ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

ملکوں کی ترقی دشمنی سے نہیں دوستی سے ممکن ہے، معروف افسانہ نگار اصغر وجاہت کا بیان

ہند پاک تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے اصغر وجاہت نے کہا کہ دشمنی لمبے عرصے تک قائم نہیں رہ سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں کئی ممالک ایک دوسرے کے مخالف تھے ، کئی سالوں تک ان ملکوں کے درمیان دشمنی اور ٹکراؤ کے حالات تھے لیکن وہ تمام ملک اب آپس میں دوست بنے ہوئے ہیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمنی سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا اور ترقی دوستانہ تعلقات کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے۔

  • Share this:
ملکوں کی ترقی دشمنی سے نہیں دوستی سے ممکن ہے، معروف افسانہ نگار اصغر وجاہت کا بیان
ملکوں کی ترقی دشمنی سے نہیں دوستی سے ممکن ہے، معروف افسانہ نگار اصغر وجاہت کا بیان

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم رہنے چاہئیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی دشمنی سے نہیں دوستی سے ہی ممکن ہے ۔ ہندی کے معروف افسانہ نگار اصغر وجاہت نے بنگلورو میں یہ بات کہی۔ بنگلورو کے الیائنس فرانسے آڈیٹوریم میں اصغر وجاہت کا مشہور ڈرامہ جس نے لاہور نئیں دیکھیا اسٹیج کیا جارہا ہے۔ ڈرامہ کی پیشی سے قبل نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے اصغر وجاہت نے کہا کہ انہوں نے اپنے ڈرامہ کے ذریعہ انسانیت اور امن و اتحاد کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔


ہند پاک تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے اصغر وجاہت نے کہا کہ دشمنی لمبے عرصے تک قائم نہیں رہ سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ  یورپ میں کئی ممالک ایک دوسرے کے مخالف تھے ، کئی سالوں تک ان ملکوں کے درمیان دشمنی اور ٹکراؤ کے حالات تھے لیکن وہ تمام ملک اب آپس میں دوست بنے ہوئے ہیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمنی سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا اور ترقی دوستانہ تعلقات کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے۔


اصغر وجاہت نے کہا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بھی اچھے تعلقات قائم ہوں، دونوں ملکوں کو برابر کی قدر اور عزت ملے۔ اس سوچ اور فکر کے ساتھ اگر دونوں ملک آگے بڑھیں تو اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ اصغر وجاہت نے کہا کہ دنیا میں بڑے بڑے ڈکٹیٹر گزرے ہیں ، جنہوں نے لاکھوں لوگوں کا قتل کروایا۔ لیکن آج ان کا نام و نشان مٹ چکا ہے ۔ لہذا ظلم سے، جبر سے، طاقت سے، لوگوں کو دبا کر، عوام کی خواہشات کو مار کر کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ دنیا کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے۔


اصغر وجاہت نے کہا کہ دنیا کو تباہی و بربادی سے بچانے کیلئے انسانیت، محبت اور بھائی چارگی کو ہر وقت اور ہر  ہمیشہ اہمیت اور فروغ دینا چاہئے۔ یہی پیغام انسانوں کے بیج میں اور ملکوں کے بیچ میں عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ڈرامہ جس نے لاہور نئیں دیکھیا بھی پیار و محبت، انسانیت و ہمدردی کے پیغام پر مبنی ہے ۔

بنگلورو میں الیائنس فرانسے اور کٹھپتلیان تھیٹر گروپ کے اشتراک سے اصغر علی کا ڈرامہ "جس نے لاہور نئیں دیکھیا" اسٹیج کیا جارہا ہے۔ بنگلورو کے معروف ڈرامہ نگار ظفر محی الدین کی ہدایت کاری میں 27 اور 28 فروری کی شام ہر دن دو شوز منعقد کئے جارہے ہیں۔ یہ ڈرامہ تقسیم وطن کی ایک دلچسپ کہانی پر مشتمل ہے۔

اس ڈرامہ کی پیشی سے قبل اصغر وجاہت نے بنگلورو کے فنکاروں، ادیبوں، شائقین ڈرامہ اور ادب کی ایک نشست سے خطاب کیا ۔ الیائنس فرانسے کے چرنجیوی سنگھ آڈیٹوریم میں منعقدہ اس نشست میں حاضرین نے اصغر وجاہت سے انکی ادبی ، ثقافتی سرگرمیوں ، ڈرامہ کے متعلق کئی سوالات پوچھے ۔ ہندوستان پاکستان کے تعلقات، موجودہ صورتحال پر بھی کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس نشست میں حصہ لینے والے ہندی کے فنکار دیوس گپتا نے کہا کہ اصغر وجاہت کا ڈرامہ جس نے لاہور نئیں دیکھیا ایک دلچسپ پیش کش ہے۔ ملک کی تقسیم کے بعد ایک ہندو بوڑھیا پاکستان میں ہی رہ جاتی ہے وہاں کے کٹر مسلمان نہیں چاہتے کہ بوڑھیا پاکستان میں رہے ۔ اس طرح یہ ڈرامہ ایک ہندو بوڑھیا کی کہانی پر مبنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کا خوبصورت پیغام اس ڈرامہ نے دیا ہے۔ دیوس گپتا نے کہا کہ اگر اس پورے ڈرامہ سے تقسیم وطن کے پہلو کو نکال بھی دیا جائے تو یہ ناٹک اتنا ہی معنی خیز رہے گا ۔ کیونکہ یہ ناٹک آپسی تعلقات اور سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بات کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ایسی کئی  سوسائٹیاں بستی ہیں جہاں ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر طبقہ کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، مختلف ذاتوں اور طبقوں کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں ۔ یہ ڈرامہ ایسی سوسائٹیوں کو ایڈریس کرتا ہے ۔ ایک سماج میں ایک ساتھ امن اور شانتی کے ساتھ لوگ کیسے رہ سکتے ہیں اس پر اصغر وجاہت کا ڈرامہ روشنی ڈالتا ہے۔

ڈرامہ کے ہدایت کار اور الیائنس فرانسے کے صدر ظفر محی الدین نے کہا کہ جس نے لاہور نئیں دیکھیا ڈرامہ کا نام سنتے ہی لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے سلسلہ میں بات کی جارہی ہے ۔ ظفر محی الدین نے کہا کہ اس ڈرامے میں پاکستان اور تقسیم وطن کے متعلق بات ضرور کی گئی ہے ، لیکن لوگوں کو چاہئے کہ وہ پہلے ڈرامہ دیکھیں پھر اپنی رائے قائم کریں۔  انہوں نے کہا کہ یہ ایک صاف ستھرا ڈرامہ ہے۔ ڈرامہ کا مقصد قومی یکجہتی اور انسانی جذبات کی پاسداری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حبیب تنویر اس ڈرامے کو کئی بار پیش کرچکے ہیں ۔ سعادت حسن منٹو، راجیندر سنگھ بیدی کی کہانیوں کی طرح یہ بھی ایک مقبول ترین ڈرامہ ہے۔ نہ صرف ایک یا دو ملکوں کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کی سیاسی، سماجی کشمکش کا جواب اس ڈرامے میں مل سکتا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 28, 2021 01:02 PM IST