உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وقف میں بدعنوانیوں کےمعاملے میں کسی کوبچانے کی کوشش نہیں کی: سدرامیا

    بنگلورو۔ کرناٹک کےوزیراعلی سدرامیا نے اسمبلی میں واضح کیا ہےکہ حکومت نے انورمانپاڈی کی رپورٹ کومسترد کردیا ہے۔ لہذا اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    بنگلورو۔ کرناٹک کےوزیراعلی سدرامیا نے اسمبلی میں واضح کیا ہےکہ حکومت نے انورمانپاڈی کی رپورٹ کومسترد کردیا ہے۔ لہذا اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      بنگلورو۔ کرناٹک کےوزیراعلی سدرامیا نے اسمبلی میں واضح کیا ہےکہ حکومت نے انورمانپاڈی کی رپورٹ کومسترد کردیا ہے۔ لہذا اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری جانب بی جے پی نے اس معاملے میں ایک بارپھر گورنر سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انورمانپاڈی کی رپورٹ کرناٹک میں پیش آئےمبینہ وقف گھوٹالوں پرمشتمل ہے۔ بی جے پی حکومت میں اقلیتی کمیشن کےسابق  چیرمین انور مانپاڈی نے مبینہ وقف گھوٹالوں کی رپورٹ میں کانگریس کے اہم لیڈروں کے نام درج کیے ہیں، جبکہ اس رپورٹ میں ایک بھی بی جے پی لیڈر کانام نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ رپورٹ وقفزمینوں پر حکومت کے قبضہ جات پربھی خاموش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم دانشوران وقف معاملے میں بی جے پی کی نیت پرسوالات اُٹھا رہے ہیں۔


      کرناٹک اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہرایک بارپھر وقف بدعنوانیوں کا معاملہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ریاست کی حزب اختلاف بی جے پی شد ومد کے سا تھ کرناٹک اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین انورمانپاڈی کی رپورٹ کو نافذ کرنےکا مطالبہ کررہی ہے۔ بی جے پی اقلیتی مورچہ نےاس معاملے میں اسی ہفتے ٹاؤن ہال کے سامنے زبردست احتجاج کیا اور وقف بدعنوانیوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔حزب اختلاف کے شورشرابہ کودیکھتے ہوئے وزیراعلی سدرامیا نے قانون سازکونسل میں وضاحت پیش کی۔ وزیراعلی نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی انورمانپاڈی کی رپورٹ کومستردکردیا ہے۔تاہم اس معاملے میں حکومت نہ کسی کادفاع کررہی ہے اور نہ ہی کسی کا بچاو۔


      وزیراعلی سدرامیاکا کہنا ہے کہ یہاں کسی بھی شخص کو بچانے کی نہ کوشش ہوئی ہے اورنہ ہوگی ۔ اسے سیاسی ہتھیار کے طورپراستعمال کیاجارہا ہے۔ حکومت نے پہلے ہی رپورٹ کومستردکردیا ہے۔ وقف املاک کے تحفظ کے تئیں اچانک بی جے پی کی سنجیدگی پرسیاسی تجزیہ نگار بھی سوالات کھڑے کررہے ہیں۔ ۔ سیاسی تجزیہ نگارصدیق آلدوری کا کہنا ہےکہ انور مانپاڈی کی رپورٹ کواُس وقت کی بی جے پی حکومت نے ہی منظوری نہیں دی تھی۔

      First published: