ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

قطب بنگلورو حضرت توکل مستان شاہ سہروردی کا در عوام کیلئے کھلا ، عقیدت مندوں میں خوشی کی لہر

قطب بنگلورو کے طور پر جانی جانے والی یہ درگاہ روحانی فیوض و برکات کا مرکز ہے ۔ نہ صرف مسلمان دیگر مذاہب کے عقیدت مند کثیر تعداد میں یہاں آتے ہیں ۔

  • Share this:
قطب بنگلورو حضرت توکل مستان شاہ سہروردی کا در عوام کیلئے کھلا ، عقیدت مندوں میں خوشی کی لہر
قطب بنگلورو حضرت توکل مستان شاہ سہروردی کا در عوام کیلئے کھلا ، عقیدت مندوں میں خوشی کی لہر

بنگلورو کے کاٹن پیٹ میں واقع حضرت توکل مستان شاہ سہروردی رحمت اللہ علیہ کی درگاہ میں اب عقیدت مندوں کی چہل پہل دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ تین ماہ کے وقفہ کے بعد 20 جون سے درگاہ کے دروازے عوام کیلئے کھول دئے گئے ہیں ۔ جوں ہی درگاہ کے کھلنے کی خبرعام ہوئی یہاں عقیدت مند کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا ۔ کورونا کی وبا کے پیش نظر درگاہ کمیٹی نے یہاں حکومت کی تمام گائیڈ لائنس کو نافذ کیا ہے ۔ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک درگاہ میں حاضری کی اجازت ہوگی ۔ درگاہ کے گیٹ پر درجہ حرارت کی جانچ اور سنیٹائزر کا انتظام کیا گیا ہے۔ ماسک پہن کر سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے زیارت ، درود و سلام ، ذکر اور دعائیں انجام دینے کی زائرین سے درخواست کی گئی ہے ۔ تبرک اور شیرنی تقسیم نہیں کی جائے گی ۔  مزار شریف کی جالی کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ مزار شریف کے باہری حصہ میں ایک دوسرے سے فاصلہ کا خیال رکھتے ہوئے مختصر وقت میں زیارت مکمل کرنی ہوگی ۔ مزار شریف پر پھول اور چادر کی چڑھائی درگاہ کے خادموں کے ذریعہ ہوگی ۔


درگاہ کی انتظامیہ کمیٹی کے سکریٹری محمد عنایت اللہ نے کہا کہ عام طور پر درگاہ کے اندرونی حصے میں زائرین کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں ۔ لیکن کورونا کی خطرناک بیماری کے پیش نظر کئی شرائط یہاں عائد کی گئی ہیں ۔ درگاہ کے اندر  ہجوم کی شکل پیدا نہ ہو ، اس لئے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں ۔ درگاہ کی انتظامیہ کمیٹی کے صدر کے نثار احمد نے کہا کہ حضرت توکل مستان شاہ رحمت اللہ علیہ کا فیض حاصل کرنے کیلئے بلا لحاظ مذہب و ملت لوگ یہاں آتے ہیں ۔ خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد رہتی ہے ۔ اس لئے درگاہ میں بڑے پیمانے پر حفاظتی اور احتیاطی اقدامات کئے گئے ہیں ۔ درگاہ کمیٹی نے حاجی محمد عظمت اللہ کو مجاور مقرر کیا ہے۔


تین ماہ کے وقفہ کے بعد 20 جون سے درگاہ کے دروازے عوام کیلئے کھول دئے گئے ہیں ۔
تین ماہ کے وقفہ کے بعد 20 جون سے درگاہ کے دروازے عوام کیلئے کھول دئے گئے ہیں ۔


کرناٹک میں ویسے تو 8 جون سے ہی حکومت نے عبادت گاہوں کو کھولنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس درگاہ کو 18 دنوں کی تاخیر سے کھولنے کی ایک وجہ مجاوری کو لیکر پیدا ہوا تنازع ہے۔  بتایا جارہا ہے کہ درگاہ حضرت توکل مستان کی  مجاوری حاصل کرنے کیلئے دو گروہوں کے درمیان رسہ کشی کئی دنوں سے جاری تھی ۔ اس درگاہ کے مجاور حاجی نثار احمد کے انتقال کے بعد یہ تنازع پیدا ہوا ۔ کرناٹک وقف بورڈ کے سامنے بھی یہ قضیہ پیش ہوا ۔ درگاہ کمیٹی کے سکریٹری محمد عنایت اللہ نے کہا کہ بائی لاز کے مطابق کمیٹی نے حاجی محمد عظمت اللہ کو مجاور مقرر کیا ہے ۔

قطب بنگلورو کے طور پر جانی جانے والی یہ درگاہ روحانی فیوض و برکات کا مرکز ہے ۔ نہ صرف مسلمان دیگر مذاہب کے عقیدت مند کثیر تعداد میں یہاں آتے ہیں ۔ خاص طور پر بچوں کی شفا یابی کیلئے لوگ اس درگاہ کا رخ کرتے ہیں ۔ ریاست کرناٹک کے معروف ادیب منیر احمد جامی کے مطابق حضرت توکل مستان شاہ رحمت اللہ علیہ عرب کے سیلانی بزرگ تھے ۔ میسور کی خداد سلطنت کے دور میں بنگلورو آئے ، دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کرتے ہوئے یہیں سکونت پذیر ہوئے ۔ ان کے انتقال کے بعد نواب حیدر علی اور ان کے فرزند  ٹیپوسلطان نے ان کی مزار شریف پر مقبرہ تعمیر کروایا ۔
First published: Jun 20, 2020 11:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading