ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

ایکسکلوزیو: کرناٹک میں مسلم طبقہ کیلئے خصوصی ریزرویشن کی مانگ، جسٹس ناگ موہن داس کمیشن کے سامنے مطالبہ پیش

جسٹس ناگ موہن داس نے کہا کہ مسلم طبقہ کے ریزرویشن میں اضافہ یا خصوصی ریزرویشن کے مطالبہ پر غور کرنا کمیشن کے دائرے کار میں نہیں ہے۔ لیکن کمیشن نے اس سلسلے میں آئی ایک عرضداشت کو مسترد نہیں کیا ہے بلکہ اسے ریاستی حکومت کو روانہ کیا ہے۔

  • Share this:
ایکسکلوزیو: کرناٹک میں مسلم طبقہ کیلئے خصوصی ریزرویشن کی مانگ، جسٹس ناگ موہن داس کمیشن کے سامنے مطالبہ پیش
ایکسکلوزیو: کرناٹک میں مسلم طبقہ کیلئے خصوصی ریزرویشن کی مانگ

بنگلورو۔ کرناٹک میں خصوصی ریزرویشن کیلئے مسلم طبقہ ایک بار پھر آواز اٹھا رہا ہے۔ بنگلورو میں جسٹس ایچ این ناگ موہن داس کمیشن کے سامنے ایک تحریری عرضداشت پیش کی گئی ہے۔ داونگیرے شہر کی سماجی تنظیم ہما چنتنا ویدیکے کے صدر ایڈوکیٹ انیس پاشاہ نے مسلم طبقہ کو خصوصی ریزرویشن کیلئے درخواست پیش کی ہے۔ بنگلورو میں نیوز 18 اردو سے خاص گفتگو کے دوران جسٹس ناگ موہن داس نے کہا کہ مسلم طبقہ کیلئے خصوصی ریزرویشن کی ضرورت پر تحریری درخواست ایڈوکیٹ انیس پاشاہ نے پیش کی ہے۔ جسٹس ناگ موہن داس نے کہا کہ یہ کمیشن صرف ایس سی اور ایس ٹی طبقوں کے ریزرویشن میں اضافہ کی مانگ پر غور کرنے کیلئے قائم کیا گیا ہے۔ اس یک رکنی کمیشن کو ریاستی حکومت نے اکتوبر 2019 میں تشکیل دیا ہے۔


تاہم مسلم ریزرویشن کے سلسلے میں انیس پاشاہ کی جانب سے دی گئی درخواست کمیشن نے مسترد نہیں کی ہے۔  بلکہ اس درخواست کو ضروری کارروائی کیلئے ریاستی حکومت کو بھیجا گیا ہے۔ جسٹس ناگ موہن داس نے کہا کہ کمیشن ایس سی طبقہ کے موجودہ 15 فیصد ریزرویشن کو 17 فیصد اور ایس ٹی طبقہ کے 3 فیصد ریزرویشن کو 7 فیصد تک بڑھانے کی تجویز پر غور کررہا ہے۔ اس سلسلے میں کمیشن نے ریاست کے مختلف شہروں کا دورہ کیا ہے اور درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے عرضیاں موصول کی ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ تقریبا مکمل ہوچکی ہے اور جلد ہی یہ  رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کی جائے گی۔


بنگلورو میں نیوز 18 اردو سے خاص گفتگو کے دوران جسٹس ناگ موہن داس نے کہا کہ مسلم طبقہ کیلئے خصوصی ریزرویشن کی ضرورت پر تحریری درخواست ایڈوکیٹ انیس پاشاہ نے پیش کی ہے۔


جسٹس ناگ موہن داس نے کہا کہ مسلم طبقہ کے ریزرویشن میں اضافہ یا خصوصی ریزرویشن کے مطالبہ پر غور کرنا کمیشن کے دائرے کار میں نہیں ہے۔ لیکن کمیشن نے اس سلسلے میں آئی ایک عرضداشت کو مسترد نہیں کیا ہے بلکہ اسے  ریاستی حکومت کو روانہ کیا ہے۔ جسٹس ناگ موہن داس کہتے ہیں کہ جسٹس راجیند سچر  کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ انتہائی ابتر حالت میں زندگی گذار رہا ہے اور اس طبقہ کو حکومت کی مدد کا ملنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ کرناٹک میں پسماندہ طبقات کے زمرہ میں مسلمانوں کو تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں 4 فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔  اس چار فیصد ریزرویشن کے پیچھے طویل جدوجہد کارفرما ہے۔1990 میں چنپا ریڈی کمیشن نے مسلمانوں کو پسماندہ طبقہ قرار دیتے ہوئے ریزرویشن کی سفارش کی تھی۔ 1993 ۔94 میں اس وقت کے کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیرمین  کے رحمن خان نے اقلیتوں کی معاشی اور سماجی صورتحال پر ریاستی سطح پر سروے کروایا تھا۔ ان تمام کوششوں کے بعد 1994 میں ریاستی حکومت نے مسلمانوں کو 2 بی زمرے میں شامل کیا اور 1995 سے  لیکر اب تک تعلیم اور سرکاری ملازمت میں مسلمانوں کو 4 فیصد ریزرویشن کی سہولت حاصل ہے۔گزشتہ چند سالوں میں ایس سی اور ایس ٹی کے ریزرویشن میں اضافہ کا پرزور مطالبہ کیا جارہا ہے۔ دلت طبقہ کے اس مطالبہ پر غور و خوض کرنے کیلئے حکومت نے جسٹس ناگ موہن داس یک رکنی کمیشن تشکیل دی ہے۔

دوسری جانب مسلم دانشور کہتے ہیں کہ مسلم طبقہ کے ریزرویشن میں بھی اضافہ کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ مسلمانوں کی موجودہ 14 فیصد  آبادی کے لحاظ سے 4 فیصد ریزرویشن کی شرح کافی کم ہے۔ اقلیتی محکمہ کے ریٹائرڈ افسر آر نثار احمد کہتے ہیں کہ 2004 میں جسٹس ورما کمیشن نے ریاست میں مسلمانوں کے ریزرویشن کو 4 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس سلسلے میں اس وقت مسلم لیڈروں کی جانب سے کوششیں بھی کی گئیں۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی لیکن اقتدار میں تبدیلی کے بعد یہ معاملہ سرد خانہ میں چلا گیا۔نثار احمد کہتے ہیں کہ موجودہ مسلم لیڈروں، مسلم تنظیموں کو چاہئے کہ وہ جسٹس ورما کمیشن کی سفارش کو نافذ کرنے کیلئے تحریک شروع کریں۔ اس سلسلے میں حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ نثار احمد کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے تعلیم اور ملازمت کے شعبہ میں ریزرویشن میں اضافہ کیا جانا ضروری ہے۔
First published: Jun 25, 2020 08:36 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading