உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بعض طاقتیں ملک میں فرقہ پرستی پھیلا کر سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش کر رہی ہیں:دگوجے

    حیدرآباد۔  آل انڈیاکانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری و تلنگانہ میں کانگریس امور کے انچارج دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ بعض طاقتیں ملک میں فرقہ پرستی پھیلا کر سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔

    حیدرآباد۔ آل انڈیاکانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری و تلنگانہ میں کانگریس امور کے انچارج دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ بعض طاقتیں ملک میں فرقہ پرستی پھیلا کر سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔

    حیدرآباد۔ آل انڈیاکانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری و تلنگانہ میں کانگریس امور کے انچارج دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ بعض طاقتیں ملک میں فرقہ پرستی پھیلا کر سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      حیدرآباد۔  آل انڈیاکانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری و تلنگانہ میں کانگریس امور کے انچارج دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ بعض طاقتیں ملک میں فرقہ پرستی پھیلا کر سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔


      انہوں نے شہر حیدرآباد کے تاریخی چارمینار کے پاس راجیو گاندھی سدبھاونا یاترا کی سلور جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ1857میں ملک کی آزادی کی لڑائی میں ہندووں اور مسلمانوں نے مل کر لڑی تھی تاہم اس کے بعد سے یہ تنظیمیں ہندووں اور مسلمانوں کو بھڑکانے کا کام کرتی آرہی ہیں اور ان ہی کی وجہ سے ملک کی تقسیم ہوئی۔انہوں نے کہاکہ ان ہی تنظیموں کے نظریہ کی وجہ سے گاندھی جی کا قتل کیا گیا اور ایسا ہی نظریہ رکھنے والے ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔ ان کا نظریہ فرقہ پرستی پھیلا کر بھائی بھائی کو لڑا کر سیاست کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فرقہ پرستی کا زہر پھیلایا جارہا ہے،حالانکہ اس ملک کا مزاج محبت اور اہنسا کا ہے۔ملک کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے شہر حیدرآباد کے تاریخی چارمینار سے 19اکتوبر 1990کو اس سدبھاونا یاترا کی شروعات کی تھی۔دگ وجئے سنگھ نے کہاکہ جب جب اس ملک میں فسادات ہوں گے تو سب سے زیادہ نقصان اگرکسی کا ہوگا تو وہ کانگریس پارٹی کا ہوگاکیونکہ کانگریس پارٹی جوڑنے کا کام کرتی ہے اور دوسرے توڑنے کا کام کرتے ہیں۔


      مسٹر دگوجے سنگھ  نےکانگریس کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ سدبھاونا کی برقراری کے لیے کام کریں کیونکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہی کانگریس کا نظریہ ہے اور اس کی پالیسی ہے ۔
      انہوں نے کہا کہ مذہب اور طبقہ کے نام پر ایک دوسرے کو بانٹ کر کانگریس کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی ایک دوسرے کو جوڑنے کا کام کرتی ہے جبکہ دوسری جماعتیں توڑنے کا کام کرتی ہیں اور اپنی سیاسی روٹیاں سینکتی ہیں۔


      انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج سدبھاونا او ر نظریہ کا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آج فرقہ پرستی سماج کو توڑنے کا کام کررہی ہے،فرقہ پرستی ایک زہر ہے ۔

      کانگریس کا ہمیشہ یہ ماننا ہے کہ اس کے لیے پارٹی پیچھے ہے اور ملک آگے ہے۔اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں کانگریس کے حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے کہا کہ ملک میں فرقہ پرستی بڑھتی جارہی ہے۔


      مسٹر دگوجے سنگھ کہاکہ حکومت اور مرکزی وزرا کی طرف سے فرقہ پرستی پھیلائی جارہی ہے۔انہوں نے دادری واقعہ پر اترپردیش کے ایک وزیر،مسٹر اعظم خان کا نام لئے بغیر کہا کہ اترپردیش کے ایک وزیر نے ملک کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کو خط لکھنے کی بات کہی ہے لیکن جب تک اس ملک کا ہندو سیکولر ہے تب تک ملک کے مسلمانوں کے لیے یہ سیکولر طبقہ ہی اقوام متحدہ ہے ۔


      انہوں نے کہا کہ داداری واقعہ پر سیکولر ذہنیت رکھنے والے مصنفین اور دانشوروں کی جانب سے حکومت کو ایوارڈز واپس کئے جارہے ہیں جو دراصل ہماری جیت ہے۔ ان دانشوروں نے اپنے ایوراڈز واپس کرتے ہوئے کروڑوں سیکولر ہندووں کا سر اونچا کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ ان ہندو دانشوروں کو سلام کرتے ہیں جو دادری واقعہ پر اپنے ایوارڈز واپس کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک سے ابھی سیکولرازم ختم نہیں ہوا ہے۔


      مسٹر دگوجے سنگھ نے کہاکہ لوگ سیکولر ہیں لیکن ان کو فرقہ پرست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر ازم کی یہ جیت ہے کہ کئی ٹی وی چینلز کے ایڈیٹرزبھی سیکولرازم کو زندہ رکھنے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ان میں انگریزی کے چینلز بھی شامل ہیں۔
      انہوں نے کہا کہ فرقہ پرستی کا مقابلہ ملک کا سیکولرزام کر رہا ہے اور ہندوستان کی یکجہتی کو مضبوط کر تا آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کایہ خواب تھا کہ اتحاد برقرار رہے اور اسی اتحاد کی برقراری کے لیے گاندھی جی ،اندراگاندھی اور راجیو گاندھی نے قربانی دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں آتی اور جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی یکجہتی کے لیے پارٹی کو ئی معنی نہیں رکھتی ۔اس موقع پر غلام نبی آزاد کو راجیوگاندھی سدبھاونا ایوارڈ بھی پیش کیا گیا ۔

      First published: