ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تمل ناڈو: اردو زبان و ادب کی فعال شخصیت ڈاکٹر عبیدالرحمن احساس کاکورونا وائرس سے انتقال

تمل ناڈو: اردو زبان و ادب کی فعال شخصیت ڈاکٹر عبیدالرحمن احساس کا انتقال، کورونا وائرس سے ہوئی موت، اردو ادبی حلقہ میں گہرے دکھ اور درد کا اظہار۔

  • Share this:
تمل ناڈو: اردو زبان و ادب کی فعال شخصیت ڈاکٹر عبیدالرحمن احساس کاکورونا وائرس سے انتقال
تمل ناڈو: اردو زبان و ادب کی فعال شخصیت ڈاکٹر عبیدالرحمن احساس کا انتقال، کورونا وائرس سے ہوئی موت، اردو ادبی حلقہ میں گہرے دکھ اور درد کا اظہار۔

تمل ناڈو میں اردو زبان و ادب کی تن من دھن سے خدمت کرنے والے پروفیسر عبید الرحمن احساس اب نہیں رہے۔ 14 جون بروز اتوار کی رات تقریبا 2 بجے چنئی کے راجیو گاندھی جنرل اسپتال میں عبیدالرحمن احساس نے آخری سانس لی۔ 64 سالہ عبید الرحمن کو سانس کے پھولنے کی شکایت تھی۔ اسپتال میں بھرتی کے بعد ان میں کورونا وائرس پائے جانے کی بھی تصدیق ہوئی۔ انتقال کے بعد کووڈ 19 کے ضابطہ کے مطابق ان کی تدفین عمل میں آئی۔ پیر کی دوپہر شہر کے امیرالنساء قبرستان میں پروفیسر عبید الرحمن احساس کو سپرد لحد کیا گیا۔ عبیدالرحمن احساس کے اچانک انتقال پر تمل ناڈو کے اردو ادبی حلقہ میں گہرے دکھ اور درد کا اظہار کیا جارہا ہے۔


پروفیسر عبید الرحمن احساس تقریبا 20 سال تک چنئی کی مشہور نیو کالج کے شعبہ اردو کے صدر تھے۔ اس کالج میں  ڈگری کے کورسوں میں اردو ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی تھی لیکن پروفیسر عبید الرحمن ، اے محمد اشرف اور دیگر کی کوششوں سے  یہاں  بی اے اردو کا مستقل شعبہ سال 2015 میں قائم ہوا۔شعبہ کے موجودہ صدر پروفیسر طیب خرادی نے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر عبید الرحمن کافی متحرک تھے۔ انکی کوششوں سے بی اے اردو کا شعبہ قائم ہوا۔ انکی بیداری مہم سے اردو مضمون اختیار کرنے طلباء و طالبات  کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ وظیفہ یابی کے بعد بھی آپ اردو شعبہ کی ترقی کیلئے سرگرم تھے۔دلچسپ بات یہ تھی کہ پروفیسر عبیدالرحمن احساس  نے اردو پڑھنے والے غریب طلباء کی فیس کی ادائیگی کیلئے اردو انڈومنٹ فنڈ قائم کیا۔ اس فنڈ کیلئے آپ نے خود ایک لاکھ روپئے کی رقم جمع کی۔  نیو کالج کے سابق سکریٹری اے محمد اشرف نے بھی ایک لاکھ روپے اس فنڈ کیلئے دئے، تاکہ اردو کے شعبہ میں زیر تعلیم  طلباء کی مدد اور حوصلہ افزائی کی جاسکے۔


مدراس یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر قاضی حبیب احمد نے کہا کہ ڈاکٹر عبیدالرحمن احساس تمل ناڈو کے مقبول ترین اور اردو کے فعال کارکن تھے. اردو کے کاز کے لئے دامے درمے ہمیشہ کمربستہ رہتے تھے. ان کی رحلت تمل ناڈو میں اردو کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ عبید الرحمن احساس کے دو مجموعے کلام غزل درپن اور رباعی درشن شائع ہوئے ہیں اور ادبی حلقہ میں ان کے شعری مجموعوں کی خوب پذیرائی ہوئی ہے۔ نثر میں انکی دو کتابیں سلطنت والا جاہی کا گم نام شاعر، تمل ناڈو کے تعلیمی اداروں کی اردو خدمات شائع ہوکر منظر عام پر آئی ہیں۔ درس و تدریس، شاعری اور نثر کی تخلیق، اتنا ہی نہیں اردو کی محفلیں، مشاعرے، سمینار منعقد کرنے میں عبیدالرحمن پیش پیش رہا کرتے تھے۔


آپ اردو کی کئی تنظیموں سے وابستہ تھے۔ منتخب شاعروں اور ادیبوں کی مالی اعانت کرنا آپکی خاموش خدمت تھی۔تمل ناڈو کے مشہور شاعر و ادیب علیم صبا نویدی، مدراس یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق صدر پروفیسر سید سجاد حسین، نیو کالج کے سابق سکریٹری اے محمد اشرف، کاتب ملک العزیز، شاہد مدراسی اور تمل ناڈو کے دیگر شعراء اور ادباء نے عبیدالرحمن احساس کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اور انکے انتقال کو اردو زبان و ادب کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔تمل ناڈو جہاں علاقائی زبان ٹمل کا ہر سطح پر غلبہ ہے۔ اردو اور دیگر اقلیتی زبانوں کیلئے ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہتاہے۔ سرکاری سطح پر اردو کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتاہے،  اسطرح کے کئی نا مساعد حالات میں اردو کا پرچم بلند کرنے والے، اردو تعلیم، اردو زبان و ادب کے فروغ کیلئے ہمیشہ کوشاں اور سرگرم رہنے والے پروفیسر عبیدالرحمن احساس کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔
First published: Jun 16, 2020 07:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading