உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Telangana: تلنگانہ میں شیواجی مجسمہ پر ہنگامہ آرائی! نظام آبادمیں حالات کشیدہ، اب کیا ہےصورت حال؟

    Youtube Video

    نظام آباد میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دھرم پوری اروند (Dharmapuri Arvind) نے کہا کہ بودھن میونسپلٹی میں اس تجویز کی منظوری کے بعد ہی چترپتی شیواجی کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔ لیکن حکمران تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی حمایت یافتہ اے آئی ایم آئی ایم قائدین نے مجسمہ کی تنصیب کی مخالفت کی۔

    • Share this:
      تلنگانہ کے ضلع نظام آباد (Telangana’s Nizamabad) کے قصبہ بودھن میں اتوار 20 مارچ 2022 کی دوپہر کو شہر کے قلب میں چھترپتی شیواجی کے مجسمے کی تنصیب کو لے کر دو گروپوں کے درمیان تصادم کے بعد کشیدگی پھیل گئی ہے۔ پولیس نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کرنے والے دونوں گروپوں پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ نظام آباد کے پولیس کمشنر کے آر ناگراجو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حملہ میں ایک کانسٹیبل بھی زخمی ہوا ہے۔

      پولیس کمشنر کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (Bharatiya Janata Party) کے کچھ لیڈروں نے اتوار کے روز صبح میں بودھن شہر کے امبیڈکر سرکل میں شیواجی کا مجسمہ نصب کیا۔ بی جے پی لیڈروں نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں بودھن میونسپلٹی میں اس سلسلے میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے۔ تاہم مجسمہ کی تنصیب کے لیے ابھی تک کوئی اجازت نہیں دی گئی۔

      ناگاراجو نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں نے مجسمہ کی تنصیب کے لیے مناسب طریقہ کار پر عمل نہیں کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تجویز کو مقامی ریونیو ڈویژنل افسر کے ذریعے ضلع کلکٹر کو بھیجنا ہوگا اور کلکٹر منظوری کے لیے میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو لکھے گا۔ شیواجی کے مجسمے کی رات بھر کی تنصیب کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (All India Majlis-e-Ittehadul Muslimeen) کے کارکنوں کے احتجاج اور پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر جمع ہو کر مجسمہ کی تنصیب کے خلاف نعرے بازی کی۔ بی جے پی اور وشو ہندو پریشد (Vishwa Hindu Parishad) کے کارکنوں نے جوابی نعرے بازی کی جس کے نتیجے میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

      مزید پڑھیں: KCR: مرکزتلنگانہ سے دھان کی خریداری کرے، تلنگانہ کے وزیر اعلی اور ٹی آر ایس قائدین ڈالیں گے دباؤ

      صورتحال سنگین ہوتے ہی پولیس فورس حرکت میں آگئی۔ نظام آباد سے اضافی پولیس دستے بودھن پہنچ گئے تاکہ متحارب ہجوم کو منتشر کرکے حالات کو قابو میں کیا جاسکے۔ ناگاراجو نے کہا کہ ہم نے کچھ احتیاطی گرفتاریاں کی ہیں اور دونوں طرف سے مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔ ہم نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت پابندیاں عائد کی ہیں جس میں علاقے میں چار یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔ بودھن میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے خصوصی پولیس پکٹس بھی تعینات کیے گئے تھے۔ صورتحال اب قابو میں ہے۔

      مزید پڑھیں: اگلے 5 سالوں میں ہندوستان میں 3.2 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا جاپان، PM مودی نے کہا : اقتصادی رشتے ہوں گے مضبوط

      نظام آباد میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دھرم پوری اروند (Dharmapuri Arvind) نے کہا کہ بودھن میونسپلٹی میں اس تجویز کی منظوری کے بعد ہی چترپتی شیواجی کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔ لیکن حکمران تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی حمایت یافتہ اے آئی ایم آئی ایم قائدین نے مجسمہ کی تنصیب کی مخالفت کی۔ وہ اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ اگر شیواجی کا مجسمہ نصب کیا جاتا ہے تو حکام کو ٹیپو سلطان کا مجسمہ بھی نصب کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔

      اروند نے شیواجی کے مجسمے کو جگہ سے ہٹانے کے خلاف حکام سے پوچھا اور انتباہ کیا کہ وہ قومی ہیرو شیواجی کا موازنہ ٹیپو سلطان سے کیسے کر سکتے ہیں جس نے ہندوؤں کا قتل عام کیا تھا؟
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: