உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Row: دہلی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن کااحتجاج، کرناٹک طالبات کےحق میں نعرے بازی

    تصویر ٹوئٹر: @AmarjeetKSingh_

    تصویر ٹوئٹر: @AmarjeetKSingh_

    ان احتجاجیوں نے جنوبی ریاست کرناٹک میں پیش آئے واقعہ کے ضمن میں اپنی آواز بلند کی۔ منگل کو اڈوپی، شیوموگا، باگل کوٹ اور ریاست کے دیگر حصوں میں کچھ تعلیمی اداروں میں کشیدگی پھیل گئی تھی کیونکہ وہ منگل کے روز حجاب کے حق میں اور اس کے خلاف مظاہروں سے لرز اٹھے تھے۔

    • Share this:
      دہلی یونیورسٹی (Delhi University) میں طلبا کی ایک تنظیم نے منگل کو کرناٹک کے اڈوپی میں ایک سرکاری پری یونیورسٹی کالج (government pre-university college in Udupi) میں حجاب سے متعلق پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (Muslim Students’ Federation) نے ڈی یو نارتھ کیمپس میں آرٹس فیکلٹی کے باہر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں خواتین سمیت 50 طالبات شامل تھیں جنہوں نے حجاب پہن رکھا تھا۔

      اس احتجاج میں جو بیانرس نظر آئیں ان میں یہ جملہ نظر آئے:

      ‘We, the people of Muhammad’

      ‘will fight hate’

      ‘In solidarity with the students of Karnataka’

      ان احتجاجیوں نے جنوبی ریاست کرناٹک میں پیش آئے واقعہ کے ضمن میں اپنی آواز بلند کی۔ منگل کو اڈوپی، شیوموگا، باگل کوٹ اور ریاست کے دیگر حصوں میں کچھ تعلیمی اداروں میں کشیدگی پھیل گئی تھی کیونکہ وہ منگل کے روز حجاب کے حق میں اور اس کے خلاف مظاہروں سے لرز اٹھے تھے، جس سے پولیس اور انتظامیہ کو مداخلت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

      کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو اڈوپی کے ایک گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج میں زیر تعلیم پانچ لڑکیوں کی طرف سے دائر درخواستوں کی سماعت کی، جس میں کالج میں حجاب کی پابندی پر سوال اٹھایا گیا اور معاملہ بدھ کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ ڈریس کوڈ پر احتجاج ایک اسکول سے شروع ہوا اور دوسرے اضلاع تک پھیل گیا۔

      واضح رہے کہ منگل کو حجاب معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ چونکہ حکومت عرضی گزار کے اس اپیل پر راضی نہیں ہے کہ دو ماہ کے لئے طالبات کو حجاب پہننے دیا جائے، اس لئے ہم اس معاملے کو میرٹ کی بنیاد پر لیں گے۔ اس معاملے میں احتجاج ہو رہے ہیں اور طلبا سڑک پر ہیں، اس سبھی موضوع کو ہم نوٹس میں لے کر ہی کچھ کریں گے۔ ہائی کورٹ کی بینچ نے کہا تھا کہ حکومت قرآن کے خلاف حکم نہیں دے سکتی۔

      کپڑے پہننے کا متبادل بنیادی حق ہے۔ حجاب پہننا بھی بنیادی حق ہے۔ حالانکہ حکومت بنیادی حقوق کو محدود کرسکتی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: