உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طلاق شدہ مسلم خواتین کو بھی نان نفقہ پانے کا حق: الہ آباد High Court

    مطلقہ مسلم خواتین کے لئے الہ آباد ہائی کورٹ نے سنایا بڑا فیصلہ۔

    مطلقہ مسلم خواتین کے لئے الہ آباد ہائی کورٹ نے سنایا بڑا فیصلہ۔

    بنچ نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو ایک طرف رکھ دیا اور کہا کہ شبانہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک مسلم مطلقہ عورت عدت کے بعد بھی دفعہ 125 کے تحت نان و نفقہ کی تب تک حقدار ہے جب تک وہ دوسری شادی نہ کر لے۔

    • Share this:
      الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے مسلم خواتین کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ طلاق شدہ مسلم خواتین کو بھی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125 کے تحت شوہر سے نان نفقہ حاصل کرنے کا حق ہے اور وہ اسے عدت کے بعد بھی حاصل کرسکتی ہیں۔

      عدالت کے فیصلے کو دیا گیا تھا چیلنج
      عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ طلاق شدہ خواتین کو یہ حق تب تک حاصل ہے جب تک وہ دوبارہ شادی نہیں کرلیتی۔ جسٹس کرونیش سنگھ پوار کی بنچ نے عرضی گزار رضیہ کی فوجداری نظرثانی درخواست پر یہ حکم دیا۔ سال 2008 میں دائر کی گئی اس نظرثانی درخواست میں پرتاپ گڑھ کی ایک سیشن عدالت کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Climate Change سے متعلق اہداف کے حصول میں مدد کرسکتا ہے ہندوستان: اقوام متحدہ نمائندہ

      سیشن کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین (طلاق پر حقوق کے تحفظ) ایکٹ کے متعارف ہونے کے بعد درخواست گزار اور اس کے شوہر کا معاملہ اس ایکٹ کے تحت چلے گا۔ سیشن کورٹ نے کہا کہ مذکورہ ایکٹ کی دفعہ 3 اور 4 کے تحت ہی مسلم طلاق یافتہ بیوی کو نفقہ کا حق حاصل ہے۔ سی آر پی سی کی دفعہ 125 ایسے معاملات میں لاگو نہیں ہوتی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      برطانوی وزیراعظم Boris Johnson کے دلی دورے سے پہلے فسادات نے بڑھائی حکومت کی تشویش

      دوسری شادی تک نان و نفقہ
      بنچ نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو ایک طرف رکھ دیا اور کہا کہ شبانہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک مسلم مطلقہ عورت عدت کے بعد بھی دفعہ 125 کے تحت نان و نفقہ کی تب تک حقدار ہے جب تک وہ دوسری شادی نہ کر لے۔ 'عدت' کا مطلب ہے کہ عورت کے شوہر کی موت یا طلاق کے بعد ایک خاص مدت تک قریبی رشتہ دار (جن سے شادی ہونے کا امکان ہو) اس سے دور رہنے سے ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: