உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi HC نے ٹوئٹر کی سرزنش کی، کہا-اگر ٹرمپ کو بلاک کرسکتے ہیں تو ہندو دیوی دیوتاوں کے خلاف پوسٹ کرنے والے یوزرس کو کیوں نہیں

    دیوی دیوتاوں پر متنازع پوسٹ کو لے کر دہلی ہائی کورٹ نے کی ٹوئٹر کی سرزنش۔

    دیوی دیوتاوں پر متنازع پوسٹ کو لے کر دہلی ہائی کورٹ نے کی ٹوئٹر کی سرزنش۔

    عدالت نے مرکزی حکومت کو بھی اس سلسلے میں جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔ بنچ نے حکومت سے پوچھا کہ کیا انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت ایسے اکاونٹس پر کارروائی کی ضرورت ہے۔ یہ پوسٹ ایتھسٹ ریپبلک نامی ٹویٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹویٹر کی سرزنش کی۔ عدالت نے سوال کیا کہ جب آپ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بلاک کر سکتے ہیں تو ہندو دیوی دیوتاؤں پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹ پر پابندی کیوں نہیں لگاتے۔ عدالت نے کہا کہ آپ کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹوئٹر ایسے حساس معاملات پر کتنا سنجیدہ ہے۔

      عدالت نے ٹوئٹر سے پوچھا-معاملے میں کارروائی کی؟
      قائم مقام چیف جسٹس ویپن سانگھی اور جسٹس نوین چاولہ کی بنچ ماں کالی پر کیے گئے قابل اعتراض ریمارکس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔ اس دوران عدالت نے ٹوئٹر سے پوچھا کہ آپ نے یہ تبصرہ کرنے والے اکاؤنٹ کے خلاف کیا کارروائی کی ہے؟

      یہ بھی پڑھیں:
      Nationwide Strike: آج اور کل Bharat Bandh کا آپ پر کیا پڑے گا اثر، جانئے 7 اہم باتیں

      ہائی کورٹ نے ٹوئٹر سے مانگا جواب
      سینئر وکیل سدھارتھ لوتھرا نے ٹویٹر کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ ٹویٹر نے قابل اعتراض مواد کو ہٹا دیا ہے اور اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کرائی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ٹوئٹر ایسے اکاؤنٹس کو بلاک کیوں نہیں کرتا؟ بنچ نے ٹویٹر کو ہدایت کی کہ وہ صارف کے اکاؤنٹ کو مستقل طور پر معطل کرنے سے متعلق اپنی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے جواب داخل کرے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      9ریاستوں میں ہندووں کو’اقلیت‘کا درجہ دینے کا مطالبہ،مرکزی حکومت نے SCمیں داخل کیاحلف نامہ

      مرکزی حکومت سے عدالت نے پوچھا یہ سوال
      عدالت نے مرکزی حکومت کو بھی اس سلسلے میں جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔ بنچ نے حکومت سے پوچھا کہ کیا انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت ایسے اکاونٹس پر کارروائی کی ضرورت ہے۔ یہ پوسٹ ایتھسٹ ریپبلک نامی ٹویٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: