உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    200 Years or urdu journalism: دوسوسالہ جشن اردوصحافت شایان شان پیمانہ پرمنانےکافیصلہ

    Youtube Video

    چندرسریواستو نے اپنی صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کو بامقصد بنانے کے لئے اردو دان طبقہ میں شعور بیدار کرنا ہوگا اور اس کے لئے ان تھک محنت و جدوجہد کو لازمی قرار دیتے ہوئے انہوں نے اردو زبان کے حق کے حصول کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔

    • Share this:
      تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن (Telangana Urdu Working Journalists Federation) نے اردو صحافت کا دوسو سالہ جشن کو شایان شان طور پر منانے کے سلسلہ میں مختلف تجاویز پر غور کرتے ہوئے طئے کیا کہ ان تقاریب میں تمام اخبارات کے مدیران کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کرتے ہوئے ایک تفصیلی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں ایک مشاورتی اجلاس فیڈریشن کے دفتر واقع وجئے نگر کالونی میں ایک منعقد ہوا‘ جس کی صدارت ممتاز بزرگ صحافی حسین علی خان المعروف چندرسریواستو (مقیم امریکہ) نے کی۔

      چندرسریواستو نے اپنی صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کو بامقصد بنانے کے لئے اردو دان طبقہ میں شعور بیدار کرنا ہوگا اور اس کے لئے ان تھک محنت و جدوجہد کو لازمی قرار دیتے ہوئے انہوں نے اردو زبان کے حق کے حصول کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔

      انھوں نے کہا کہ اردو زبان ریاست تلنگانہ میں زبانی طور پر دوسری سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے مگر عملی طور پر اردو زبان اور اردو صحافت سے معاندانہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔ اردو صحافی اپنے حقوق کے حصول کے لئے حکومت سے صرف نمایندگیوں پر بھروسہ کے بجائے جدوجہد کو ترجیح دیں۔ چندرا سریواستو نے فیڈریشن کو مشورہ دیا کہ وہ اس مرتبہ اردو صحافی کو میڈیا اکیڈمی کا چیرمین بنانے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالیں چوں کہ میڈیا اکیڈمی کے قیام سے لیکر اب تک کسی اردو صحافی کو چیرمین کا عہدہ نہیں دیا گیا جس کے باعث اردو صحافی میڈیا کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے سرکاری اقدامات میں الگ تھلگ کردیئے گئے ہیں اور وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے حکومت سے صحیح رابطہ قائم نہیں کر سکے۔

      معروف صحافی شوکت علی خان نے کہا کہ فیڈریشن ہر ماہ ایک سینئر صحیفہ نگارکو مدعو کرتے ہوئے ان کے صحافتی سفر‘ ان کے تجربات و مشاہدات سے نئی نسل کے صحافیوں اور قارئین کو واقف کروانے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اردو صحیفہ نگاروں کی زندگی کے نشیب و فراز کی روشنی میں آج کے دور میں ان کی خدمات سے متعارف کرواتے ہوئے ان کی معلومات سے استفادہ کیا جانا چاہئے۔

      یہ بھی پڑھئے: 'دو بچوں کی موت سے ٹوٹ گیا تھا، لیکن'...، اسمبلی میں پہلی تقریر میں CM شندے ہوئے جذباتی

      صدر فیڈریشن ایم اے ماجد نے صحافت اور صحافیوں کی زبوں حالی کا ذکر کیا اور حالات سے متاثر اردو صحافیوں کے لئے تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن اردو صحافت کے تمام گوشوں کو اس جشن کا حصہ بنانے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔

      یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے 90 سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک میچ میں بنائے پانچ بڑے ریکارڈ

      جواینٹ سکریٹری حبیب علی الجیلانی نے مہمانوں کا استقبال اور اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کی ایک سال پر محیط تقاریب کی تفصیلات سے واقف کروایا۔ ایڈیٹر گواہ ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، ایڈیٹر صدائے حسینی جناب جعفر حسین، سی ای اور وائی دز نیوز جناب ایم اے نعیم‘ نیوز ہیڈ روبی نیوز ڈاکٹر آصف علی، جنرل سیکریٹری فیڈریشن سید غوث محی الدین، فیڈریشن کے کنوینر حیدرآباد محمد عبد المحسن نے اجلاس سے خطاب کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔ آرگنائزنگ سکریٹری محمد امجد علی نے کار روائی چلائی اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: