உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دکنی خبریں: تلنگانہ میں یکم فروری سے کھلے اسکول لیکن ابھی بھی چھوٹے بچوں کیلئے یہ ہے مشکل

    Youtube Video

    جون میں اسکولوں کو جانے والے بچے اب فروری میں اسکولوں جاریں وہ بھی دو کلاسوں کے بچے۔ نویں اور دسویں کے بچے۔پچھلے سال سے کورونا اور لاک ڈوان

    • Share this:
      جون میں اسکولوں کو جانے والے بچے اب فروری میں اسکولوں جاریں وہ بھی دو کلاسوں کے بچے۔ نویں اور دسویں کے بچے۔پچھلے سال سے کورونا اور لاک ڈوان ۔ اسکول کے بچوں کو گھروں میں قید کر کے رکھ دیا تھا ۔اور اماں باوا ۔ ٹیچروں کا کام کر رے تھے۔ ٹیچراں اپنے گھروں سے ئچ بچوں کو آن لائن پڑھا رے تھے۔۔۔ ویسے چھوٹے بچوں کو ابھی بھی آن لائنچ پڑھنا ہے۔ مگرنویں اور دسویں کے بچے اسکولوں کو جاریں۔۔بحر الحال لاک ڈوان میں بچو ں کے علاوہ۔ کس کا کیا حال تھا۔

      نویں اور دسویں کلاس کے بچوں کو اب پڑائی کا مزہ آئینگا کئی کو بولے تو پہلی فروری سے اسکولاں کھل گئے مگر ابھی ہلو ہلو دو کلاسوں کے بچوں کچ بلاریں۔ پچھلا سال بہت تکلیف دہ رہا ۔۔۔ کونسا ایسا شعبہ ہے جس کو کرونا ستیناس نئی کرا۔ لوگوں کے زندگیاں چلے گئے ۔ نوکریاں چلے گئے ۔ بچوں کے پڑیاں خراب ہوگئے ۔۔۔پورے دس مینہوں کے بعد وہ بھی کتتے کی پابندیوں کے ساتھ اسکولاں کھولوں بول کے گورنمنٹ بولی ۔ وہ بھی دوکلاسوں کے بچوں کے واسطے ۔۔۔کئی کو بولے تو گئے سو سال کو تو دسویں کے بچوں کو پرموٹ کردئے ۔ نئے پڑے سو والا بھی پاس ہوگیا اور جو کئی سالوں سے فیل ہورا تھا انئی بھی پاس ہوگیا۔۔۔ اب ایسےئچ یہ بھی کرے تو کیسا بچے پڑائی چور ہوجاتے اور قابلیت تیل لینے کو جاتی ۔۔۔۔بات تو صحیح ہے مگر زندگی کو پٹری پہ لانا بھی ضروری ہے۔۔۔اس واسطے جب تھیٹراں کھل گئے ۔۔۔ بازاراں کھل گئے لوگاں بازاروں میں ایسا گھم ریں وہ لوگوں کو دیکھے تو ایسا دکھ را کرونا آیا تھا کی نئی۔ جیسا معلوم ہورا۔۔۔۔۔اور شادیوں کا تو پوچھو چھ نکو۔۔۔ شادی خانوں کو دیکھے ایسا دکھ را ۔ دس بارہ سالوں سے کسی کی شادی نئی ہوئی کی کیا ہے کی۔۔۔

      جب سب کچھ کھل گیا تو اسکولاں کئی کو نئی کھولنا بول کے صرف دوکلاساں نو اور دسویں کو شروع کردئے۔۔۔ مگر ابھی چھوٹے بچوں کو آن لائن ئچ پڑھنا ہے۔۔۔ آن لائن پڑھائی بھی کوئی آسان کام نئی ہے۔۔۔آن لائن پڑھائی کی شروعات میں کتتے مصیبتاں ہوئے معلوم ئچ ہے آپ لوگوں کو ۔ گھر میں ایک بچہ ہے تو چلو ٹھیک ہے مگر جن کے پاس چار پانچ بچے ان کو تو ' پوچھو ئچ نکو۔۔۔۔اماں کو فون اور باوا کا فون ۔۔۔ دو بچے تو مینیج ہوجاریں اب دو اور بچوں کا کیسا۔ ان کے واسطے اور دو فوناں نئی تو ایک لیب ٹاپ نئی تو ٹیبلیٹ خریدنا ضرور ی ہوگیا ۔۔اور لوگاں خریدے بھی ۔۔ ایسے میں چاندی تو موبائیل اور کمپوٹر کمپنیوں کی ہوگئی۔۔۔۔دنیا کے پورے کاروباراں رکے ہوئے تھے۔ صرف اس وقت دھندا چلا بولے تو ۔۔ کرانہ دکانوں کا اور فون اور کمپیوٹر وں کااور بچوں کے واسطے آن لائن کلاس نیا تجربہ تھا کئے مزے کے کلاس چل رے تھے ۔۔۔ اماں باوا ۔ بچوں کو جتا فونوں سے کھلینے کو روکتے تھے اُتائچ بچوں کو خودیئچ فوناں اور کمپیوٹراں دیئے۔ اور بچے بھی اس خوب فائدہ اٹھائے ۔۔ ایک طرف کلاس چل ری۔۔ دوسری طرف گیم۔۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: