உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس پارٹی میں 2 دہائیوں کے بعد غیر گاندھی صدر کا انتخاب، یہ ہے سابقہ صدور کی فہرست

    ملکارجن کھرگے اور ششی تھرور

    ملکارجن کھرگے اور ششی تھرور

    کانگریس کے صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ 17 اکتوبر کو ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 19 اکتوبر کو ہوگی اور اسی دن نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ پردیش کانگریس کمیٹی (پی سی سی) کے 9,000 سے زیادہ مندوبین رائے شماری میں ووٹ دیں گے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad, India
    • Share this:
      انڈین نیشنل کانگریس (Indian National Congress) کے صدر کے طور پر سونیا گاندھی کی جگہ کون نیا صدر بنے گا اس پر مہینوں کی ہلچل کے بعد ملکارجن کھرگے (Mallikarjun Kharge) اور ششی تھرور (Shashi Tharoor) میدان میں ہیں، یہ دونوں لیڈران غیر گاندھی قائدین ہیں۔ انھیں گاندھی خاندان کی مداخلت پر اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دو دہائیوں میں صدر کے عہدے کے لیے انتخابات کا مشاہدہ کیا جاتا رہا ہے۔ آخری رائے شماری نومبر 2000 میں ہوئی تھی جب سونیا گاندھی نے جتیندر پرساد کو بڑے فرق سے شکست دی تھی۔

      130 سال سے زیادہ پرانی پارٹی کی تاریخ میں سونیا گاندھی سب سے طویل عرصے تک پارٹی کی صدر رہیں۔ انہوں نے 1998 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سیتارام کیسری سے پارٹی کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور اس کے بعد سے 2017 تا 2019 کے درمیان دو سال کی مدت کو چھوڑ کر وہ اقتدار پر فائز ہیں۔ اس دوران راہول گاندھی کانگریس کے صدر بنے تھے۔

      17 اکتوبر کو رائے شماری

      کانگریس کے صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ 17 اکتوبر کو ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 19 اکتوبر کو ہوگی اور اسی دن نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ پردیش کانگریس کمیٹی (پی سی سی) کے 9,000 سے زیادہ مندوبین رائے شماری میں ووٹ دیں گے۔

      ششی تھرور ایک سابق سفارت کار ہیں، انھوں نے پارٹی میں تبدیلی لانے کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کھرگے جیسے لیڈر تبدیلی نہیں لا سکتے اور وہ قدیم نظام کو جاری رکھیں گے۔ دوسری طرف کھرگے نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف لڑائی ہے۔ یہ امیدوار 8 اکتوبر تک اپنا پرچہ نامزدگی واپس لے سکتے ہیں اور امیدواروں کی حتمی فہرست اسی دن شائع کی جائے گی۔

      اب غیر گاندھی خاندان کے قائدین قدیم پارٹی کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں، یہاں ان رہنماؤں پر ایک نظر ہے جو گاندھی-نہرو خاندان کے پس منظر سے تعلق نہیں رکھتے لیکن ہندوستان کی آزادی کے بعد سے اب تک پارٹی صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

      جے بی کرپالانی 1947:

      کانگریس کی قیادت جے بی کرپلانی کر رہے تھے جب ملک نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی۔ آچاریہ کرپلانی کے نام سے مشہور جے بی کرپالانی ملک کی آزادی کی کئی تحریکوں میں پارٹی کے معاملات میں شامل رہے۔ چار بار کے لوک سبھا ایم پی جے بی کرپالانی نے بعد میں پارٹی چھوڑ کر کسان مزدور پرجا پارٹی بنائی۔

      پتابھی سیتارامیا (1948-49):

      سیتارامیا نے 1948 میں اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی حمایت سے کانگریس کے صدارتی مقابلے میں حصہ لیا اور جیت کر ابھرے۔ سیتارامیا 1952 تا 1957 تک مدھیہ پردیش کے گورنر تھے۔ وہ ان سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہوں نے علیحدہ ریاست آندھرا پردیش کا مطالبہ کیا تھا۔

      پرشوتم داس ٹنڈن 1950:

      1950 میں ٹنڈن نے کرپلانی کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد اعلیٰ عہدے کا دعویٰ کیا۔ برسوں بعد انہوں نے مبینہ طور پر نہرو کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

      یو این ڈھیبر (59-1955):

      کانگریس کے صدر کے طور پر نہرو کے پہلے دور کے بعد ڈھیبر نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اور چار سال تک قیادت پر رہے۔ انہوں نے 1948 تا 1954 تک سوراشٹرا کے وزیر اعلیٰ بھی رہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      مسلم ورلڈ لیگ نے پہلی مرتبہ کہی ہندوستانی سے وابستہ یہ بڑی بات، جانئے کیا کہا؟

      نیلم سنجیوا ریڈی (63-1960):

      ریڈی نے اندرا گاندھی کی جگہ 1960 میں کانگریس کی صدر بنی۔ تاہم انہوں نے سیاست چھوڑ دی اور 1967 میں پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ ہندوستان کے چھٹے صدر بھی تھے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      جموں وکشمیر: امت شاہ نے بارہمولہ ریلی میں کہا- ’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان سے بات کرو، لیکن میں کہتا ہوں...‘



      کے کامراج (67-1964)

      اطلاعات کے مطابق کانگریس صدر کے طور پر اندرا کا عروج کامراج کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکا۔ کنگ میکر کے نام سے مشہور کامراج نے اندرا گاندھی کی قیادت والی کانگریس سے علیحدگی کے بعد کانگریس (O) کی تشکیل کی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: