Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

    حیدرآباد کے دلت طالب علم کی خودکشی معاملہ میں مودی کے وزیر دتاتریہ نامزد

    حیدرآباد۔ حیدرآباد یونیورسٹی میں ریسرچ کے ایک دلت طالب علم کی خود کشی کے معاملے میں مودی حکومت کے وزیر بنڈارو دتاتریہ اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپپا راؤ سمیت کل چار لوگوں پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated: Jan 18, 2016 07:10 PM IST
    • Share this:
    • author image
      NEWS18-Urdu
    حیدرآباد کے دلت طالب علم کی خودکشی معاملہ میں مودی کے وزیر دتاتریہ نامزد
    حیدرآباد۔ حیدرآباد یونیورسٹی میں ریسرچ کے ایک دلت طالب علم کی خود کشی کے معاملے میں مودی حکومت کے وزیر بنڈارو دتاتریہ اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپپا راؤ سمیت کل چار لوگوں پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    حیدرآباد۔ حیدرآباد یونیورسٹی میں ریسرچ کے ایک دلت طالب علم کی خود کشی کے معاملے میں مودی حکومت کے وزیر بنڈارو دتاتریہ اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپپا راؤ سمیت کل چار لوگوں پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان تمام پر طالب علم کو خودکشی کے لئے اکسانے اور درج فہرست ذات و درج فہرست قبائل، ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ مرکزی وزیر اور وائس چانسلر کے ساتھ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے لیڈروں (سشیل کمار اور وشنو) کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ سائبرآباد پولیس کمشنری علاقے کے گچی باولی تھانے میں درج کیا گیا ہے۔


    شکایت میں کہا گیا ہے کہ خودکشی کے لئے دتاتریہ ذمہ دار ہیں، کیونکہ انہوں نے ہی انسانی وسائل کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کو وہ خط لکھا تھا جو دلت طالب علموں کی معطلی کا سبب بنا تھا۔ محنت کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) دتاتریہ نے احاطے میں موجود 'ملک مخالف' اور 'سماج مخالف' عناصر کے خلاف کارروائی کی مانگ کی تھی۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی مطالعہ کے محکمہ کے سال دوم  کے طالب علم روہت ویملا کو اتوار کی رات ریسرچ طالب علموں کے ہاسٹل میں اپنے کمرے میں چھت سے لٹکتا پایا گیا تھا۔


    روہت کی خودکشی کے بعد سے یونیورسٹی میں کشیدگی ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ واقعہ کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ طالب علم کی طرف سے اٹھائے گئے اس جان لیوا قدم کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ اور بی جے پی لیڈر بنڈارو دتاتریہ کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ گزشتہ سال اگست میں اے بی وی پی کارکنوں سے جھڑپ کی وجہ سے امبیڈکر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے ایس اے) سے منسلک پانچ دلت طالب علموں کو معطل کر ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا۔


    مظاہرہ کر رہے طالب علموں نے پوسٹ مارٹم کے لئے روہت کی لاش لینے پہنچی پولیس کو بھی روکنے کی کوشش کی۔ وہ 'پولیس لوٹ جاؤ' کے نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے لاش کو کمرے میں بند کر دیا۔ تاہم، پولیس وہاں تک پہنچنے میں کامیاب رہی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال پہنچایا گیا۔

    طالب علموں کے مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی کے احاطے میں تشدد کے واقعہ کو روکنے کے لئے بڑی تعداد میں پولیس فورسز کی تعیناتی کی گئی ہے۔ یونیورسٹی کے دلت، بائیں بازو طالب علم تنظیموں نے بند کا اعلان کیا ہے۔
    First published: Jan 18, 2016 07:07 PM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading