کرتے کسانوں سے  ملتے تو  تکلیف کا صحیح اندازہ کر سکتے تھے۔ صرف فضائی سروے کرنے سے حقیقت نہیں معلوم ہوگی۔ عہدیدار جو بولیں گے اسی پر یقین کرنا پڑیگا۔

First published: Sep 29, 2016 08:53 PM IST