ہوم » نیوز » وطن نامہ

کیجریوال کی بیٹی کا بڑاسوال، کیا لوگوں کو تعلیم اور ہیلتھ سہولیات دلانے والا دہشت گرد ہوسکتاہے؟

ہرشتا نے کہا کہ انہیں بی جے پی (BJP) دہلی میں 200 اراکین پارلیمنٹ اور 11 ویزر اعلی کو یہاں لانے دیجئے لیکن دہلی میں دو کروڑ عام آدمی بھی تشہیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 11 فروری کو پتہ چلے گا کہ لوگوں نےکام یا الزاموں کی بنیاد پر ووٹ کیا ہے۔

  • Share this:

دہلی اسمبلی انتخابات 2020 (Delhi Assembly Election 2020) کے دوران سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کے درمیان زبانی جنگ جاری ہے۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال (Arvind Kejriwal) کی بیوی سنیتا کے بعد اب ان کی بیٹی ہرشتا کیجریوال (Harshita Kejriwal) نے بھی اپنے والد کا بچاؤ کیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق ہرشتا نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ سیاست غلط ہے، لیکن اس کی سطح اور نچے جارہی ہے۔ ہرشتا نے اپنے والد کو مخالفین کے ذریعے دہشت گرد کہے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ دہشت گردی ہے اگر لوگوں کو بہتر ہہیلتھ سہولیات ملے؟ کیا یہ دہشت گردی ہے اگر بچوں کو اچھی تعلیم ملے؟ کیا یہ دہشت گردی ہے اگر بجلی اور پانی سپلائی میں سدھار ہو۔

ہرشتا نے کہا کہ میرے والد ہمیشہ سماجی خدمات کو انجام دیتے آرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ وہ (اروند کیجریوال) میرے بھائی، ماں اور اور  فیملی  کے  ہر  ممبر  کو  صبح 6  بجے  جگا  کر  بھاگوت  گیتا  کا  پاٹھ  کراتے  تھے ۔ اس کے ساتھ ہی ہم سب انسان کا انسان سے ہو بھائی چارہ گانا بھی گاتے تھے اور اس کے ارے میں ہمیں تعلیم بھی دیتے تھے۔ کیا یہ دہشت گردی ہے۔



ہرشتا نے کہا کہ انہیں بی جے پی (BJP) دہلی میں 200 اراکین پارلیمنٹ اور 11 ویزر اعلی کو یہاں لانے دیجئے لیکن دہلی میں دو کروڑ عام آدمی بھی تشہیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 11 فروری کو پتہ چلے گا کہ لوگوں نےکام یا الزاموں کی  بنیاد پر ووٹ کیا ہے۔
First published: Feb 05, 2020 10:53 AM IST