ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

مرکزی حکومت ناکامیوں کو چھپانے کے لئے یکساں سیول کوڈ اور طلاق کا مسئلہ اٹھا رہی ہے: دگ وجئے

کانگریس لیڈر دگ وجئے سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی حکومت اپنی تمام ناکامیوں کو چھپانے کے لیے یکساں سیول کوڈ اور طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کو اٹھارہی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 01, 2016 11:47 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مرکزی حکومت ناکامیوں کو چھپانے کے لئے یکساں سیول کوڈ اور طلاق کا مسئلہ اٹھا رہی ہے: دگ وجئے
فائل فوٹو

وجئے واڑہ۔ کل ہند کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری و آندھراپردیش میں کانگریس امور کے انچارج دگ وجئے سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی حکومت اپنی تمام ناکامیوں کو چھپانے کے لیے یکساں سیول کوڈ اور طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کو اٹھارہی ہے۔ انہوں نے آندھراپردیش کے وجئے واڑہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ان کی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ان مسائل کو اٹھایاجارہا ہے۔انہوں نے الزام لگا یا کہ نریندر مودی آ رایس ایس کے پہلے سخت گیر پرچارک ہیں جووزیراعظم بنے ۔ مسٹر واجپئی کا تعلق بھی آ رایس ایس اور جن سنگھ سے تھا تاہم وہ آر ایس ایس کے پرچارک نہیں تھے اور وہ آزادانہ سوچ رکھتے تھے۔ان کے مشہور الفاظ اس وقت کے گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی سے متعلق تھے کہ مودی اپناراج دھرم نبھائیں۔ وہ سماجی انصاف میں یقین رکھتے تھے۔ مسٹرسنگھ نے واضح کیا کہ آ رایس ایس ہمیشہ سے ہی گاندھی جی اور پنڈت نہرو کے خلاف رہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے بالکل سچ کہا ہے کہ ناتھورام گوڈ سے جس نے گاندھی جی کا قتل کیا وہ آ رایس ایس کا کارکن تھا۔آرایس ایس اس سے انکار کر سکتی ہے تاہم اس کے سگے بھائی گوپال گوڈسے نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ آ رایس ایس کا کارکن تھا اور ان کا پورا خاندان آرایس ایس کے نظریات کا حامل رہا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کانگریس نفرت اور تشدد کے نظریہ کی ہمیشہ سے مخالف رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی گاندھیائی فلسفہ پر عمل کرنے کا ڈرامہ کر رہی ہے جو گمراہ کن ہے۔آرایس ایس نے کبھی بھی امبیڈکر کی جانب سے بنائے گئے ہندوستانی دستور کو قبول نہیں کیا ۔بی جے پی اس طرح اداکاری کر رہی ہے جیسے کہ سردار پٹیل ان کے لیڈر تھے لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سردار پٹیل نے ہی گاندھی جی کے قتل کے بعد آ رایس ایس پر پابندی لگائی تھی۔


انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی سیاست کو تقسیم کرنے کے لیے مرکزی حکومت مختلف مسائل اٹھارہی ہے۔ اس کامقصد مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنا ہے ۔بیرونی ممالک سے 40لاکھ کروڑ روپئے کے کالے دھن کو واپس لانے کا وعدہ کیا گیا تھا جو پورا نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے کہا کہ اندرا گاندھی کی جانب سے ملک میں عوام کی بہبود کے لیے کئی اسکیمات کی شروعات کی گئی تھی۔اندراگاندھی کی صد سالہ تقاریب کانگریس کی جانب سے منائی جائے گی جس کی پہلی تقریب آندھراپردیش کے کرنول میں 19نومبر کو ہوگی ۔

First published: Nov 01, 2016 11:47 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading