ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں اب گئوکشی پر پابندی، گورنر نے منظور کیا آرڈیننس، قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سخت سزا

انسداد گئو کشی بل میں مویشی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مویشی کی تعریف گائے اور گائے کی نسل سے جڑے تمام جانوروں کے طور پر بتائی گئی ہے۔ اس لحاظ سے گائے، بیل، سانڈ، بچھڑے، بھینس کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہوگی۔ نئے بل سے صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس کو مستشنی رکھا گیا ہے۔

  • Share this:
کرناٹک میں اب گئوکشی پر پابندی، گورنر نے منظور کیا آرڈیننس، قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سخت سزا
کرناٹک میں اب گئوکشی پر پابندی، گورنر نے منظور کیا آرڈیننس

کرناٹک میں اب گئو کشی پر مکمل پابندی عائد ہوچکی ہے۔ ریاست کے گورنر واجو بھائی والا نے اس سلسلے میں حکومت کے آرڈیننس کو منظوری دے دی ہے۔ گورنر کے دستخط کے بعد ریاست بھر میں گئو کشی پر پابندی کا نیا بل قانون کی شکل میں نافذ ہوگیا ہے۔ اس عارضی قانون کے مطابق گائے، بیل، گائے کی نسل سے جڑے تمام جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی عائد رہے گی۔ صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس کو ذبح کرنے کی اجازت ہوگی۔


وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے انسداد گئو کشی بل 2020 کو تقریبا ایک ماہ قبل اسمبلی میں منظور کیا ہے۔ لیکن یہ متنازعہ بل ریاست کی قانون ساز کونسل میں منظور نہ ہوسکا۔ اس کے بعد ریاستی کابینہ نے آرڈیننس کے ذریعہ بل کو نافذ کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔ حال ہی میں ریاستی حکومت نے یہ آرڈیننس گورنر واجو بھائی والا کو روانہ کیا تھا۔ اب گورنر نے اس آرڈیننس پر اپنے دستخط کردیئے ہیں۔ انسداد گاو کشی بل 2020 جسے اب آرڈیننس کی شکل میں نافذ کیا گیا ہے اس کے اہم نکات کچھ یوں ہیں۔


انسداد گئو کشی بل میں مویشی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مویشی کی تعریف گائے اور گائے کی نسل سے جڑے تمام جانوروں کے طور پر بتائی گئی ہے۔ اس لحاظ سے گائے، بیل، سانڈ، بچھڑے، بھینس کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہوگی۔ نئے بل سے  صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس کو مستشنی رکھا گیا ہے۔ یعنی صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس کے ذبیحہ کی اجازت ہوگی۔ نئے بل میں سزا کے سخت ترین دفعات کو شامل کیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے کو Cognizable offence یعنی قابل دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس نئے ترمیم شدہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کم سے کم 3 سال کی سزا ہوگی اور  زیادہ سے زیادہ 7 سال کی سزا مقرر کی گئی ہے۔


گورنر کے دستخط کے بعد ریاست بھر میں گئو کشی پر پابندی کا نیا بل قانون کی شکل میں نافذ ہوگیا ہے۔


جرمانہ کے لحاظ سے قانون کی پہلی مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر 50 ہزار سے 5 لاکھ روپئے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ دوسری مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ سے 10 لاکھ روپئے تک کا جرمانہ عائد ہوگا۔ سب انسپکٹر کو چھان بین کرنے کی اجازت ہوگی۔ نہ صرف دکانوں ، گھروں میں بھی چھان بین کا اختیار ہوگا۔گائے، بیل اور اس نسل سے جوڑے تمام مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ گائے اور بیل کی حفاظت کیلئے کام کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بھی بات 2020 کے انسداد گئو کشی بل میں درج ہے۔

جمعیت القریش بیف مرچنٹس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ریاست میں 1964 کا قانون پہلے ہی سے موجود ہے۔ اس قانون میں گائے کی ذبیحہ پر پابندی ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر قاسم اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ نئے قانون کے ذریعہ حکومت کا مقصد عوام کو پریشان کرنا ہے۔

*آرڈیننس کیا ہے*

کرناٹک ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ ایوب احمد خان نے کہا کہ آرڈیننس ایک عارضی قانون ہے۔ اس کی معیاد 6 ماہ تک کیلئے ہوتی ہے۔ جب اسمبلی کا اجلاس جاری نہیں رہتا ہے تو  حکومت کو آرڈیننس کے ذریعہ کسی بل کو نافذ کرنے کا اختیار ہے۔ جیسے ہی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتا ہے تو بل کو جسے آرڈیننس کی شکل میں نافذ کیا گیا ہے، اسمبلی کے ایوانوں میں پیش کرنا پڑھتا ہے۔ اس لحاظ سے گئو کشی پر پابندی کا یہ آرڈیننس قانون کی شکل میں اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے تک جاری رہے گا۔ اگر آرڈیننس کی 6 ماہ کی معیاد مکمل  ہوجائے تو حکومت مزید 6 ماہ کیلئے دوبارہ آرڈیننس لا سکتی ہے۔ وظیفہ یاب سرکاری افسر قاضی انیس الحق نے کہا کہ گورنر کے دستخط کے فوری بعد آرڈیننس قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 05, 2021 11:05 PM IST